امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے کی گئی آبنائے ہرمز سکیورٹی اتحاد کی درخواست پر اہم اتحادی ممالک نے محتاط ردعمل دیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ فی الحال مشرق وسطیٰ میں جنگی جہاز بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Iran اور Israel کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے خطے کو متاثر کر رکھا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستے Strait of Hormuz کی سلامتی پر بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
دنیا کی تقریباً بیس فیصد توانائی اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز سکیورٹی اتحاد کی درخواست کا مقصد تیل بردار جہازوں اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ممالک جو خلیجی تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں انہیں اس راستے کی حفاظت میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی راستہ ہے جہاں سے ان ممالک کو توانائی حاصل ہوتی ہے۔
جاپان کی وزیر اعظم Sanae Takaichi نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ جاپان نے مشرق وسطیٰ میں بحری جہاز بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق حکومت قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب آسٹریلیا نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں بحری جہاز بھیجنے کا منصوبہ نہیں بنا رہا۔ آسٹریلوی کابینہ کی رکن Catherine King نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس حوالے سے کوئی عملی فیصلہ نہیں ہوا۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادھر European Union کے وزرائے خارجہ بھی مشرق وسطیٰ میں اپنی محدود بحری کارروائی کو مضبوط بنانے پر غور کر رہے ہیں، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق فی الحال آبنائے ہرمز میں اس مشن کو بڑھانے کا امکان کم ہے۔
دریں اثنا خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی فضائی سفر بھی متاثر ہوا ہے۔ Dubai، Doha اور Abu Dhabi جیسے بڑے فضائی مراکز پر پروازوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
اگرچہ چند جہاز اب بھی اس راستے سے گزر رہے ہیں، تاہم حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت محدود ہو گئی ہے۔


