ایران میں امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا جس کے بعد امریکا کی فضائی برتری کے دعوؤں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یہ واقعہ حالیہ دنوں میں پیش آیا، تاہم اس کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے میں سوار ایک اہلکار کو بچا لیا گیا ہے اور اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔ جبکہ دوسرے اہلکار کی حالت کے بارے میں اب تک کوئی واضح معلومات نہیں مل سکیں۔ اسی دوران ایک اور امریکی جنگی طیارے کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کا پائلٹ طیارہ ایرانی حدود سے باہر نکالنے میں کامیاب رہا۔
یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب امریکی حکام مسلسل ایران کی فضاؤں پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جوابی کارروائی کی صلاحیت نہیں ہے، مگر حالیہ پیش رفت نے ان دعوؤں کو کمزور کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کے باوجود امریکا کو مجموعی طور پر فوجی برتری حاصل ہے۔ تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد کم ہے اور گزشتہ ہفتوں میں کسی امریکی ہلاکت کی تصدیق بھی نہیں ہوئی۔
تاہم یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگ میں مکمل کنٹرول حاصل کرنا آسان نہیں۔ کمزور فریق بھی مخصوص حالات میں نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ادھر امریکی عوام میں بھی اس جنگ کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ مہنگائی، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عوامی بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کی موجودہ صورتحال پہلے بتائی گئی تصویر سے زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے، جو مستقبل میں پالیسی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔


