ترکی روس مشرق وسطیٰ صورتحال اس وقت نمایاں ہوئی جب رجب طیب اردوان اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اقدامات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کی۔
کریملن کے مطابق دونوں صدور نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور اس کے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں ممکنہ تصادم اور اس کے پھیلاؤ کے خطرات پر بھی غور کیا گیا۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق صدر اردوان نے واضح کیا کہ ترکی ایران کے خلاف حملوں کو قبول نہیں کرتا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکی خطے کے دیگر ممالک کے خلاف ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی حمایت نہیں کرتا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکی تمام فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اس کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنا ہے۔
ترکی نے خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔


