حزب اللہ کروز میزائل حملہ کا دعویٰ سامنے آیا ہے جس میں تنظیم نے کہا ہے کہ اس نے ایک اسرائیلی جنگی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فروری میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی شروع ہوئی۔
حزب اللہ کے مطابق حملہ کروز میزائل کے ذریعے کیا گیا اور ہدف اسرائیلی بحری جہاز تھا۔ رواں برس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا دعویٰ ہے۔
تنظیم کی جانب سے اس حملے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے سے اس کی تصدیق ہو سکی ہے۔ اسرائیلی حکام نے بھی اس دعوے کی تاحال تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں نے پہلے ہی حالات کو سنگین بنا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوا تو تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور بحری سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
فی الحال صورتحال غیر واضح ہے اور مزید معلومات کے لیے انتظار کیا جا رہا ہے۔


