اسرائیلی وزیر اعظم کے چیف آف اسٹاف کو نسل پرستانہ بیانات پر شدید تنقید کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس واقعے نے اسرائیلی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
چیف آف اسٹاف زیو اگمون اپنے متنازع بیانات کے باعث حکومت اور اپوزیشن دونوں کی تنقید کی زد میں آ گئے تھے۔ ان کے الفاظ کو نہایت توہین آمیز اور نامناسب قرار دیا گیا۔
انہوں نے رکن پارلیمنٹ نسیم وتوری کو ببون کہا جبکہ ایلی ریوِیوو کو ذہنی معذور مراکشی قرار دیا۔ ان بیانات پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
زیو اگمون نے یہ بھی کہا کہ ایسے افراد پارلیمنٹ تک کیسے پہنچ جاتے ہیں، جس پر مزید تنقید کی گئی۔
شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد وزیر اعظم نے انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ اس اقدام کو حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ سیاست میں زبان کے استعمال پر حساسیت بڑھ رہی ہے اور عوامی دباؤ فوری فیصلوں کا باعث بن سکتا ہے۔


