Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

بوشہر جوہری پلانٹ پر حملے کا خطرہ خلیج میں بڑی تباہی کا خدشہ بڑھ رہا ہے

بوشہر جوہری پلانٹ پر حملے کا خطرہ

بوشہر جوہری پلانٹ پر حملے کا خطرہ اس وقت تشویش کا باعث بن گیا ہے جب حالیہ حملوں میں ایران کے واحد فعال جوہری بجلی گھر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے خلیجی خطے میں بڑے حادثے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس تنصیب کو کئی بار نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس سے علاقائی سلامتی اور ماحولیات پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بوشہر جوہری پلانٹ کیا ہے؟

بوشہر جوہری پلانٹ مشرق وسطیٰ کا پہلا جوہری بجلی گھر ہے۔ اس پر کام 1975 میں شروع ہوا اور 2011 میں مکمل ہوا۔

یہ پلانٹ تقریباً ایک ہزار میگاواٹ بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتا ہے جبکہ مزید دو ری ایکٹرز 2029 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔

ممکنہ خطرات کیا ہیں؟

ماہرین کے مطابق اگر ری ایکٹر یا استعمال شدہ ایندھن کو نقصان پہنچا تو خطرناک تابکار مادہ فضا میں خارج ہو سکتا ہے۔

یہ مادہ ہوا اور پانی کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پھیل سکتا ہے، جس سے زمین، خوراک اور پانی آلودہ ہو سکتے ہیں جبکہ کینسر سمیت دیگر بیماریاں بڑھ سکتی ہیں۔

عالمی ادارے کی وارننگ

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے خبردار کیا ہے کہ براہ راست حملہ علاقائی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔

اگر بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تو کولنگ سسٹم بند ہو سکتا ہے، جس سے ری ایکٹر پگھلنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

خلیجی ممالک کو پانی کا خطرہ

خلیجی ممالک پینے کے پانی کے لیے سمندری پانی صاف کرتے ہیں۔ اگر سمندر آلودہ ہوا تو یہ نظام متاثر ہو جائے گا۔

کم گہرائی کی وجہ سے آلودگی زیادہ دیر تک برقرار رہ سکتی ہے، جس سے سمندری حیات اور خوراک کا نظام متاثر ہوگا۔

قطر کے حکام کے مطابق شدید صورتحال میں تین دن کے اندر پانی کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

کیا یہ حملہ قانونی ہے؟

بین الاقوامی قوانین کے تحت جوہری تنصیبات پر حملہ ممنوع ہے کیونکہ اس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے۔

ایسے حملے جنگی جرم تصور کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں