پاکستان جنگ بندی فریم ورک امریکا اور ایران کے ساتھ شیئر کر دیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ اقدام خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس فریم ورک کے دو اہم مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی شامل ہے تاکہ حالات کو کنٹرول کیا جا سکے۔
دوسرے مرحلے میں ایک جامع معاہدہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ طویل مدتی امن ممکن ہو سکے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران دونوں کو یہ تجویز موصول ہو چکی ہے۔ اس میں جارحیت کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کے اقدامات شامل ہیں۔
ابتدائی اتفاق رائے کو مفاہمتی یادداشت کی شکل دی جا سکتی ہے۔ اسلام آباد میں معاہدے پر پیش رفت کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رات بھر اہم عالمی شخصیات سے رابطہ رکھا۔ ان میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان، چین اور امریکا کی جانب سے دی گئی جنگ بندی تجاویز پر ایران کا جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔
ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہیں پاکستان کی تجویز موصول ہو چکی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا ڈیڈ لائن کو قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں 24 گھنٹے کی توسیع کر دی ہے۔
ایران نے امریکی الٹی میٹم مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا اثر پورے خطے میں محسوس ہوگا۔


