آبنائے ہرمز بحران مزید سنگین ہو گیا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل منگل کو ایک اہم قرارداد پر ووٹنگ کرنے جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ وہ اس اہم بحری راستے کو کھولے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
تاہم مستقل اراکین کے اعتراضات کے باعث قرارداد کو نرم کر دیا گیا ہے۔ نئی مسودہ قرارداد میں طاقت کے استعمال کی اجازت شامل نہیں ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی ہے۔ انہوں نے ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ اگر راستہ نہ کھولا گیا تو اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
پیر کو میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے ایک فوجی ریسکیو آپریشن کو کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے دشمن کے علاقے سے ایک اہلکار کو بحفاظت نکالا۔
صدر نے اس موقع کو اپنی پالیسی کے دفاع کے لیے بھی استعمال کیا۔ تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ آیا جنگ میں مزید شدت آئے گی یا نہیں۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی بڑھنے سے سعودی عرب اور بحرین کو ملانے والا اہم پل عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے تہران میں ایک مذہبی مقام پر حملے کی بھی اطلاع دی، تاہم جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایران نے امریکی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل حل کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے پابندیوں کے خاتمے، محفوظ بحری راستے اور تعمیر نو جیسے نکات پیش کیے ہیں۔
صورتحال تاحال غیر یقینی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی ووٹنگ اور سفارتی کوششیں آئندہ حالات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔


