عباس عراقچی کے جنگ بندی بیان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے جہاں ایران نے جنگ کے خاتمے سے متعلق اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ اس انداز میں ختم ہونی چاہیے کہ مستقبل میں ایران پر کوئی حملہ نہ ہو سکے۔
انہوں نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ اگر ایران کہتا ہے کہ وہ جنگ بندی نہیں چاہتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔ بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا مضبوط اور مستقل حل حاصل کرنا ہے جو دیرپا امن کی ضمانت دے۔
عباس عراقچی کے مطابق جنگ کا خاتمہ اس طرح ہونا چاہیے کہ دشمن دوبارہ ایران کو نشانہ نہ بنا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عارضی یا کمزور جنگ بندی ایران کے مفاد میں نہیں ہوگی۔
دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا اور جنگ بندی نہ کرنے کا کہا۔
عہدیدار کے مطابق نیتن یاہو نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی اسی صورت میں ممکن ہے جب ایران امریکی شرائط تسلیم کرے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران افزودہ یورینیم حوالے کرے اور آئندہ اس کی افزودگی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے۔


