Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

آبنائے ہرمز قرارداد: چین اور روس نے سلامتی کونسل میں اقدام مسترد کر دیا

آبنائے ہرمز قرارداد

آبنائے ہرمز قرارداد منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ناکام ہو گئی جب چین اور روس نے ویٹو کا استعمال کیا۔ یہ قرارداد بحرین کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کا مقصد اہم آبی گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔

سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 11 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ دو نے مخالفت کی اور دو نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ مستقل ارکان کے ویٹو کے باعث قرارداد منظور نہ ہو سکی۔

بحرین کے وزیر خارجہ عبد اللطیف بن راشد الزیانی نے بتایا کہ قرارداد مستقل رکن کے منفی ووٹ کی وجہ سے مسترد ہوئی۔ اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ووٹنگ سے قبل قرارداد میں تبدیلی کی گئی تھی اور اس میں طاقت کے استعمال کی اجازت ختم کر دی گئی تھی، حتیٰ کہ دفاعی استعمال بھی شامل نہیں تھا۔

یہ ووٹنگ ایک اہم وقت پر ہوئی، جب امریکہ کی جانب سے ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے مقررہ وقت ختم ہونے کے قریب تھا۔ اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کے راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے کی بندش کے بعد عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

بحرین نے امریکہ اور دیگر خلیجی ممالک کی حمایت سے اس قرارداد پر دو ہفتوں تک کام کیا تھا۔ تاہم چین اور روس سمیت دیگر ممالک کے اعتراضات کے باعث اس میں کئی بار تبدیلیاں کی گئیں۔

اس سے قبل مارچ میں سلامتی کونسل ایران کے اقدام کی مذمت کر چکی ہے، مگر بڑے ممالک کے اختلافات اب بھی کسی مضبوط اقدام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں