Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

امریکا ایران جنگ بندی کا عالمی خیرمقدم، رہنماؤں کا پائیدار امن پر زور

US Iran ceasefire

امریکا ایران جنگ بندی کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے اور عالمی رہنماؤں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین پر عمل کریں اور خطے میں دیرپا امن قائم کریں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن نے ثالثی میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقل حل کے لیے مذاکرات کا جاری رہنا بے حد ضروری ہے۔

ترکیہ نے بھی فریقین سے جنگ بندی معاہدے کے احترام کا مطالبہ کیا جبکہ ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے خطے میں پائیدار امن پر زور دیا۔

انہوں نے ایران کی دس نکاتی تجویز کو ایک جامع امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی تجویز دی جس سے عراق، لبنان اور یمن میں بھی استحکام آسکتا ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ یہ جنگ بندی خطے اور دنیا کے لیے سکون کا باعث بنے گی۔ برطانوی حکومت کے مطابق وہ جلد مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے۔

فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے جنگ بندی کو مثبت قرار دیا لیکن مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ دنیا کو پہلے بحران پیدا کرنے اور پھر حل کرنے والوں کو سراہنا نہیں چاہیے۔

جرمنی نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور اسے امن کی جانب پہلا اہم قدم قرار دیا۔ جرمن حکومت نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔

عمان، انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک نے بھی اس پیش رفت کی حمایت کی۔ انڈونیشیا نے خودمختاری اور سفارت کاری کے احترام پر زور دیا۔

روسی عہدیدار دمتری میدویدیف نے کہا کہ یہ فیصلہ دانشمندی پر مبنی ہے تاہم تیل کی قیمتوں میں کمی کی امید کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں