Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

امریکا ایران کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی: جے ڈی وینس پسِ پردہ مذاکرات میں کیوں شامل ہوئے

امریکا ایران کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی

امریکا ایران کشیدگی میں پاکستان کی ثالثی اہم حیثیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں رابطوں میں مرکزی کردار ادا کیا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی پسِ پردہ مذاکرات میں شامل ہوئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور جے ڈی وینس ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں براہِ راست شریک ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مارچ کے آخر سے پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کی قیادت کر رہا ہے۔ آرمی چیف عاصم منیر نے جے ڈی وینس، امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کیے۔ ان کا مقصد جنگ روکنے کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ تیار کرنا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد دو مرتبہ اسلام آباد آنے کے قریب تھا لیکن ایران نے اندرونی مشاورت کے لیے مزید وقت مانگتے ہوئے ملاقات مؤخر کر دی۔

ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کا کہا اور توانائی تنصیبات پر حملے کی دھمکی دی۔ اس کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے سخت ردعمل دیا اور مزید حملوں کی صورت میں بڑے اقدامات کا عندیہ دیا۔

حالیہ جھڑپوں میں ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر حملے کی اطلاعات آئیں جبکہ سعودی عرب کی پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔

ماہرین کے مطابق ایران جے ڈی وینس کو دیگر امریکی شخصیات کے مقابلے میں زیادہ قابلِ قبول سمجھتا ہے۔ اس کی وجہ ان کی ماضی میں جنگ کی مخالفت اور متنازع مذاکرات کا حصہ نہ ہونا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے اندرونی سیاسی حالات اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے متعلق پیش رفت نے بھی مذاکرات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں