قومی بیانیہ یا پاکستان کی گمشدہ دستاویز؟
پریس کانفرنسوں میں وزراء اور بعض سرکاری علماء قومی بیانیے کا کافی ذکرِ خیر کرنے
پریس کانفرنسوں میں وزراء اور بعض سرکاری علماء قومی بیانیے کا کافی ذکرِ خیر کرنے
سوشل میڈیا اب اظہار کا پلیٹ فارم نہیں رہا، یہ ایک میدانِ جنگ بن چکا
(گزشتہ سے پیوستہ) انہوں نے پائیدارامن کیلئے’’منصفانہ اور متوازن رویے‘‘کوعلاجِ درد بتایا۔یہ الفاظ اپنی جگہ
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی زیرِ قیادت پاکستان کی مسلح افواج کا دور
ملتان کی سیاست کو اگر کسی ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ لفظ
حکمران طبقہ اگر آئی ایم ایف ، ایف اے ٹی ایف کی ذہنی غلامی اور
سرد موسم میں جتنی شدت پیدا ہو رہی ہے۔ سیاسی موسم میں اتنی ہی حدت
تاریخ کی دبیزچیرہ دستیوں نے جب برِصغیرکی پیشانی پرتقسیم کی لکیرکھینچی تھی،تواس کے ساتھ ہی
سیاسی تقسیم، نظریاتی اختلاف اور سوشل میڈیا کے بے محابا استعمال نے انسانی قربت اور
اسلامی تاریخ اگر ایمان کی روشنی میں دیکھی جائے تو یہ محض حکومتوں کے عروج