ملتان کی سیاست کو اگر کسی ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ لفظ امید ہے۔ یہ وہ امید ہے جو بار بار جاگی، بار بار آزمائی گئی، اور اکثر بار ادھوری رہ گئی۔ پیپلز پارٹی کے حاکمیتی ادوار میں یہ امید نسبتاً زیادہ شدت سے ابھری، کیونکہ یہ جماعت خود کو محروم طبقات، وفاقی توازن اور صوبائی حقوق کی علمبردار گردانتی رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس بیانیے نے ملتان جیسے تاریخی مگر محروم شہر کو عملًا کیا دیا؟
پیپلز پارٹی کا جنوبی پنجاب، خصوصاً ملتان، کے ساتھ رشتہ محض سیاسی نہیں بلکہ جذباتی بھی رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملتان کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ اقتدار کی زبان میں اس خطے کا ذکر بھی ہو سکتا ہے۔ زرعی اصلاحات، عوامی شعور، اور سیاسی شمولیت نے اس شہر کے نچلے طبقے کو آواز دی۔ مگر یہ آواز زیادہ تر سیاسی اجتماع تک محدود رہی، ادارہ جاتی شکل اختیار نہ کر سکی۔
بھٹو دور میں ملتان کو جو سب سے بڑا سیاسی فائدہ ملا وہ شمولیت کا احساس تھا۔ کسان، مزدور اور طلبہ سیاست میں متحرک ہوئے۔ مگر ترقیاتی ڈھانچے، صنعتی پھیلا اور شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے وہ ٹھوس اقدامات نہ ہو سکے جو اس خطے کو پائیدار بنیادیں فراہم کرتے۔ سیاسی شعور بیدار ہوا، مگر معاشی ڈھانچہ کمزور ہی رہا۔ضیا الحق کے طویل دورِ آمریت کے بعد جب پیپلز پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی تو ملتان ایک بار پھر امید و بیم کی نگاہ سے پی پی پی طرف دیکھ رہا تھا۔ ملتان جو جنوبی پنجاب کا لاڑکانہ کہلانے پر فخر کرتا تھا۔ بے نظیر بھٹو کے ادوار میں اس زرخیز و شاداب خطے کو علامتی اہمیت تو ملی، مگر عملی ترجیحات پھر مرکز اور شہری سندھ کے گرد گھومتی رہیں۔ ملتان کو ترقیاتی پیکجز ملے، مگر وہ زیادہ تر جزوی اور وقتی ثابت ہوئے۔ کوئی بڑا صنعتی یا تعلیمی انقلاب برپا نہ ہو سکا۔
پیپلز پارٹی کے سیاسی ڈھانچے کی ایک بڑی کمزوری یہ رہی کہ اس نے جنوبی پنجاب میں مقامی قیادت کی مضبوطی کے بجائے جاگیردارانہ اور انتخابی اثر و رسوخ پر انحصار کیا۔ ملتان میں عوامی سطح پر مقبول بیانیہ تو موجود تھا، مگر اس بیانیے کو پالیسی میں ڈھالنے والی قیادت کمزور رہی۔ نتیجتاً شہر کے بنیادی مسائل پینے کا صاف پانی، صحت، تعلیم، روزگار ہمیشہ ترجیحی فہرست میں شامل نہ کئے گئے۔
2008 ء سے 2013 ء کے پیپلز پارٹی کے دور کو اگر خاص طور پر دیکھا جائے تو ملتان کے مقدمے میں ایک نیا پہلو سامنے آتا ہے وفاقیت بمقابلہ انتظامی کمزوری۔ اس دور میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری بڑھی، جو نظریاتی طور پر جنوبی پنجاب کے حق میں دکھائی دیتی تھی۔ مگر عملی سطح پر اس خودمختاری کو استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا نہ کی جا سکی۔ ملتان کو اختیار ملا، مگر وسائل اور منصوبہ بندی نہ مل سکی۔نشتر ہسپتال، جو جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا طبی ادارہ ہے اور جس کا پھیلائو بلوچستان تک تصور کیا جاتا ہے پیپلز پارٹی کے ہر دور میں وفاق اور صوبے کے درمیان فائلوں میں گھومتا رہا۔ اپ گریڈیشن کے وعدے ہوئے، مگر عملدرآمد سست رہا۔ اسی طرح اعلیٰ تعلیمی اداروں کی توسیع، تحقیقاتی مراکز، اور ٹیکنیکل ایجوکیشن وہ شعبے ہیں جن میں ملتان کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔
سماجی سطح پر پیپلز پارٹی نے ملتان میں نسبتاً سیاسی آزادی فراہم کی۔ یہاں اظہار کی گنجائش مسلم لیگ(ن) کے سخت انتظامی ماڈل کے مقابلے میں کچھ زیادہ رہی۔ مگر یہ آزادی اکثر ریاستی کمزوری اور گورننس کے خلا میں بدل گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جرائم، غیر رسمی معیشت، اور شہری بدنظمی میں اضافہ ہوا اور اس کا خمیازہ عام شہری نے بھگتا۔
پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا دعوی ہمیشہ جنوبی پنجاب صوبے کا قیام رہا، مگر یہ دعوی بھی عملی سطح پر ایک واضح روڈمیپ میں تبدیل نہ ہو سکا۔ اور فقط ایک جذباتی نعرے تک محدود رہا۔ملتان کو مجوزہ صوبے کا دارالحکومت بنانے کی باتیں ہوئیں، کمیٹیاں بنیں، قراردادیں منظور ہوئیں، مگر فیصلہ کن قدم کبھی نہ اٹھایا گیا۔ اس تاخیر نے اس تاثر کو مضبوط کیا کہ جنوبی پنجاب کا مقدمہ بھی ایک سیاسی جھانسہ ہے، مستقل پالیسی نہیں۔اس سب کے باوجود یہ کہنا درست ہوگا کہ پیپلز پارٹی نے ملتان کو مکمل طور پر فراموش بھی نہیں کیا۔ کم از کم اس نے اس خطے کو سیاسی مکالمے میں زندہ رکھا۔ مگر مکالمہ جب عمل میں نہ بدلے تو وہ آخرکار مایوسی میں ڈھل جاتا ہے۔ ملتان کے ووٹر نے یہی مایوسی محسوس کی، جس کا اظہار وقتاً فوقتاً سیاسی بیوفائی کی صورت میں سامنے آتا رہا۔ملتان کا سیاسی و سماجی مقدمہ پیپلز پارٹی کے ادوار میں امید اور ناکامی کے درمیان معلق رہا۔ نہ مکمل نظرانداز، نہ مکمل انصاف۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جسے بار بار سنا گیا، مگر کبھی فیصلہ نہ سنایا گیا۔آج بھی ملتان سراپا سوال ہے۔ کہ کیا مساوات صرف نعروں کے لیے ہوتی ہے؟ یا کبھی پالیسی کا حصہ بھی بنتی ہے؟جب تک اس سوال کا جواب واضح نہیں ہوتا، ملتان کا مقدمہ کھلا رہے گا اور تاریخ گواہ ہے کہ کھلے مقدمے بالآخر عوامی فیصلوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ملتان کی نفسیات کی ایک ایک اینٹ مرکز سے محروم رہی ہے ۔یہ شہر خود کو ہمیشہ اقتدار کے حاشیے پر محسوس کرتا رہا ہے ۔مگر لاہور ، کراچی اور اسلام آباد جیسے مراکز کی طاقت کو نہیں چھو سکا۔حالانکہ یہ شہر خود کو سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونا والا تصور کرتا رہا ہے مگر اس کے اعتماد کو کبھی سہارا نہیں دیا بلکہ کندھا دے کر محرومی کے کنارے جا کھڑا کیا۔