اسلامی تاریخ اگر ایمان کی روشنی میں دیکھی جائے تو یہ محض حکومتوں کے عروج و زوال کی داستان نہیں بلکہ کردار، وفاداری، اطاعتِ رسول ﷺ اور دین کے لیے قربانیوں کا روشن مرقع ہے۔ اس تاریخ کے اصل معمار وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہیں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہا جاتا ہے۔ انہی جلیل القدر نفوس میں ایک عظیم، باوقار اور تاریخ ساز نام امیرالمؤمنین، کاتبِ وحی اور صحابیِ رسول ﷺ سیدنا امیر معاویہ بن ابی سفیانؓ کا ہے، جن کا یومِ وفات 22 رجب المرجب 60 ہجری کو آتا ہے۔
سیدنا امیر معاویہؓ کا سب سے بڑا اور ناقابلِ انکار تعارف یہی ہے کہ وہ صحابیِ رسول ﷺ تھے۔ صحابیت کوئی معمولی نسبت نہیں، بلکہ وہ عظیم شرف ہے جس کے بعد کسی اضافی سند یا ثبوت کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ صحابی وہ ہوتا ہے جس نے حالتِ ایمان میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کی ہو اور اسی ایمان پر خاتمہ ہوا ہو۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرامؓ کی جماعت کو اپنی رضا کا مستحق قرار دیا، اور نبی کریم ﷺ نے ان کے مقام و مرتبے کو امت کے لیے معیارِ ہدایت بنا دیا۔ ایسے میں کسی صحابیؓ کے بارے میں زبان درازی دراصل اس پورے دینی نظام پر حملہ ہے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے رکھی۔
سیدنا امیر معاویہؓ کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ آپؓ ان منتخب صحابہؓ میں شامل تھے جنہیں نبی کریم ﷺ نے وحیِ الٰہی لکھنے کی ذمہ داری عطا فرمائی۔ وحی کی کتابت کوئی عام منصب نہیں تھا۔ یہ کام نہ صرف غیر معمولی امانت و دیانت کا تقاضا کرتا تھا بلکہ فہمِ دین، ضبطِ نفس اور کامل اعتماد کا بھی متقاضی تھا۔ نبی کریم ﷺ کا کسی صحابیؓ کو کاتبِ وحی بنانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک مکمل طور پر قابلِ اعتماد، دیانت دار اور صاحبِ فہم تھا۔
احادیثِ مبارکہ میں سیدنا امیر معاویہؓ کے لیے نبی کریم ﷺ کی دعائیں ان کے بلند مقام پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں ہدایت، علمِ کتاب و حساب اور عذاب سے حفاظت کی دعا فرمائی۔ یہ محض الفاظ نہیں بلکہ نبوی زبان سے نکلے ہوئے وہ کلمات ہیں جو کسی بھی صحابیؓ کے لیے فضیلت کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ جس شخصیت کے لیے رسول اللہ ﷺ دعا فرمائیں، اس کی نیت، کردار اور مقام پر شک کرنا دراصل نبوی فیصلے پر سوال اٹھانے کے مترادف ہے۔حضرت حسن بن علیؓ کا خلافت سے دستبردار ہو کر سیدنا امیر معاویہؓ کے ہاتھ پر امت کو متحد کرنا اسلامی تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے جسے ”عامُ الجماعہ“ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی قیادت کو نہ صرف صحابۂ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت نے قبول کیا بلکہ امت کے بہترین لوگوں نے اسے اتحادِ امت کے لیے ناگزیر سمجھا۔ اگر آپؓ کی ذات یا قیادت میں کوئی بنیادی دینی خرابی ہوتی تو حضرت حسنؓ جیسی عظیم ہستی کبھی امت کو ان کے سپرد نہ کرتی۔
سیدنا امیر معاویہؓ کا مزاج حلم، بردباری اور حکمت سے عبارت تھا۔ وہ جذبات کے بجائے عقل، اور وقتی ردِعمل کے بجائے دور اندیشی پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی سیاست تلوار کے زور پر نہیں بلکہ تدبر، برداشت اور معاملہ فہمی پر قائم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں طویل خانہ جنگیوں کے بعد امت کو امن کا سانس نصیب ہوا، اور ریاست ایک بار پھر استحکام کی طرف لوٹ آئی۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں بعض فتنہ پرور عناصر صحابۂ کرامؓ بالخصوص سیدنا امیر معاویہؓ کو تنقید اور تبرا کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف تاریخی ناانصافی ہے بلکہ صریحاً نبوی تعلیمات کے خلاف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے واضح اور سخت الفاظ میں صحابۂ کرامؓ کو برا کہنے سے منع فرمایا اور ان کی توہین کو ایمان کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہؓ عادل ہیں، ان کے باہمی اختلافات کو اللہ کے سپرد کیا جاتا ہے، اور ان کے احترام میں کمی ایمان کو مجروح کرتی ہے۔
22 رجب المرجب ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا دفاع کسی ایک تاریخی شخصیت کا دفاع نہیں بلکہ صحابۂ کرامؓ کے احترام، نبوی فیصلوں کے اعتماد اور اہلِ سنت کے عقیدے کا دفاع ہے۔ آج امتِ مسلمہ کو اختلافات، فتنوں اور نفرت انگیز بیانیوں سے نکل کر صحابۂ کرامؓ کے اسوۂ وفا، حلم اور اتحاد کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ نجات کا راستہ وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہؓ نے دکھایا۔
مزید برآں یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی شخصیت کو صرف سیاسی تناظر میں دیکھنا ایک محدود زاویۂ نظر ہے۔ آپؓ ایک صاحبِ علم صحابی تھے، جن سے متعدد احادیثِ نبویہ مروی ہیں اور جنہوں نے فقہی و انتظامی امور میں ہمیشہ قرآن و سنت کو بنیاد بنایا۔ آپؓ کا دربار محض اقتدار کا مرکز نہیں بلکہ اہلِ علم، اہلِ مشورہ اور اہلِ تقویٰ کی مجلس ہوا کرتا تھا، جہاں فیصلے ذاتی خواہش کے بجائے امت کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جاتے تھے۔
سیدنا امیر معاویہؓ کی سیرت ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اختلاف کے باوجود ادب اور حدود کو ملحوظ رکھنا ہی اسلامی اخلاق ہے۔ آپؓ نے اپنے شدید ترین مخالفین کے ساتھ بھی ذاتی انتقام کے بجائے درگزر اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا، جو آج کے پُرآشوب ماحول میں ہمارے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ ان کا دور ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ مضبوط ریاست صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ عدل، برداشت اور حسنِ تدبیر سے قائم رہتی ہے۔
آج اگر امتِ مسلمہ تاریخ سے صحیح رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے شخصیات کے بارے میں تعصب یا نفرت کے بجائے اعتدال، انصاف اور ادب کا راستہ اپنانا ہوگا۔ سیدنا امیر معاویہؓ کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ دین اور سیاست اگر اخلاق، حلم اور سنتِ نبوی ﷺ کے تابع ہوں تو امت انتشار نہیں بلکہ اتحاد کی طرف بڑھتی اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرامؓ کی سچی محبت، ان کے ادب اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ہر اس فتنہ سے محفوظ رکھے جو ایمان اور وحدت کو کمزور کرنے کا سبب بنے۔آمین یا رب العالمین۔