لاہور(نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پرواز کارڈ پروگرام کے تحت تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی اور کہا کہ ہنر مند نوجوان نہ صرف اپنے خاندانوں کی بہتر کفالت کر سکتے ہیں بلکہ ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ بھی ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ تربیت مکمل کرنے والے طلبا کو دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، محنت اور والدین کی معاونت کے احساس کو سراہتے ہوئے کہا کہ کم عمری میں گھر اور والدین کی ذمہ داریاں اٹھانا بڑی بات ہے اور بہن بھائیوں سمیت پورے خاندان کی ذمہ داری سنبھالنا آسان کام نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں کو لینے والا نہیں بلکہ دینے والا بنایا ہے، اس لیے وہ اپنی صلاحیتوں اور محنت کے ذریعے معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک روزگار کے مواقع نوجوانوں کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ اس سے بہتر آمدن کے ساتھ ساتھ قیمتی تجربہ اور جدید پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل ہوتی ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک کام کرنے سے نوجوان دنیا کے جدید نظام، کام کے طریقہ کار اور ترقی یافتہ ممالک کے طرزِ عمل سے آگاہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ مختلف ممالک کا مشاہدہ کریں اور قوموں کی ترقی کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افرادی قوت کا بڑا حصہ غیر ہنر مند کارکنوں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے انہیں بہتر تنخواہ اور مقام حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ حکومت پنجاب نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں فنی تربیت فراہم کر رہی ہے اور پانچ لاکھ سے زائد نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کی کوشش جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر نوجوان کے لیے یونیورسٹی ڈگری حاصل کرنا ممکن نہیں، تاہم فنی تعلیم اور اسکل ڈویلپمنٹ کے ذریعے روزگار کے بہتر مواقع حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں اور دلچسپی کے مطابق تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ ملکی اور بین الاقوامی منڈی میں بہتر روزگار حاصل کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسکلڈ ورکرز کو بیرونِ ملک زیادہ عزت اور بہتر معاوضہ ملتا ہے۔ مریم نواز نے منصوبے کی کامیابی کے لیے عدنان چٹھہ اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ نوجوانوں کی فنی تربیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جبکہ ہنر مند افرادی قوت پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی ورکرز میں 50 فیصد سے زائد افراد غیر ہنر مند کیٹیگری میں شامل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں بہتر تنخواہوں، ترقی کے مواقع اور پیشہ ورانہ شناخت کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے جدید مہارتوں کا حصول ناگزیر ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں۔ڈالر، ریال، درہم اور پاؤنڈ سمیت دیگر کرنسی کے نئے ریٹس جاری، مارکیٹ میں بڑی ہلچل


