سرد موسم میں جتنی شدت پیدا ہو رہی ہے۔ سیاسی موسم میں اتنی ہی حدت بڑھ رہی ہے۔ ملکی صورتحال ایسی ’’گنجل‘‘ میں الجھ چکی ہے کہ جس کے سلجھنے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے من پسند تجزئیے اور تبصرے پیش کئے جارہے ہیں جو اکثر من گھڑت ہوتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل ہوئے اڑھائی سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کی رہائی کے امکانات دور دور تک کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے۔ کیونکہ آگ ہے برابر دونوں طرف لگی ہوئی۔ یعنی وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے۔ ہم اپنی وضع نہ بدلیں گے۔ ملکی فضائوں میں افواہوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ سب اپنی اپنی مرضی کا سودا بیچ رہے ہیں۔ ایک طرف کہا جارہا ہے کہ ’’خان آئوے ای آئوے‘‘ دوسری جانب سے جواب آتا ہے کہ دل بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے۔ تحریک تحفظ آئین کے رہنما آٹھ فروری کے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کے لئے ملک کے مختلف شہروں کے طوفانی دورے کر رہے ہیں اس دوران انہیں شدید رکاوٹوں اور مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے لیکن یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کا جوش و جذبہ دیدنی ہے۔ آٹھ فروری کے احتجاج کو کامیاب بنانے کے لئے سارا بوجھ سینئر اور بزرگ سیاسی رہنمائوں محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے کندھوں پر ہے۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے بیشتر قائدین بشمول ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اپنے اپنے محفوظ مقامات سے نظارے کرکے مزے لے رہے ہیں۔ ادھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے لئے مذاکرات ہونا ہی ناممکن ہے اور بالفرض اگر ہو بھی گئے تو وہ ایک دوسرے کے ناقابل عمل نکات کے باعث ان کی حیثیت گفتا شنید برخاستا سے زیادہ نہیں ہوگی۔ پاکستان تحریک انصاف کے وہ رہنما جن سے ان کے چیئرمین عمران خان کو شاہد بہت سی توقعات اور امیدیں وابستہ ہیں وہ بھی ’’دھواںِِ‘‘ مار گئے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں بھی مذاکرات کے حوالے سے ابہام پایا جارہا ہے۔ مذاکرات کے لئے وزیراعظم شہباز شریف کا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو دیا جانے والا گرین سگنل تادم تحریر گرین ہی ہے۔ لیکن غالب امکان یہ بھی ہے کہ ’’گرین سگنل‘‘ کسی وقت بھی ’’ریڈ سگنل‘‘ ہوسکتا ہے۔
پیپلزپارٹی جو حکومت کی صفت اول کی اتحادی سیاسی جماعت ہے اس کی طرف سے حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کے حوالے سے کوئی قابل ذکر ردعمل منظر عام پر نہیں آرہا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا پیپلزپارٹی کو ’’ڈراوا‘‘ اور پاکستان تحریک انصاف کو ’’چھاکا‘‘ دے رہی ہو۔ کیونکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں اتحادی ہونے کے باوجود متعدد امور پر اختلافات پائے جارہے ہیں۔ جن میں صدر مملکت کے دستخطوں کے بغیر آرڈیننس جاری کرنا قابل ذکر ہے جو پیپلزپارٹی کے احتجاج پر واپس لے لیا گیا ہے۔ حکومت سے کوئی پوچھے کہ اگر آرڈیننس واپس ہی لینا تھا تو اسے جاری کرنے کا مشورہ کس حکیم یا بزرگ ہستی نے دیا تھا۔ اپوزیشن بھی شاید حکومت کا مذاکرات کے لئے ’’گرین سگنل‘‘ صرف ’’سگنل‘‘ ہی سمجھ رہی ہے اس لئے اس نے ابھی تک مذاکرات کے لئے حکومت سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا۔ پاکستان تحریک انصاف میں بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کی ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کی جنگ بھی پارٹی کے لئے نقصان دہ اور کارکنوں میں مایوسی پھیلانے کا باعث بن رہی ہے۔ ’’پانچ بڑوں‘‘ کا تذکرہ بھی ’’بگ برادر‘ کے بعد تمام حلقوں میں اہمیت اختیار کر چکا ہے جس طرح ’’بگ بردار‘‘ کسی فلمی کردار کی طرح یوٹیوبرز کو قید سے آزاد کرلیتا ہے توقع کی جارہی ہے کہ ’’پانچ بڑے‘‘ بھی ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں پیارے دیس کو ’’گنجل‘‘ سے آزاد کرالیں گے۔ اگر ایسا ہوگیا تو یقینا ’’پانچ بڑے‘‘ ملکی سیاسی تاریخ میں امر ہو جائیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان مذاکرات کے سخت خلاف ہیں۔ جس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ شاید انہیں یہ مکمل ادراک ہے کہ فی الحال ان کے اکلوتے بھائی عمران خان کی ربائی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اس لئے دیگر نکات پر مذاکرات کرنا وقت کا ضیاع اور پارٹی کی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔
سیاست میں مذاکرات اور بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنے چاہیں۔ لیکن شاید حکومت اور اپوزیشن نے یہ دروازے حتیٰ کہ کھڑکیاں اور روشن دان بھی بند کر رکھے ہیں اور مذاکرات کے لئے ’’گرین سگنل‘‘ صرف دکھائوا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں سارے دروازے نہ سہی ایک آدھ دروازہ ضرور کھلا رکھنا چاہیے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کا نیشنل ڈائیلاگ فورم بھی اپنا رنگ نہیں جما سکے گا اور اس کی حیثیت، تھوڑی تھوڑی سی پیاز ڈالو اور تھوڑا تھوڑا گھی، اور چمچے سے اس کو ہلاتے جائو جی۔ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ کیونکہ مذکورہ فورم میں سوائے پرانی باتوں کو دہرانے، ناقابل عمل مشوروں اور تجاویز کے علاوہ کوئی بھی نیا ’’آئٹم‘‘ شامل نہیں تھا۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے نیشنل ڈائیلاگ فورم کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ شنید ہے کہ اب اگلی کانفرنس یا ڈائیلاگ ملتان میں منعقد ہوں گے۔ پاکستان تحریک انصاف صرف اسی صورت میں مذاکرات کی میز پر آنا چاہتی ہے کہ اسے آٹھ فروری2024 کا چرایا ہوا مینڈیٹ واپس کیا جائے۔ نئے عام انتخابات کرائے جائیں اور عمران خان کے علاوہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا جائے۔ اختلافات چاہے گلی محلے کی سطح پر ہوں یا خاندان میں ہوں۔ صلح جو لوگوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ناراضگیوں کو ختم کیا جائے جبکہ بعض فسادی ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر تو اتحادی ہوتے ہیں لیکن اندر خانے وہ کسی ’’فسادی پھوپھی‘‘ کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح حکومت اور سیاسی جماعتوں میں بھی ایسے ’’فسادی‘‘ موجود ہوتے ہیں جو مذاکرات کامیاب نہیں ہونے دیتے کیونکہ ان کی روزی روٹی اسی میں ہوتی ہیں۔