Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

وفاق المدارس برسوں کا سفر،اور کھلا چیلنج ؟

حکمران طبقہ اگر آئی ایم ایف ، ایف اے ٹی ایف کی ذہنی غلامی اور سیکولر شدت پسندانہ سوچ سے آزاد ہو کر اس بات پہ غور کرے کہ پاکستان میں مدارس دینیہ کے سب سے بڑے تعلیمی و امتحانی بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان، جس صاف ستھرے ،مضبوط اور بہترین انداز میں ملک میں کامیابی کے ساتھ تعلیمی اور تربیتی نیٹ ورک کو چلا رہا ہے اس سے بڑھ کر قوم کی خدمت اور کیا ہوسکتی ہے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی زیر سرپرستی ،شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی صدارت اور شیخ الحدیث قاری حنیف جالندھری کی نظامت میں اس وقت جو مدارس و جامعات ملحق ہیں ان کی تعداد ستائیس ہزار تین سو اٹھاون ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکمران وفاق المدارس کے اکابرین سے مشورہ کر کے وزارت تعلیم کے تحت قومی خزانے سے اربوں روپے فنڈز کے زور پر چلنے والا ’’لولا لنگڑا انگریزی نظام تعلیم‘‘بھی درست کرنے کی کوشش کرتے، مگر افسوس کہ یورپ کے بجھے ہوئے چراغوں سے روشنی کی بھیک مانگنے والوں کو وفاق المدارس اور اتحاد مدارس دینیہ کا سورج کی طرح روشن نظام تعلیم نظر نہیں آرہا،پاکستان میں رائج عصری نظام تعلیم کو جب تک انگریزی اور ’’کاٹھے انگریزوں‘‘ کے تسلط سے رہا کروا کر سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبا وطالبات کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی وکردار سازی پر توجہ نہیں دی جاتی اس وقت تک ہمارہ معاشرہ تباہی وبربادی کا شکار رہے گا،اس خاکسار کے 35 سالہ یار دلدار مولانا طلحہ رحمانی جو ماشااللہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی ترجمان بھی ہیں نے وفاق المدارس کی تعلیمی و تربیتی خدمات کے حوالے سے ایک جائیزہ پیش کیا ہے،میرا پاکستانی لنڈے کے لبرلز اور سیکولر شدت پسندی کی آگ میں جلنے والے ملحدوں کو چیلنج ہے کہ وہ قوم کے30لاکھ بچوں کو مفت تعلیم وترتیب فراہم کرنے والا کوئی ایک ادارہ اپنی صفوں میں سے تلاش کر کے عوام کے سامنے پیش کریں، مجھے یقین ہے کہ وہ ایسا کبھی بھی نہیں کر پائیں گے،کیوں؟اس لئے کہ یورپ کی ذہنی غلامی اور ڈالر خوری کے شاٹ کٹ طریقوں نے ان کی عقلوں پر پردہ ڈال رکھا ہے،قرآن وحدیث کی بنیاد پہ بننے والا نصاب تعلیم اور نظام تعلیم ہی مسلمان طلبا وطالبات کی کامیابیوں کا ضامن بن سکتا ہے،مولانا طلحہ رحمانی کے مطابق وفاق المدارس سے نئے ملحق مدارس کے الحاق ہر سال نئے تعلیمی سال کے آغاز یعنی شوال سے شروع ہوکر تیس ربیع الاول تک اختتام پذیر ہوتے ہیں‘ جدید ملحق مدارس کو الحاق کے ساتھ نئے داخلوں کی سہولت بھی دی جاتی ہے‘ ہر سال قدیم و جدید مدارس کی لسٹوں کا اندراج تمام کوائف وغیرہ کے ساتھ کیا جاتا‘ جس میں پڑھنے والے طلبا و طالبات، پڑھانے والے اساتذہ و اسٹاف کی تعداد سمیت دیگر تمام ضروری اندراجات وفاق المدارس کے مرکزی دفتر کے مین جدید سسٹم میں اپ ڈیٹ بھی ہوجاتا ہے‘ الحمدللہ امسال 1446/47ھ موافق 2025 ء میں جو نئے مدارس ملحق ہوئے ہیں ان کی تعداد پندرہ سو سے زائد ہے۔
ان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کی جو تعداد ہمارے مرکزی سسٹم میں موجود ہے وہ تیس لاکھ سے زائد بنتی ہے جبکہ ان میں خدمات انجام دینے والے علما و اساتذہ اور عملہ کی تعداد تقریبا ڈھائی لاکھ سے زائد ہے۔
وفاق المدارس کا قیام 1959 ء میں عمل میں آیا تھااور 1960 ء کا سال تھا جب باقاعدہ ادارہ کے تحت پہلا سالانہ امتحان منعقد ہوا۔جس میں ایک سو دو مدارس کے طلبا نے دورہ حدیث شریف کا امتحان دیا۔یوں الحمدللہ ایک تاریخی سفر کا مبارک آغاز ہوا‘اور اب 2025ء گزر چکا ہے‘ اکابر و اسلاف امت کی قیادت و سیادت میں تقریباً سڑسٹھ سال کا ایک عالیشان سفر طے ہوا‘ تسلسل اور تواتر کے ساتھ وفاق المدارس کا مثالی نظام امتحان آج بھی اکابر وفاق کی زیر نگرانی ان ہی زرین اصولوں و قواعد و ضوابط اور منہج پر جاری ہے۔
1994ء میں وفاق المدارس نے بچیوں کی دینی تعلیم کیلئے مدارس بنات کا ایک نصاب تربیت دیکر اپنے مثالی نظم امتحان کا آغاز کیا‘ابتدا میں مدارس بنات کا نصاب چار سالہ تھا جو تقریباً بیس برسوں سے زائد عرصہ تک برقرار رہا‘ بعد میں ایچ ای سی کے ساتھ معاہدہ کے بعد چھ سالہ نصاب رائج کیا گیا اور یوں مدارس بنات کی درجہ عالمیہ کی سند کو بھی ایم اے کے مساوی تسلیم کیا گیا‘ جن طالبات نے سابقہ چار سالہ نصاب پڑھا تھا ان کی سہولت کیلئے دو سالہ قدیم فاضلات کے نام سے وفاق المدارس نے اپنے امتحان میں ترتیب بنائی‘ جو اس وقت بھی جاری ہے۔اس طرح بنات یعنی طالبات کے چھ درجات اور قدیم فاضلات کے دو سالہ کو شامل کریں تو ان کی تعداد بھی آٹھ بنتی ہے۔
اسی طرح وفاق المدارس کے درجہ تحفیظ کے امتحان کا نظم بھی تقریباً 1984ء میں شروع کیا گیا‘وفاق المدارس سے ملحق مکاتب قرآنیہ کی تعداد کافی زیادہ ہے،اس میں وہ اسکول بھی شامل ہیں جو دینی و عصری تعلیم کا نظام چلا رہے ہیں‘ شعبہ تحفیظ بنین و بنات کا سالانہ امتحان دینے والوں کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہورہا ہے‘ چند برس قبل پاکستان میں سب سے زیادہ حفاظ و حافظات تیار کرنے پر سعودی حکومت کی جانب سے ایک عالیشان اعزاز سے نوازتے ہوئے عالمی ایوارڈ بھی دیا گیا۔جس برس یہ ایوارڈ دیا گیا تھا اس سال شعبہ تحفیظ کا امتحان دینے والوں کی تعداد تقریباً چھپن ہزار تھی‘جو الحمدللہ اب ایک لاکھ سے بڑھ کر ایک لاکھ پندرہ ہزار سے بھی زائد بن گئی ہے۔
اسی طرح چند برس قبل بنین و بنات(طلبا و طالبات)کیلئے دو سالہ شارٹ ڈپلومہ کورس کا آغاز بھی وفاق المدارس نے کیا۔اس کورس سے بھی ہزاروں افراد مستفید ہوئے،دراسات دینیہ کا سالانہ امتحان دینے والوں کی تعداد میں بھی دیگر درجات کی مانند مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔یہ کورس ان حضرات و خواتین کیلئے شروع کیا گیا جو زندگی کے دیگر شعبوں میں مصروف ہوتے ہیں ان کو بنیادی ضروری دینی علوم کے حصول کیلئے رائج کیا گیا‘ دراسات دینیہ بنین و بنات کے دونوں سال کے شرکا کیلئے بھی سالانہ امتحان میں چھ پرچے ہوتے ہیں۔
اسی طرح چند برس قبل تجوید للحفاظ و الحافظات اور تجوید للعلما و العالمات کا آغاز کیا گیا‘اس کیلئے بھی ایک جامع نصاب مرتب کیا گیا۔۔۔اس شعبہ میں بھی امتحان دینے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے‘تجوید کے ان دونوں درجات یعنی حفاظ و حافظات اور علما و العالمات کے بھی سالانہ امتحان میں چھ روزہ پرچے ہوتے ہیں۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں