Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

نومبر کے بعد سولر پینلز مہنگے،عوام کے لیے بری خبرآگئی

بیجنگ(نیوز ڈیسک)چین میں سولر پینلز کی مینوفیکچرنگ کے لیے سرمایہ کاری کے طریقہ کار میں سختی اور حکومت کی جانب سے سولر پینلز کی انڈسٹری کے لیے برآمدی ٹیکس چھوٹ میں کمی (ری بیٹ) کے فیصلے سے نومبر کے بعد سولر پینلز مہنگے ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ جس کا اثر پاکستان میں ممکنہ طورپر سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق چین کی وزارت صنعت نے ایک نوٹس جاری کیا میں سولر پیپلز کی تیاری کرنے والے اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے طریقہ کو سخت کیا گیا تاکہ گنجائش سے زیادہ سولر پینلز کی تیاری روکی جا سکے۔

نئے قواعد کے مطابق کمپنیوں کو سولر پینلز کے لیے کم از کم سرمایہ کا تناسب 30 فیصد یقینی بنانے کی ہدایت ہے۔ اس سے پہلے یہ معیار صرف پولی سیلیکون مینوفیکچرنگ پروجیکٹس پر لاگو ہوتا تھا جبکہ دیگر سولر پینلز پروجیکٹس کے لیے کم از کم 20 فیصد تھا۔

وزارت نے کہا کہ نئی قواعد کا مقصد سولر پینلز انڈسٹری میں اپ گریڈنگ اور ساختی ایڈجسٹمنٹ کرنا تھا۔ واضح رہے کہ یہ اعلان سولر پینلز کے لیے برآمدی ٹیکس چھوٹ میں کمی کے بعد کیا گیا ہے جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اخراجات کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک خریداروں کے لیے قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوگا۔
مزیدپڑھیں:کنزہ ہاشمی اور زاویار کی بڑھتی قربتیں، افواہوں نے زور پکڑ لیا

یہ بھی پڑھیں