Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

اب 2 لاکھ روپے سے زائد ادائیگی صرف چیک یا آن لائن! نقد ادائیگیوں پر کڑی پابندیاں عائد

کراچی(نیوز ڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی شفافیت کو فروغ دینے اور معیشت کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے سخت اقدامات متعارف کرا دیے۔ نئے قواعد کے تحت اب ریٹیلرز کو دو لاکھ روپے سے زائد کی نقد رقم بینک میں جمع کرانے پر ٹیکس ریلیف نہیں ملے گا۔ یہ کریک ڈاؤن آن لائن سیلرز پر بھی اثر انداز ہوگا جو ملک کے مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی ہے۔

ایف بی آر کے مطابق اب 2 لاکھ روپے سے زائد کی کوئی بھی ادائیگی صرف کراس چیک یا آن لائن بینکنگ کے ذریعے ہی قابل قبول ہوگی۔ اگر کوئی تاجر یا خریدار اس سے زائد نقد رقم جمع کرائے گا تو سخت جرمانہ عائد ہوگا، اور زائد رقم کا 50 فیصد کاروباری اخراجات سے منہا کر کے ٹیکس کی شرح بڑھا دی جائے گی۔

یہ اقدام ٹیکس چوری کو روکنے اور پاکستان کی معیشت کو ڈیجیٹل سمت میں لانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے ریٹیل سیکٹر کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ملک کی مالی لین دین کو شفاف اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کا ایک بڑا قدم ہے۔

دوسری جانب کاروباری طبقے کے لیے اہم رعایت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ اگر کسی خریدار نے براہِ راست کسی تاجر کے بینک اکاؤنٹ میں نقد رقم جمع کرائی تو یہ ادائیگی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت قابل قبول ہوگی اور اس پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوگا۔ اس وضاحت کے بعد تاجروں، ریٹیلرز اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کے خدشات میں کمی آئی ہے جو زیادہ تر نقد لین دین پر انحصار کرتے ہیں۔

مزید برآں ایف بی آر نے سیلز ٹیکس قوانین میں بھی اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اب صرف سنگین نوعیت کے کیسز میں ہی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی، جیسے جعلی انوائسز، ثبوت ضائع کرنا، یا حکومتی نوٹسز کو نظرانداز کرنا۔ اس حوالے سے جلد نیا سیلز ٹیکس جنرل آرڈر (STGO) جاری کیا جائے گا تاکہ گرفتاری کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:شدید بارشوں اور سیلاب کے باوجود سیمنٹ کی بوری سستی ہوگئی

یہ بھی پڑھیں