کابل (نیوز ڈیسک) افغانستان کے تازہ پھلوں کے برآمد کنندگان کو بھاری نقصانات کا سامنا ہے کیونکہ پاکستان میں داخلے کے لیے استعمال ہونے والا اہم زمینی راستہ بند ہونے کے باعث طورخم سرحد پر ٹماٹروں، پیاز، انگور اور سیب سے لدے دو سو سے زائد ٹرک پھنس گئے ہیں، جس سے جنوبی ایشیائی منڈیوں سے تجارت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔
خشک میوہ جات کے برآمد کنندگان کی یونین کے مطابق تازہ پھلوں کی برآمدات تقریباً رک چکی ہیں، تاہم محدود مقدار میں خشک میوہ جات فضائی راستے سے بھیجے جا رہے ہیں۔ یونین کے ترجمان نے کہا، “یہ سیبوں کا سیزن ہے، اور واحد قریبی اور آسان تجارتی راستہ بھی بند ہو چکا ہے۔”
تاجروں کا کہنا ہے کہ سرحد کی بندش کو چھ ماہ سے زائد ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں تازہ پھلوں کی برآمدات 60 سے 70 فیصد تک کم ہو گئی ہیں۔ زمینی راستے بند ہونے کے بعد اب فضائی راستہ ہی واحد متبادل رہ گیا ہے، لیکن ہوائی کرایوں میں غیر معمولی اضافہ اور مہنگی برآمدات کی کم مانگ نے اس آپشن کو مالی طور پر ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔
ایک برآمد کنندہ نے بتایا کہ اس کے ٹماٹر دو دن تک طورخم پر پھنسے رہنے کے بعد واپس جلال آباد بھیجنے پڑے، جہاں خراب ہونے سے بچانے کے لیے انہیں کم قیمت پر فروخت کرنا پڑا، جس سے نقصان مزید بڑھ گیا۔ مسلسل تجارتی تعطل نے متعدد برآمد کنندگان کو قرضوں اور دیوالیہ پن کے قریب پہنچا دیا ہے۔
طورخم کراسنگ بند ہونے کے باوجود خَرلاچی اور غلام خان سرحدی راستوں کو عارضی طور پر کوئلے کی ترسیل کے لیے کھولا گیا تھا، لیکن جلد ہی پھلوں اور سبزیوں کی برآمد دوبارہ روک دی گئی۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ایران کی بندرگاہوں چابہار اور بندر عباس کے راستے برآمدات بھی متاثر ہوئیں، کیونکہ بین الاقوامی پابندیوں کے باعث ان بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں۔
افغان برآمد کنندگان نے پاکستانی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ تجارت کو سیاسی معاملات سے الگ رکھے اور ٹرانزٹ بحال کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کولڈ اسٹوریج، پیکجنگ اور شپنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق 200 ٹن گنجائش والا کولڈ اسٹوریج یونٹ بھی عام برآمد کنندگان کی پہنچ سے باہر ہے، تاہم اگر یہ سہولت فراہم کر دی جائے تو مارکیٹ مستحکم، روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا اور کسانوں کو مستقبل کی سرحدی بندشوں سے تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
برآمدی راستوں میں مسلسل کمی سے افغان معیشت کے ایک اہم شعبے کو خطرات لاحق ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تازہ پیداوار کی برآمدات میں مزید کمی سے کسانوں، برآمدی کاروباروں، زرعی سرمایہ کاری اور خطے کی تجارتی روابط پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:اختیار ولی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا




