لندن: خام تیل کی قیمت میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے اور عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے، جس نے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز برینٹ خام تیل 74.80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔ یہ رواں سال فروری کے آخر کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل سے نیچے آئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں رسد اور طلب کے توازن میں تبدیلی، مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں نسبتاً بہتری اور سپلائی کے تسلسل نے قیمتوں پر دباؤ کم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل کی قیمت میں کمی سے کئی ممالک کو درآمدی اخراجات میں ریلیف مل سکتا ہے، جبکہ ایندھن سے وابستہ صنعتوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب تیل برآمد کرنے والے ممالک قیمتوں میں مسلسل کمی کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے ان کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی سرمایہ کار تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید کم ہوئی اور سپلائی معمول کے مطابق جاری رہی تو آئندہ ہفتوں میں بھی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

