Search
Close this search box.
بدھ ,17 جون ,2026ء

حکومت کا نیا پیٹرولیم فیصلہ: ڈیزل مہنگا، پیٹرول سستا

 وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات(Petroleum products) پر نئی لیوی(levy) کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ڈیزل پر بڑا اضافہ جبکہ پیٹرول پر معمولی ریلیف کا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پٹرولیم ڈویژن پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن 1 مئی 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جس کے تحت ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) پر نئی پیٹرولیم لیوی عائد کر دی گئی ہے۔

ڈیزل پر بڑا اضافہ

نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پہلے کوئی پیٹرولیم لیوی نہیں تھی، تاہم اب اس پر 28.69 روپے فی لیٹر لیوی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کو حکومتی آمدن بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

پیٹرول پر معمولی کمی

دوسری جانب پیٹرول (موٹر گیسولین) پر لیوی میں 3.88 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی لیوی 103.50 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جو اس سے پہلے 107.38 روپے فی لیٹر تھی۔

Petroleum Product Previous Levy New Levy Change Climate Support Levy
High Speed Diesel (HSD) Rs. 0.00 Rs. 28.69 / litre ▲ +Rs. 28.69 Rs. 2.50
Petrol (Motor Gasoline) Rs. 107.38 Rs. 103.50 / litre ▼ −Rs. 3.88 Rs. 2.50
HOBC / MS 95–97 RON Rs. 305.37 / litre Rs. 2.50
Superior Kerosene Oil Rs. 20.36 / litre
Light Diesel Oil Rs. 15.84 / litre
Furnace Oil Rs. 77.00 / litre equivalent Rs. 2.50

دیگر مصنوعات پر بھی شرحیں مقرر

نوٹیفکیشن کے مطابق دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر بھی نئی شرحیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں ہائی آکٹین، مٹی کا تیل، لائٹ ڈیزل آئل اور فرنس آئل شامل ہیں۔ بعض مصنوعات پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی برقرار رکھی گئی ہے۔

معیشت پر ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق ڈیزل پر اضافہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور سپلائی چین کا بنیادی ایندھن ہے۔ اس فیصلے سے مال برداری کے اخراجات بڑھنے اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

1 لاکھ سرکاری ملازمین کو الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ، 80 ہزار روپے سبسڈی بھی ملے گی

اس کے برعکس پیٹرول پر معمولی کمی کا فائدہ زیادہ تر پرائیویٹ گاڑی مالکان تک محدود رہے گا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ قدم مالی دباؤ اور ٹیکس وصولیوں میں بہتری کے لیے اٹھایا ہے، کیونکہ پیٹرولیم لیویز ریاست کے لیے ایک اہم اور فوری آمدنی کا ذریعہ ہیں۔

حکام کے مطابق یہ اقدامات مجموعی مالیاتی خسارے کو کم کرنے اور بجٹ اہداف حاصل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، تاہم اس کے عوامی سطح پر مہنگائی پر اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں