صحافیوں کا پیکا ایکٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج
28 جنوری کو حسب معمول لاہور پریس کلب میں داخل ہوا تو کلب کے احاطے میں بڑی غیر معمولی صورت حال تھی۔یہاں صحافیوں کے ایک بڑے ہجوم کو دیکھا جو کچھ ہی دیر میں “پیکا ترمیمی ایکٹ” کے خلاف ایک
28 جنوری کو حسب معمول لاہور پریس کلب میں داخل ہوا تو کلب کے احاطے میں بڑی غیر معمولی صورت حال تھی۔یہاں صحافیوں کے ایک بڑے ہجوم کو دیکھا جو کچھ ہی دیر میں “پیکا ترمیمی ایکٹ” کے خلاف ایک
طبقاتی نظام کی طرح ہمارا تعلیمی نظام بھی بٹا ہوا ہے۔کہتے ہیں جو قوم اچھی تعلیم سے بہرہ ور نہ ہو،وہ اچھے شعور سے بھی بہرہ ور نہیں ہوتی۔آگہی کے سب راستے اس پر بند ہو جاتے ہیں۔حکومتوں کے کئی
تھانہ کے ساتھ لفظ کلچر مدتوں سے جڑا ہوا ہے۔ کلچر ظاہر ہے دو چار برس میں تو بنتا نہیں ہے۔تھانہ کلچر تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ برصغیر پاک و ہند میں آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ
بھٹو سیاست کے طالب علم تھے اورجب ان کی عمر32سال تھی، وزیراعظم کے اہم منصب تک پہنچ گئے۔انہیں اندازہ تھا کہ ملکی سیاست میں انٹری کے لیےکس گیٹ کا استعمال کیا جاتا ہےجبکہ اس کے برعکس ان کی بیٹی محترمہ
سیاست بہت سے لوگوں کا پسندیدہ موضوع ہے۔مختلف الخیال صحافی،تجزیہ کار اور کالم نگار اپنے اپنے انداز سے سوچتے اور اظہار خیال کرتے ہیں۔طویل عرصہ سے سیاست کو میں بھی موضوع بحث بنائے ہوئے ہوں۔شاید کچھ لوگ میرے سیاسی نظریے
عمران خان پی ٹی آئی ہیں۔ان کے بغیر پاکستان تحریک انصاف کا کوئی مستقبل نہیں،یہ بات کئی بار پی ٹی آئی کے سیاسی حریفوں کے علاوہ ان کے حامیوں کی جانب سے بھی کی جاتی رہی ہے۔تاہم پی ٹی آئی
سیاسی استحکام نہ ہو تو ملکی معیشت بھی اپنے پائوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ایک دہائی گزر گئی ملک کو ہم عدم استحکام کی طرف بڑھتا دیکھ رہے ہیں۔پی ٹی آئی نے اس سیاسی عدم استحکام کو بڑھانے میں اپنا
(گزشتہ سے پیوستہ) جس کے باعث حکومتوں کی نااہلی،ناقص کارکردگی، وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے حکومتی کاموں کو بھی ریاست کے ذمے لگا دیا جاتا ہے۔جب عوام ان حکومتی اقدامات کے خلاف ردعمل دیتے
یہ بات اب زبانِ زد عام ہے کہ عمران خان نے سیاست میں کچھ پایا ہے یا سب کچھ کھویا ہے۔خان صاحب کا ہمیشہ یہ کہنا رہا کہ سیاست اور جمہوری اقدار کے لئے انہوں نے22 سال جدوجہد کی۔اِسی جہد
ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ سے اڈیالہ جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لیے ایک بڑا جلوس 24نومبر کو خیبرپختونخوا سے برآمد ہوا جس کی قیادت وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور