بھٹو سیاست کے طالب علم تھے اورجب ان کی عمر32سال تھی، وزیراعظم کے اہم منصب تک پہنچ گئے۔انہیں اندازہ تھا کہ ملکی سیاست میں انٹری کے لیےکس گیٹ کا استعمال کیا جاتا ہےجبکہ اس کے برعکس ان کی بیٹی محترمہ بےنظیر بھٹو کی سیاست کا آغاز مارشل لا کی مخالفت سے ہوا۔ بےنظیر نے باپ کو پھانسی چڑھتے دیکھا۔طویل جلاوطنی دیکھی۔ سیاست میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی انٹری بھی بھٹو کی سیاست کے خاتمے کے لیےکی گئی تھی۔خاص طور پر پنجاب میں وہ طرزِ سیاست اپنایا گیا جس کے بغیر ایک بزنس مین (نواز شریف) کو سیاست میں مقبولیت نہیں مل سکتی تھی۔پھر ہم نے میاں صاحب کا عروج دیکھا اور دو تہائی اکثریت کے باوجود اقتدار سے بے دخلی بھی۔پھر عمر قید بھی ہوئی۔اس دوران ان کے رہنمائوں کا طرزعمل کم و بیش وہی رہا جو بھٹو کی پھانسی کے وقت پی پی پی کے رہنمائوں کا تھا۔میثاق جمہوریت کی دستاویز دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سیاستدانوں کی راہ میں اصل رکاوٹ کہاں پیدا کی جاتی ہےاور اس کو روکنے کے لیے ہی اس میثاق میں بنیاد فراہم کی گئی۔2008 سے 2024 تک انہی قوتوں کو مزید وقت دیا گیا جبکہ آج بھی انہیں اتنی طاقت دی جارہی ہےجن کےخلاف میثاق کیاگیاتھا۔اس طرزِ سیاست اورخراب طرزِحکمرانی نے بہت سے مسائل کو جنم دیاجس میں مقتدرہ کے لیے تیسرا آپشن بھی سامنے آیااوروہ آپشن عمران خان تھے۔میاں نوازشریف کی طرح عمران خان بھی سیاسی نہیں تھے۔مقتدرہ میاں صاحب اور پی پی پی کی سیاست اور طرزحکرانی سے نالاں اور ناراض تھی۔اس لیے سیاست میں عمران خان کو اتارا گیا۔مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی بربادی کا سبب کرپشن کی وہ ان گنت کہانیاں تھیں جو اِن کے بارے میں منظر عام پر آئیں اور مشہور کی گئیں۔عمران خان نے میاں محمد نوازشریف اور آصف علی زرداری کے زوال کے بعد جس تیزی سے مقبولیت حاصل کی اس میں مقتدرہ کا بڑا رول تھا۔عمران خان اخبارات کے فرنٹ پیج پر ہر بڑی خبر اور شہ سرخیوں میں رہنے لگے۔اس مقبولیت میں پی ٹی آئی سوشل میڈیا سیل نے بھی اپناحصہ ڈالاجسے چلانے کے لیے کروڑوں کے فنڈز مہیاکئےجاتے تھے۔ہنوز یہ سلسلہ انفرادی طور پر آج بھی جاری ہے۔ملک سے باہر بیٹھے پی ٹی آئی کے سپورٹرز اپنے پروپیگنڈہ سیل کو چلا رہے ہیں اور مقتدرہ کے خلاف ہر طرح کا منفی پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں۔جن کی بیخ کنی کے لیے ایف آئی اے نے اپنی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔مقامی طورپرکچھ گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں تاہم گرفتاریوں کے دائرےکو اور وسیع کیاجارہا ہے۔عمران خان نے 2018 کے بعد جس قدر مقبولیت حاصل کی اس کا اندازہ مقتدرہ کو بھی نہ تھا۔ہماری سیاسی تاریخ کا عمران خان وہ واحد سیاستدان ہے جس نے نہ صرف جرنیلوں اور ججوں کے گھروں میں جگہ بنائی بلکہ جس طبقہ میں اسے لازوال پذیرائی ملی وہ نوجوان تھے یا ان کے خاندان۔پانامہ لیکس میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد 2016 میں عمران خان کے لیے راستہ ہموار ہوا۔تاہم اس کے باوجود 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو سادہ اکثریت بھی نہیں مل سکی۔اگرچہ اس وقت کی مقتدرہ نے کراچی سے پی ٹی آئی کی نشستوں میں غیر معمولی اضافہ کرایا تھا۔
پی ٹی آئی مقتدرہ کے باعث اقتدار میں تو آ گئی لیکن طرزِ حکومت میں واضح طور پر ناتجربہ کاری نظر آئی۔حکومتی کارکردگی سے زیادہ ان کی توجہ مخالفین کی گرفتاریوں پر مرکوز رہی۔پی ٹی آئی نے اچھی گورننس پر بھی توجہ نہیں دی۔عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کا سلسلہ جنرل فیض کو بدستور ڈی جی آئی ایس آئی کے منصب پر برقرار رکھنے پر اختلافات سے شروع ہوا۔جنرل باجوہ ہرصورت ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض کا ٹرانسفرچاہتےتھےلیکن سابق وزیراعظم عمران خان بضدتھے کہ یہ ٹرانسفر نہ ہو۔سابق مقتدرہ سے سابق وزیراعظم عمران خان کے اختلاف کی یہی وجہ بنی۔فاصلے اور دوریاں اتنی قائم ہوئیں کہ نیشنل اسمبلی میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی جو کامیاب بھی ہوئی،یوں خان صاحب اقتدار سے بےدخل ہو گئے۔کہتے ہیں اس تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بھی مقتدرہ تھی۔یوں ملک میں ایک نئی سیاست کا آغاز ہوا۔سیاست ہنگامہ خیز ہوتی چلی گئی۔پی ٹی آئی نے اپنے بانی چیئرمین کی ڈائریکشن پر 9 مئی کو ہنگاموں کا آغاز کیا۔لاہور سمیت راولپنڈی،سرگودھا،سیالکوٹ اوردیگر مقامات پرفوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔پی ٹی آئی رہنمائوں کی قیادت میں پی ٹی آئی مظاہرین نے ناصرف فوجی تنصیبات پر حملے کئے بلکہ لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ میں گھس گئے۔شدید توڑ پھوڑ کی۔آگ لگائی اور گھریلو تزئین و آرائش کو ناصرف تباہ کر دیا بلکہ لوٹ ماربھی کرتے رہے۔جی ایچ کیو پر بھی ایک ہجوم نےحملہ کیاجبکہ شہدا کے یادگاری مجسموں کی بھی شدید بے حرمتی کی گئی۔یہ ایسے واقعات ہیں جنہیں بھلایا نہیں جا سکتا،نہ تاریخ پی ٹی آئی اور عمران خان کو کبھی معاف کرے گی۔عمران خان بہت سے مقدمات میں گرفتار ہو کر پہلے سے ہی جیل میں ہیں۔کافی مقدمات میں ضمانت ہو چکی ہےلیکن کچھ میں ضمانت ہونا ابھی باقی ہے۔9 مئی کے مقدمات بھی ان پرقائم ہیں۔جن کی فوجی عدالت میں ایک سال کے وقفے کے بعد حال ہی میں سماعت ہوئی،بعد از سماعت فوجی عدالت نے 85 مجرمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مختلف المیعاد سزائیں سنا دی ہیں۔جو 2 سال سے 10سال کے عرصے تک محیط ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل شریف چودھری نے ایک پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کو نہیں چھوڑاجائے گا۔ان کا واضح اشارہ بانی پی ٹی آئی اور دیگر قائدین کی طرف تھا۔جو اس وقت ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ سے جیل میں ہیں اور 9 مئی کے مقدمات میں عدالتی حکم کے منتظر ہیں۔ریٹائرڈ جنرل فیض حمید بھی مختلف الزامات کے تحت فوج کی زیر حراست ہیں۔ذرائع بتاتے ہیں کہ باقی الزامات ایک طرف،9 مئی کے حوالے سے جنرل فیض نے جو انکشافات کیے ہیں اس کے تانے بانے عمران خان کی طرف جاتے ہیں۔نہیں لگتا کہ ان کی کوئی سہولت کاری ہو سکے گی۔جنرل فیلڈ کورٹ مارشل میں جنرل فیض کا 9 مئی کےحوالے سےٹرائل لازمی امر ہے۔اس ٹرائل کا ایک پارٹ عمران خان بھی ہوں گےجس کے بعد 9 مئی کےسب کرداراپنےکیفرکردار کو پہنچ جائیں گے۔سزا کے بعد عمران خان کاسیاسی مستقبل ڈوبتاہوانظر آتاہےاوران کاقصہ،قصہ پارینہ بن جائے گا۔خودسر سیاسی رہنمائوں کے لیے یہ تاریخ کا عبرت ناک سبق ہو گا۔