ڈس انفارمیشن ، مس انفارمیشن اور فیک نیوز کے اس دور میں استعماری طاقتیں جب کسی ملک یا خطے پر حملہ آور ہوتی ہیں تو فور ڈی ٹیکنالوجی سے کام لیتی ہیں ، یہ 4 ڈی کیا ہے آج اس کا ذکر ہو جائے ۔سب سے پہلے مرحلے میں ٹارگٹ کنٹری کی حکومت کی رٹ ختم کرکے متعلقہ خطے میں عملاً اسےمحروم اقتدار (Dismiss)کردیاجاتا ہے، جیسا کہ سانحہ سقوط ڈھاکہ سےقبل مکتی باہنی ، “را” اور بھارتی فوج کی ملی بھگت سے مشرقی پاکستان میں کیا گیا ، دوسرا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ ٹارگٹ کنٹری کی انتظامی مشینری اور فوج کو بدنام (Discredit) کیا جائے ، تیسرے مرحلے میں انہیں Demonize کیاجاتا ہے،یعنی شیطان بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور پھرچوتھے و آخری مرحلے میں بڑاحملہ کرکے Destroy یعنی تباہ و برباد کر دیاجاتا ہے ، موجودہ زمانے میں اس بڑی واردات کا نشانہ لیبیا کے صدر کرنل قذافی اور عراق کے صدر صدام حسین کو بنایا گیا ۔پراکسی وار ہو یا آل آٹ وار ، دنیا بھر میں اپنے دشمن کو شیطان یا شیطان صفت بنا کر پیش کرنا جنگی حکمت عملی کا ایک طے شدہ اصول ہے ، لیکن کبھی کسی ملک میں ایسا نہیں ہوا کہ اس کی اپنی کسی سیاسی جماعت نے اپنے ملک کے مختلف اداروں خصوصا انتظامی مشینری اور مسلح افواج کیخلاف دشمن ملک کے جھوٹے شیطانی پروپیگنڈے کو سچ قرار دے کر راج نیتی کے کاروبار میں انہیں دبائو میں لانےکی کوشش کی ہو ، سیاسی بلیک میلنگ کی یہ انتہا ہرطرح کی ریڈ لائنز کراس کرنے والی بات ہے اور انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی بار بار یہ ریڈ لائنز کراس کر رہے ہیں اور اہل فکر و نظر کی طرف سے بارہا توجہ دلائے جانے کے باوجود باز نہیں آ رہے ۔ اپنے ملک کے اداروں کو خود ہی ڈسمس ، ڈس کریڈٹ ، ڈیمونائز اور ڈیسٹرائے کرنا اصل میں دشمن کا ایجنڈہ پورا کرنا ہے ، اس لیے کسی سیاسی جماعت کو زیب نہیں دیتا کہ جہاں معاملہ ملکی سالمیت کو ٹھیس پہنچانے تک پہنچنے لگے وہاں سے رضاکارانہ طور پر ازخود پسپائی اختیار نہ کرے ، اپنے ہی وطن کے دفاع و سلامتی کے ضامن اداروں کو اگر ہم خود ہی ڈسمس ، ڈس کریڈٹ ، ڈیمونائز اور ڈیسٹرائے کرنے چل پڑیں گے تو دشمن کا کام ہی آسان کریں گے ، اسی لیے کہتے ہیں کہ ہر بڑی سیاسی جماعت میں کم از کم ایک طبقہ فکر ایسا ضرور ہونا چاہیے کہ جو صاحب علم و حکمت اور دور اندیش ہو ، تاکہ اگر جوانی کے جوش میں یا اپنی کوتاہ علمی و کوتاہ اندیشی کی وجہ سے لیڈر شپ یا کارکن کچھ نازک ریڈ لائنز کراس کریں تو پارٹی کے اندر سے ہی بروقت اصلاح احوال ہو جائے ۔
بقول میر تقی میر
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا
پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی سقوط ڈھاکہ اور 1971ء کے افسوسناک واقعات کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی غرض سے آج کل ایک بار پھر ہر حد کراس کر رہے ہیں ، ایک زمانے میں ن لیگ نے کم و بیش ایسا ہی وتیرہ اپنا رکھا تھا اور موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف تک کئی ن لیگی رہنما اپنے ہی اداروں کو ڈسمس ، ڈس کریڈٹ ، ڈیمونائز اور ڈیسٹرائے کرنے کے مشن پر تعینات تھے تاکہ راج نیتی کے کاروبار میں ریاست پر کچھ دبائو بڑھایا جاسکے‘ن لیگ کی طرف سے یہ ریڈ لائنز گنتی کے چند سیاستدانوں نے کراس کیں اور جب کام ہو گیا تو سجدہ سہو بھی کر لیا ، لیکن پی ٹی آئی جو کچھ کر رہی ہے وہ اس لئے زیادہ سنگین معاملہ ہے کہ ایک طرف بانی پی ٹی آئی خود اس مہم کو لیڈ کر رہے ہیں تو دوسری طرف ملک کی پوری نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے ذریعے اس (نازک) کام پر لگا دیا گیا ہے۔
نئی نسل کے کچے ذہنوں کو آلودہ کرکے عمران خان اور ان کے کھلاڑی نہ صرف پوری قوم کے بلکہ خود اپنے پائوں پر بھی کلہاڑی مار رہے ہیں‘ جمہوری ممالک میں ہر سیاسی جماعت کو وقتاً فوقتاً صوبوں اور مرکز میں ون پارٹی گورنمنٹ کی حیثیت سے یا مخلوط حکومت کا حصہ بن کر ریاستی امور بھی سنبھالنا ہوتے ہیں ، اس لیئے انہیں اپنے ہی ملک اور اپنے ہی اداروں کیخلاف اتنا زہریلا اور من گھڑت پراپیگنڈہ نہیں کرنا چاہیے کہ کل کو جب وہ اقتدار میں آئیں تو اسے “اون” نہ کر سکیں ۔
سقوط ڈھاکہ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں بھارتی سازش کا آلہ کار بننے والوں نے مغربی پاکستان سےتعلق رکھنے والی انتظامی مشینری ، بہاریوں اور افواج پاکستان کیخلاف جن جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ، اس کی بدنامی سے بچنے کیلئے بھارتی فوج اور اس کی آلہ کار دہشت گرد تنظیم مکتی باہنی نے الٹا افواج پاکستان پر من گھڑت الزامات لگانے کا طوفان برپا کیے رکھا ، جیسا کہ کالم کے آغاز میں ہم نے ذکر کیا کہ بھارتی فوج اور مکتی باہنی نے اس حوالے سے جو من گھڑت پروپیگنڈہ کیا اور اس پروپیگنڈے کو سچ ثابت کرنے کیلئے جو فالس فلیگ آپریشنز کیے وہ جنگ کا حصہ تھے اور دنیا کے ہر ملک کی فوج اور خفیہ ایجنسیاں اپنے دشمن کے ساتھ ایساہی سلوک کرتی ہیں ، اس لیے بھارتیوں اور مکتی باہنی نے جو کیا وہ باعث حیرت نہیں ، باعث حیرت و افسوس تو ہمارے اپنوں کا رویہ ہے کہ وہ 1971 کے مشرقی پاکستان میں بھارتی فالس فلیگ آپریشنز اور ان کی آڑ لے کر کیے گئے پروپیگنڈے کو سچ قرار دینے کی محض اس لیے کوشش کر رہے ہیں کہ اس طرح ریاست دبائو میں آ کر ان کی کچھ جائز ناجائز شرائط مان لے گی ، چہ بوالعجبی است ؟ بھارتی فوج کی پروپیگنڈہ مشین کے تیار کردہ نصف صدی پرانے ایسے ایسے لرزہ خیز الزامات پی ٹی آئی سوشل میڈیا واریئرز کے ذریعے 1971 کی پاکستانی حکومت اور افواجِ پاکستان پر عائد کیے جا رہے ہیں کہ جن کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں ۔ یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کیخلاف نئی نسل کے کچےذہنوں میں زہر بھر کر پی ٹی آئی والے مستقبل کے پاکستان کی بنیادوں میں ایک طرح کا خوفناک ڈائنامائٹ لگا رہے ہیں۔ یہ سنگین حرکت بلاشبہ قومی سلامتی کیخلاف ایک انتہائی گھنائونی سازش کےمترادف ہےاور ملکی سلامتی و دفاع کے ضامن ادارے اگر اس کا راستہ نہیں روکتے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اپنے منصب کے تقاضوں سے عہدہ برا نہیں ہو رہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست و حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست یا ٹریک 2 سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے اس بات پر فوری اتفاق رائے پیدا کیاجائے کہ کم ازکم سقوط ڈھاکہ کے حوالے سےجاری ڈسمس ، ڈس کریڈٹ ، ڈیمونائز اور ڈیسٹرائے والا یہ “کالا دھندہ” فوری بند ہونا چاہیے تاکہ نئی نسل کے کچے ذہن مزید پراگندہ نہ ہوں ۔ بانی پی ٹی آئی سے یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ جو من گھڑت زہر آپ آج سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلا رہے ہیں ، کل حکومت میں آکر پرائمری ، مڈل ، میٹرک کے مطالعہ پاکستان اور ایف اے ، بی اے ، ماسٹرز کے تاریخ کے تعلیمی نصاب میں اسے شامل کر سکیں گے ؟ یقیناًنہیں ۔۔۔۔۔ تو پھر آنیوالے کل میں آپ پر ماضی میں جھوٹ بولنے کا الزام لگے گا اور کہا جائے گا کہ جب آپ لوگ اپوزیشن میں تھے تو قوم کو کچھ اور بتایا جا رہا تھا اور آج جب حکومت میں آئے ہیں تو کچھ اور “پڑھا” رہے ہیں،پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اپنی مسلح افواج کیخلاف دشمن کے جھوٹے شیطانی پروپیگنڈے کو سچ قرار دےکرجو گھنائونی سوشل میڈیا مہم جاری ہے اسے دیکھ کر تو بعض اوقات یوں لگنے لگتا ہے کہ جیسے پی ٹی آئی پاکستان کی سیاسی جماعت نہیں بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کا کوئی پولیٹیکل یاسوشل میڈیاونگ ہےکیونکہ جو بیانیہ عمران خان اور ان کے ساتھی مسلسل آگے بڑھائے جارہے ہیں اسے 1970 کے عشرے میں فالس فلیگ آپریشنز کی ایک پوری سیریز کے ذریعے “را” ہیڈکوارٹرز میں بڑی محنت بلکہ بڑی فنکاری سے تیارکیا گیاتھا۔