Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

کہوٹہ سے فردو ایٹمی پلانٹ تک

جس طرح کسی زمانے میں ’’کہوٹہ کہوٹہ‘‘ ہوا کرتی تھی، آج کل دنیا بھر میں ’’فردو فردو‘‘ ہو رہی ہے، وجہ اس کی ایران کا فردو ایٹمی پلانٹ ہے جہاں یورینیم کی افزودگی کی جا رہی تھی اور امریکہ، اسرائیل اور نیٹو ممالک کا خیال تھا کہ یہاں ایٹم بم بنایا جا رہا ہے، اس لئے وہ اس پلانٹ کو تباہ کرنے پر تل گئے، طویل سسپنس کے بعد امریکہ نے 30 ہزار پائونڈ کی طاقت والے بم گرا کر اسے نشانہ بھی بنا ڈالا لیکن اپنا مقصد امریکہ پھر بھی حاصل نہ کر سکا، اس دوران نیطنز اور اصفہان کی ایرانی ایٹمی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، ایران کا موقف ہے کہ حملے کے خدشے کی وجہ سے وہ جوہری مواد پہلے ہی تینوں سائٹس سے منتقل کر چکا تھا، مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ فردو ایٹمی پلانٹ کے اصل اسٹرکچر کو اس حملے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
فردو ایٹمی پلانٹ کی تباہی کے ایشو پر امریکہ کا بس کیوں نہیں چل رہا، اس کی تفصیل بڑی دلچسپ ہے اور آج ہم آپ کو فردو یورینیم اینرچمنٹ پلانٹ کی تفصیلی کہانی سناتے ہیں جس سے آپ اس پورے معاملے کو گہرائی تک جان جائیں گے۔فارسی زبان میں ’’فردو‘‘ (Fardu / Fordow) کوئی عمومی یا معروف روزمرہ لفظ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مخصوص جغرافیائی مقام کا نام ہے جو شمالی ایران میں واقع ہے۔ ایران نے اپنے خفیہ ایٹمی پلانٹ کا نام اسی جغرافیائی مقام ’’فردو‘‘ کے نام پر رکھا جہاں یہ تنصیب تعمیر کی گئی۔ اس کا مقصد غالباً یہی تھا کہ یہ مقام کسی قدرتی پہاڑی سلسلے کے اندر ہونے کے سبب محفوظ بھی رہے اور اس کا نام مقامی جغرافیے سے میل کھائے تاکہ منصوبہ خفیہ رہے۔
یہ پلانٹ ایران کے صوبہ’’قم‘‘(Qom) میں واقع ہے، جو کہ ملک کا ایک اہم مذہبی، تعلیمی اور جغرافیائی مرکز ہے اور دارالحکومت تہران کے جنوب اور اصفہان کے شمال میں واقع ہے، قم شہر فردو کے قریب سب سے بڑا شہر ہے اور یہ پلانٹ قم شہر سے تقریباً 32 کلومیٹر کے فاصلے پر، شمال مشرق کی طرف واقع ہے۔ قم مذہبی تعلیمات اور مرجعیت کا مرکز ہے، اس لیے فردو کی اس مقام پر موجودگی نے مغربی دنیا میں خدشات کو مزید بڑھایا کہ شاید ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو ’’مقدس مقامات‘‘ کی چھتری تلے چھپا رہا ہے۔ اس جگہ کا انتخاب اس کی قدرتی جغرافیائی ساخت، خفیہ مقام، اور اس کے قم جیسے بڑے شہر سے قربت کی وجہ سے کیا گیا، امریکہ و اسرائیل کا ایک مخمصہ یہ بھی تھا کہ اس پلانٹ کو تباہ کرنے سے اگر تابکاری پھیلی تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے مقدس مقامات بھی زد میں آجائیں گے اور شدید عالمی رد عمل سامنے آئے گا، اس لئے جان بوجھ کر معاملے کو طول دیا گیا تاکہ ایران افزودہ یورینیم یہاں سے منتقل کر لے۔
ایرانی فردو ایٹمی پلانٹ گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی سیاست اور سلامتی کے منظرنامے میں اہم مقام کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ بالکل اسی طرح کی افسانوی حیثیت سابق صدر ضیا الحق کے دور میں پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو حاصل ہو گئی تھی، ایران نے یہ پلانٹ 2006 ء میں خاموشی سے پہاڑی علاقے کے نیچے تعمیر کیا، تاہم اس کی موجودگی کا باضابطہ انکشاف ایران نے 2009 ء میں عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو کیا۔ فردو کی خاص بات اس کی ساخت ہے یہ ایک بڑے پہاڑ کے اندر زیر زمین تقریبا ً80 سے 90 میٹر (کم و بیش 300 فٹ) گہرائی میں واقع ہے، جو اسے روایتی اور غیر روایتی فضائی حملوں سے محفوظ بناتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے پاس موجود عام bunker-buster بم بھی اس گہرائی تک موثر انداز میں نہیں پہنچ سکتے، جس کی وجہ سے یہ پلانٹ دفاعی لحاظ سے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔
حالیہ برسوں میں IAEA کی رپورٹس کے مطابق فردو پلانٹ میں 83.7 فیصد تک افزودہ یورینیئم موجود تھا، جو کہ ایٹمی ہتھیاروں کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی کی سطح کے انتہائی قریب ہے۔ ماہرین کا اندازہ تھا کہ ایران اگر چاہے تو موجودہ ذخائر اور تنصیبات کی مدد سے چند دنوں یا چند ہفتوں کے اندر ’’بریک آئوٹ‘‘ مقام حاصل کر سکتا ہے یعنی وہ حد جہاں سے ایٹمی ہتھیار کی تیاری صرف تکنیکی مرحلہ رہ جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز میں ہی فردو پلانٹ پر “GBU-57 Massive Ordnance Penetrator” جیسے طاقتور بم سے حملے کا منصوبہ بنایا اور پھر اس پر عمل بھی کر ڈالا، جی بی یو 57 نان نیوکلیئر ایٹم بم بھی کہلاتا ہے، یہ 30 ہزار پائونڈ طاقت والا بم ہے اور bunker-buster بموں میں سب سے زیادہ گہرائی میں اثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، پینٹاگون کی اندرونی رپورٹوں کے مطابق اس بم کے موثر ہونے پر شبہات تھے۔ حملے کے نتیجے میں ممکنہ علاقائی جنگ اور ایران کی شدید جوابی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر صدر ٹرمپ نے آخری لمحات میں اس منصوبے کو دو ہفتوں کیلئے موخر کر دیا، ایران سے یورپی ممالک کے ذریعے مذاکرات بھی لیکن لیکن ایران ڈٹ گیا۔
امریکہ کے پاس کئی ممکنہ آپشنز زیرِ غور تھے، ان میں روایتی فضائی حملے، اسرائیل کی مدد سے محدود آپریشنز، سائبر حملے، یا ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار کا استعمال شامل تھا۔ سب سے خطرناک اور نتیجہ خیز آپشن ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں کا ہے، جو پلانٹ کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے، لیکن اس کے سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مضمرات عالمی سطح پر خطرناک ہوں گے۔ عالمی سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق اگر امریکہ نے اتوار والے حملے کی ناکامی ڈیکلیئر ہونے پر اس ایٹمی آپشن کو اپنایا تو نہ صرف ایران بلکہ چین اور روس بھی شدید ردعمل دیں گے۔ فردو ایٹمی پلانٹ اب محض ایک فنی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اب یہ مشرقِ وسطی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک آزمائشی لمحہ بن چکا ہے۔ سفارتی حل کی کوشش ناکام ہو چکی، دنیا ایک اور بڑی عسکری مہم جوئی کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں