صحابی رسول ﷺ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ وضو کر رہے تھے جب نبی کریمﷺ نے اُدھر سے گزرتے ہوئے فرمایا ’’یہ اصراف کیوںـ‘‘۔ حضرت سعدؓنے ادب سے پوچھا ’’کیا وضو میں بھی اصراف ہوتا ہے؟‘‘ آپ ﷺ نے جواب دیا ’’ جی ہاں اگرچہ تم بہتی نہر پر ہی کیوں نہ ہوــ‘‘۔ یہ خوبصورت مثا ل ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ رزق اور وسائل کی فراوانی میں بھی وسائل کو اعتدال اور حسبِ ضرورت استعمال کیا جائے۔ یہ پیغام ۳۰ مارچ( عالمی دن برائے زیرو ویسٹ) کے حوالے سے کتنا کلیدی اور کتنا متعلق ہے جسے دنیا ہر طرح کے کچرے یا فضلے سے پاک رکھنے اور اس حوالے سے وسائل کو مناسب طریقے سے استعمال کرنے کے لئے آگاہی دینے کے دن کے طور پر مناتی ہے۔ ۲۰۲۶ ء میں اس عالمی دن کا عنوان ’’ خوراک کا ضیاع‘‘ رکھا گیا ہے۔ خوراک جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں ، یہی خوراک انسان کے ہاتھوں بے وقعت ہو رہی ہے۔نگری نگری یہ نعمت روزانہ لاکھوں ٹن کے حساب سے کوڑے دانوں کی نذر ہو رہی ہے۔یہ محض کھانا نہیں جو ضائع ہوتا ہے، یہ پانی ہے، زمین ہے، محنت اور معیشت ہے ، غذائیت اور مستقبل کی امید ہے جو تلف ہو رہی ہے۔ یہ مسئلہ بڑھ کر اب پوری دنیا کے لئے لمحہ فکریہ بن چکا ہے۔ خوراک کا ضیاع نہ صرف دنیا میں بھوک میں اضافے بلکہ ماحول کو بھی زہر آلود بنانے کا سبب بن رہا ہے۔ ضائع ہونے والی خوراک جب گلتی سڑتی ہے تو میتھین گیس خارج کرتی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھی زیادہ مہلک ہے۔عالمی سطح پرUNEP کی فوڈ ویسٹ انڈیکس رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۲ء میں دنیا بھر میں ۱۰ ارب ٹن خوراک ضائع ہوئی جو صارفین کو دستیاب کل خوراک کا ۱۹ فیصد بنتا ہے۔گھریلو سطح پر یہ ضیاع ۶۰ فیصد تک چلا جاتا ہے جو ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا بڑا سبب ہے۔
دنیا کے کئی ممالک غذائی ضیاع کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ فرانس نے ایک قانون کے زریعے سوپر مارکیٹس پر غیر فروخت شدہ خوراک کو تلف کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے یہ ہدایات جاری کردیں کہ غیر فروخت شدہ خوراک مختلف رفاہ عامہ کے اداروں کے ذریعے مستحق افراد کو پہنچا دی جایا کرے۔ سائوتھ کوریا نے کمرشل اور گھریلو بچی ہوئی خوراک کو جمع کرنے اور اس کو ری سائیکل کرنے کا باقائدہ نظام تشکیل دیا ہوا ہے۔برطانیہ ’’ خوراک سے محبت مگر ضیاع سے نفرت‘‘ کے عنوان سے آگاہی مہم کا آغاز کر کے اب تک غذائی ضیاع کو ۲۵ فی صد تک کم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ تھائی لینڈمیں کچھ ہوٹلوں میں بوفے سے لی گئی خوراک اپنی پلیٹ میں چھوڑ دینے پر پہلے تو آپ کو کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور نہ کھا سکنے کی صورت میں جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے جو تقریبا تین ہزار پاکستانی روپے بنتے ہیں۔یورپی ممالک نے 2030 ء تک غذائی کچرے کو آدھا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
برِصغیر پاک و ہند کو کھانوں کی سرزمین کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دنیا کے بہترین کھانوں اور ذائقوں سے بھرپوریہ خطہ خوراک کے ضیاع میں بھی کسی سے کم نہیں۔ عالمی درجہ بندی کے مطابق چین پہلے، بھارت دوسرے اور پاکستان اس ضیاع میں تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ ا للہ کی عطا کردہ نعمتوں کا تو دانہ دانہ بیش قیمت ہے مگر ہمارے گردوپیش خوراک کی بے قدری اور بے حرمتی کے مظاہرے معمول دکھائی دیتے ہیں، کسی شادی کی تقریب ، دعوت یا بوفے کے بعد کھانوں کی پلیٹس میں بچی ہوئی غذا اپنی ناقدری اور ہماری نا شکری کا نوحہ پڑھتی دکھائی دیتی ہے ۔ اسی طرح کسی فوڈ کورٹ میں لگے ہوئے کچرا دانوں میں جھانکیں تو اس میں پڑا بچا ہوا کھانا ہمیں آئینہ دکھانے کو کافی ہو گا۔ عالمی ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی ۲۰۲۴ء کے جائزے کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریبا ۳۱ ملین ٹن غذا ضائع ہو جاتی ہے جو اتنی مقدار ہے جس سے کراچی اور لاہور کی پوری آبادی کو دو وقت کا کھانا دیا جا سکتا ہے ۔ دوسری طرف بھوک کے عالمی درجہ بندی میں پاکستان کا درجہ ۱۰۶ ہے جہاں ۳۳ فیصد بچوں کی نشوونما مناسب نہیں اور۲۴ فی صد لوگ معتدل یا شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یوں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ غذائی ضیاع دراصل انحطاطِ خوراک کے شکارلوگوں کے مزید استحصال کے مترادف ہے۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق کھیتوں سے منڈیوں اور پھر صارف تک پہنچنے سے پہلے تک کے مراحل کے دوران پھل اور سبزیاں ۳۰ سے ۳۵ فی صد تک ضائع ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات تو جب کسی جنس کی پیداوار زیادہ ہوجاتی ہے تو کسمپرسی کے مارے کسان غیر فروخت شدہ جنس اور اپنی محنت کو بے بسی سے ضائع ہوتے دیکھتے رہتے ہیں مگر کچھ کر نہیں سکتے۔
پاکستان کو کیا کرنا چاہئے؟ سرکاری یا انتظامی اصلاحات و انتظامات سے پہلے خوراک کا یہ ضیاع روکنے کا آغاز ہمیں اپنے آپ ہی سے کرنا ہو گا۔ کھانا اتنا ہی بنائیں جتنا استعمال ہو جائے۔ جہاں بھی کھانے بیٹھیں، اعتدال کے ساتھ کھائیں اورپلیٹ میں اتنا ہی ڈالیں جتنا آپ کھا سکیں۔حکومتی سطح پر اس سلسلے میں مربوط آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ کھانا کھانے کے آداب اور اس کے ضائع ہونے کے نقصانات کی معلومات بچوں کے نصاب میںشامل ہونی چاہئے ۔ خوراک اور اجناس کی ترسیل کے دوران ضیاع کو روکنے کی پالیسیاں بنانی ہوں گی۔ پھلوں اور سبزیوں کے ضیاع کو روکنے کے لئے ویلیو ایڈیشن اور پروسیسنگ کو ترویج دینے کی ضرورت ہے۔ جدید کولڈ سٹوریج کو مضبوط بنانا ہو گا۔ ہوٹلوں، ریستورانوں کے لئے کچھ ضابطے اختیار کرنے ہوں گے۔ شادیوں میں ون ڈش کے قانون کو نافذ کر کے اس پر سختی سے عمل کی بھی ضرورت ہے۔
ان سارے اقدامات کا سب سے اہم نکتہ عوام کی آگاہی اور ان کی شمولیت ہے جس کے بغیر کوئی بھی ہدف حاصل کرنا ایک خواب ہی ہے۔ دنیا نے تو اب آکر اس ضیاع کو اہمیت دی اور آج اس کو حل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے مگر ہمارا دین چودہ سو سال قبل ہی ہمیں اس بارے آگاہی دیتا نظر آتا ہے ۔قرآن مجید میں ارشاد ہے ’’ اور کھائو پیو اور اصراف نہ کرو، بے شک اللہ اصراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ نبیﷺ نے گھر میں روٹی کا گرا ہو ٹکڑا اٹھایا ، صاف کیا اور اسے کھا کر فرمایا ’’ عائشہؓ، عزت والی چیز کی عزت کرو، اللہ کا رزق جب کسی قوم سے چلا جاتا ہے تو واپس نہیں آتا۔‘‘(سنن ابنِ ماجہ)۔اللہ ہمیں رزق کے ایک ایک دانے کی قدر کرنے کی توفیق عطا کرے کہ یقینا نعمتوں کے ضیاع کا ضرور حساب لیا جائے گا۔