Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

اسلام آباد کا ڈبہ پیر اور نیلم پری

جنوبی پنجاب کے دیہات میں اکثر صدیوں پرانا یہ مبینہ واقعہ سنایا جاتا ہے کہ ایک ڈبہ پیر اپنی بصیرت کی آنکھوں کے حوالے سے بہت مشہور تھا، سادہ لوح دیہاتیوں کو مرعوب کرنے کے لئے وہ کوئی نہ کوئی کرتب دکھاتا رہتا اور مریدین کی نگاہوں میں اپنا رتبہ مزید بڑھا لیتا، اس کا ایک مرید کمہار بھی تھا جو اکثر پیر کی دعوت کرتا، کمہار کی بیوی ان دعوتوں سے بڑی تنگ تھی کیونکہ اس کی پالتو دیسی مرغیاں ان دعوتوں میں ذبح کرکے پیر صاحب کی خدمت کی جاتی تھی، ایسی ہی ایک دعوت میں ڈبہ پیر صاحب تشریف فرما تھا، اور اچانک انہوں نے قبلہ رخ ہو کر’’ہش، ہش‘‘شروع کر دی، مریدین نے استفسار کیا تو ڈبہ پیر نے بتایا کہ ایک کتا حرم کعبہ کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ان کی بصیرت والی عالم گیر نظر پڑ گئی اور انہوں نے اسے بھگانے کے لئے یہ آواز لگائی تھی، دعوت پر ڈبہ پیر کے ساتھ آنے والے مریدین نے داد و تحسین کا نعرہ بلند کر دیا۔ گھر میں پیر کے لئے دیسی مرغیوں کا پلا پکاتی بیوی کو کمہار نے جا کر یہ واقعہ سنایا تو وہ بیچاری خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی، کھانے کا وقت ہوا تو اس نے پیر صاحب کے لئے ایک بڑی ڈش میں ڈھیر سارا پلا ڈالا اور اس پر ایک خوبصورت رومال ڈال دیا اور اپنے شوہر سے کہا کہ یہ بڑی ڈش پیر صاحب کے لئے ہے اور چاولوں سے بھری باقی پلیٹیں مریدین کے لئے ہیں، کھانا شروع ہوا تو ڈبہ پیر نے اپنی ڈش پر سے دستر خوان اتارا تو یہ دیکھ کر انہیں سخت غصہ آیا کہ ان کی ڈش سادہ چاولوں سے بھری تھی جبکہ مریدین کی چاولوں کی پلیٹوں میں دیسی مرغی کی دو دو بوٹیاں پلا کے اوپر دھری تھیں، بغیر بوٹیوں والا پلا پیش کیئے جانے پر پیر صاحب جلال میں آ گئے اور کمہار مرید سے بڑے سخت لہجے میں شکوہ کیا، کمہار گھر کے اندر جا کر بیوی سے لڑ پڑا کہ پیر کو بغیر بوٹیوں والا پلا ئوکیوں بھجوایا؟ بیوی نے کہا کہ اس کی ڈش میں تو میں نے چار بوٹیاں ڈالی تھیں، چاولوں کے نیچے آ گئی ہوں گی، کمہار نے پیر صاحب کو آ کر بتایا کہ آپ کی ڈش میں چار بوٹیاں ہیں چاولوں کے نیچے آ گئی ہوں گی، ڈبہ پیر نے جلدی سے ہاتھ مارا تو بات سچ نکلی اور اس کا خراب موڈ درست ہو گیا اور وہ مزہ لے لے کر دیسی مرغ کا پلائو کھانے لگا۔
اسی دوران اچانک افتاد ٹوٹی اور کمہار کی بیوی آگ بگولا ہو کر باہر نکلی اور ڈبہ پیر کو کھری کھری سنا دیں اور کہا۔ ’’پیر سائیں!آپ کو ہزاروں کلومیٹر دور حرم کعبہ کی طرف جاتا کتا نظر آ گیا اپنے سامنے پڑی ڈش میں چاولوں کے نیچے موجود مرغی کی بوٹیاں نظر نہیں آئیں؟‘‘ برسوں پہلے سنا ہوا یہ مبینہ واقعہ ہمیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک عالمی بصیرت رکھنے والے صحافی کا ’’خطاب‘‘سن کر بے اختیار یاد آ گیا کہ جن کی انویسٹی گیٹو جرنلزم کا چار دانگ عالم میں بڑا شہرہ ہے اور وہ بہت سے ورکنگ جرنلسٹس اور سیاستدانوں کے ’’پیر استاد‘‘بھی ہیں۔پیر استاد اپنے وی لاگ میں فرماتے ہیں کہ ’’سندھ کے ائیر پورٹس سے پرائیویٹ جہازوں میں ڈالر بھر بھر کر متحدہ عرب امارات لے جائے جا رہے ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر لے جائے جا رہے اس کالے دھن کا 30فیصد وہاں دوبئی والوں کو دے کر باقی 70 فیصد کو سفید کر کے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی جا رہی ہے اور پھر اس پیسے سے وہاں جائیدادیں خریدی جاتی ہیں یا بزنس میں لگا دیا جاتا ہے‘‘صحافیوں اور سیاستدانوں کے ان پیر استاد کو اسلام آباد سے ہزار ڈیڑھ ہزار کلومیٹر دور کراچی اور سندھ کے ائیرپورٹس سے پرائیویٹ جہازوں پر بھر کر لے جائے جا رہے ڈالرز نظر آ گئے، دو ڈھائی ہزار کلومیٹر دور دوبئی میں ان ڈالرز کی منی لانڈرنگ کے لئے 30فیصد ’’حصہ‘‘ وصول کئے جانے کا عمل بھی انہوں نے اپنی دوربین نگاہوں یعنی چار دانگ عالم پر نظر رکھنے والی اپنی بصیرت والی آنکھوں سے دیکھ لیا، لیکن اپنے گھر، اپنے محلے، اپنے شہر ، اپنے ٹوئن ٹاورز میں ہونے والی کرپشن اور منی لانڈرنگ انہیں نظر نہیں آئی جس کا سلسلہ ون کونسٹی ٹیوشن ایونیو میں بیس اکیس برسوں سے جاری ہے۔ انہیں یہ بھی نظر نہیں آیا کہ وفاقی دارالحکومت میں سیون سٹار ہوٹل کے قیام کے لئے لیز پر لیا گیا ساڑھے 13ایکڑ کے پلاٹ پر 20 سال گذرنے کے باوجود معاہدے کے مطابق ہوٹل تعمیر نہیں کیا گیا، اور اس کی بجائے ٹوئن ٹاورز بنا کر ان میں263لگژری اپارٹمنٹس بنا کر انہیں بیچنا شروع کر دیا گیا، حالانکہ لیز لینے والی پارٹی معاہدے کے مطابق ون کونسٹی ٹیوشن ایونیو میں ہوٹل بنا کر اس کے کمرے اور اپارٹمنٹس کرائے پر دینے کی مجاز تھی، ان اپارٹمنٹس کو آگے فروخت کرنے کا اسے کوئی قانونی حق یا اختیار حاصل نہیں تھا، اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اپنی ناک کے نیچے جاری اربوں روپے کا یہ مالیاتی کرائم ’’پیر استاد‘‘ انویسٹی گیٹو جرنلسٹ کو نظر نہیں آیا اور انہوں نے بھی مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے میں اسی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لئے اور ایک اپارٹمنٹ خرید لیا۔
2005 ء سے شروع ہونے والی میگا کرپشن کی اس داستان پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اس لیئے اسے دہرانا غیر ضروری ہے، لیکن چھوٹے دیہات کے ڈبہ پیر کو جس طرح سامنے ڈش تلے رکھی مرغی کی چار بوٹیاں نظر نہیں آئیں اسی طرح بڑے شہر کے ہمارے ’’پیر استاد صحافی بزرگ‘‘کو اپنے اطراف کے اپارٹمنٹس کی خرید و فروخت کے حوالے سے ’’غیر معمولی سرگرمی‘‘ بھی نظر نہیں آئی، کہ کم و بیش ایک جیسی لوکیشن ، ایک ہی بلڈنگ اور ایک ہی ایریا یعنی ون کونسٹی ٹیوشن ایونیو کے کسی اپارٹمنٹ کو 70لاکھ میں بیچا جا رہا تھا، کسی کو 80 اور 90 لاکھ میں اور کسی کو کروڑ، دو کروڑ میں، جبکہ انہی سے ملتے جلتے فلیٹ 10، 15 اور 18 کروڑ روپے میں بھی فروخت ہوتے رہے!یہ سلسلہ 21سال چار سیاسی جماعتوں ق لیگ، پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور پی ٹی آئی کی جمہوری حکومتوں میں دھڑلے سے جاری رہا اور کئی عشروں سے اسی کونسٹی ٹیوشن ایونیو کے قرب و جوار میں ہی ورکنگ جرنلزم کرنے والے ہمارے صحافی پیر استاد کی انویسٹی گیٹو تھنکنگ نے انہیں اس بات پر نہیں ابھارا کہ وہ سندھ سے دوبئی تک ہزاروں کلومیٹر دور جاری منی لانڈرنگ کرائم جیسا وی لاگ اپنے دامن میں جاری اس غیر معمولی سرگرمی پر بھی کریں۔ ون کونسٹی ٹیوشن ایونیو اسکینڈل ہمارے جمہوری و آئینی سسٹم کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ یعنی ’’ٹپ آف دی آئس برگ‘‘ہے، وگرنہ آئی پی پیز سے کئے گئے بجلی خریداری کے معاہدوں سے لے کر سولر نیٹ میٹرنگ کی حوصلہ شکنی کرنے تک ہمارے کرپٹ بوسیدہ نام نہاد جمہوری نظام کا ہر رنگ ہی نرالا ہے اور جب عالمی بصیرت والے ہمارے ڈبہ پیر اس نام نہاد جمہوریت کے فضائل بیان کرتے ہیں تو اب سخت کوفت ہونے لگتی ہے، شاعر مشرق صدیوں پہلے اس نام نہاد جمہوری سسٹم کو پہچان گئے تھے لیکن ہم نے پیغام اقبال پر کان نہ دھرنے کی قسم کھا رکھی ہے، فرمایا :
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے اسے، آزادی کی نیلم پری
ترجمہ : لوٹ مار (جبر و استبداد)کا عفریت (دیو)، جمہوریت کا خوشنما لباس پہن کر ناچ رہا ہے اور (اے نادان مسلمان!) تو اسے آزادی کی (پیاری) نیلم پری سمجھ کر دھوکہ کھائے چلا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں