میجر عدنان شہید: جرات و بہادری کی لازوال داستان
سپاہی ہمیشہ اپنے وطن کے دفاع کے لیے تیار رہتا ہے، اور اسی جذبے کے تحت میجر عدنان اسلم کو بنوں میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے اپنے فرض کو مردانگی اور دلیری سے
سپاہی ہمیشہ اپنے وطن کے دفاع کے لیے تیار رہتا ہے، اور اسی جذبے کے تحت میجر عدنان اسلم کو بنوں میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے اپنے فرض کو مردانگی اور دلیری سے
ہر انسان ایک خواب دیکھتا ہے‘اپنے ذاتی گھر کا خواب۔ ایسا مکان جو صرف اینٹ اور گارے کا ڈھانچہ نہ ہو بلکہ تحفظ، خوشی اور پائیداری کا استعارہ ہو۔ ایک ایسا آشیانہ جہاں اس کا خاندان عزت و وقار کے
پاکستان کی آزادی کی پہلی صبح سے ہی یہ قوم استقامت کی نگہبان بنی رہی ہے۔ بارہا ایسے امتحانات آئے جو اس کے حجم، وسائل اور عمر سے کہیں بڑے تھے، مگر ہر بار پاکستان نے وہی جواب دیا—یہ ملک
رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ صرف واقعات کا ایک تاریخی ریکارڈ نہیں، بلکہ ہر دور کی انسانیت کے لیےایک لافانی خزانہ ہدایت ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی وحیِ الٰہی کی براہِ راست روشنی میں بسر ہوئی،
اللہ ربّ العزت نے اپنی لامحدود رحمت اور حکمت کے تحت ہمارے جدِ امجد حضرت آدم علیہ السلام اور امّاں حوّا کو اس دنیا میں بھیجا تاکہ انسانیت کا آغاز ہو اور تہذیب و تمدن کی کہانی شروع ہو۔ لیکن
حالیہ دنوں میں بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے پانی نے پنجاب کی سرزمین کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ طوفانی سیلاب اپنے ساتھ ایسی تباہی لایا ہے کہ جسے الفاظ میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ بستیاں صفحہ ہستی
پاکستان نے اپنی تخلیق کے ساتھ ہی، اگست 1947 سے، اپنی دفاعی قوت کو مضبوط بنانے کا عزم کر لیا تھا۔ نو زائیدہ ریاست اپنے مشرقی ہمسائے کی جانب سے لاحق خطرات سے بخوبی آگاہ تھی اور اسی لیے اس
پاکستان نے اپنی تخلیق کے ساتھ ہی، اگست 1947 سے، اپنی دفاعی قوت کو مضبوط بنانے کا عزم کر لیا تھا۔ نو زائیدہ ریاست اپنے مشرقی ہمسائے کی جانب سے لاحق خطرات سے بخوبی آگاہ تھی اور اسی لیے اس
جنوبی ایشیا ء کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کبھی مکمل ہم آہنگی کا روپ نہ دھار سکے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی کابل نے اسلام آباد کو ایسے امتحانات میں ڈالا
پاک۔امریکہ تعلقات کی تاریخ کسی پرانے رشتے کی طرح ہے جس میں محبت بھی رہی، بے اعتمادی بھی اور وقتاً فوقتاً مایوسی بھی۔ کبھی یہ تعلقات قریبی دوستی کی مانند لگتے ہیں تو کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ فریقین