قائداعظم محمد علی جناحؒ، پاکستان کےبانی، ایک ایسےمدبر رہنما تھے جن کے فیصلے وقتی سیاسی فائدےکےبجائے اصول، بصیرت اوراخلاقی جرات پرمبنی ہوتے تھے۔ اُن کے بےشمار تاریخی فیصلوں میں سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے واضح انکار کرناایک ایسا نمایاں فیصلہ ہے جو اُن کی دور اندیشی اور حوصلے کی علامت بن گیا۔جب دنیا کی کئی طاقتیں سیاسی دباؤ یا وقتی مفاد کے تحت اسرائیل کے قیام کو قبول کر چکی تھیں، قائداعظمؒ نے انصاف، فلسطین کے حقِ خودارادیت اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
14 مئی 1948کو اسرائیل کے قیام کا عمل درحقیقت ایک طویل اور متنازعہ سفر کی تکمیل تھا جو کئی عشروں پہلے شروع ہوا تھا۔ 2 نومبر 1917 کو جاری ہونے والا بالفور ڈیکلریشن، جو برطانوی وزیرخارجہ آرتھر بالفور کابرطانوی یہودی برادری کے رہنما لارڈ والٹر روٹشیلڈ کے نام ایک رسمی خط تھا، جس نے عرب زمینوں میں ایک بھونچال کی بنیاد رکھی۔ اس خط میں برطانوی حکومت نے ”فلسطین میں یہودی قوم کے لیےقومی وطن کےقیام” کی حمایت کا اظہارکیا تھا۔ عالم اسلام کے لیے یہ محض ایک علاقائی تبدیلی کا معاملہ نہیں تھا؛ بلکہ یہ غصب اور بے دخلی کا سوال تھا، جہاں صدیوں سے اپنے وطن میں رہنے والے لوگوں کو منظم طریقے سے انکے حقوق سے محروم کیاجارہاتھا۔ قائداعظم، جو اس تاریخی کھیل کے تمام پہلوؤں سے بخوبی آگاہ تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اسرائیل کی پیدائش فلسطینیوں کے لیے المیہ اور وسیع تر مسلم امہ کے لیے خطرہ لے کر آئے گی۔
1939 میں فلسطین پرگول میز کانفرنس کے دوران محمد علی جناح نے چوہدری خلیق الزمان اور عبدالرحمن صدیقی کو فلسطینیوں اور مفتی امین الحسینی کی حمایت کے لیے بھیجا تھا۔ اسی سال جولائی میں محمد علی جناح نے برطانوی وائٹ پیپر پر ایک ریاست کی تجویز پر تنقید کی اور یہودیوں کی امیگریشن کو محدود کر دیا، اس کے بجائے عرب مطالبات کو حل کرنے کی وکالت کی۔ انہوں نے سپریم عرب کونسل کی حمایت کا وعدہ کیا، فلسطین فنڈ کا آغاز کیا اور مارچ 1940 میں تاریخی لاہور اجلاس میں اپنے موقف کی توثیق کی۔جب اسرائیل نے اپنی آزادی کا اعلان کیاتواُس وقت پاکستان خود نوزائیدہ ریاست تھی، جسے ہجرت،فسادات اورکمزور معیشت جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ لاکھوں بےگھر ہو چکے تھے،فرقہ وارانہ فسادات کے زخم تازہ تھے۔ اس کے باوجود قائداعظمؒ نے فلسطین کے معاملے پر گہری توجہ دی۔
26 اگست 1947 ء کو پاکستان کے قیام کےچند ہی روز بعد فلسطین کمیٹی کے رہنما حاج امین الحسینی نے ایک وفد کے ہمراہ قائداعظمؒ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر قائداعظمؒ نے انہیں یقین دلایا کہ پاکستان عرب دنیا کے ساتھ کھڑا رہے گا اور فلسطینی عوام کے خلاف کسی غیرملکی پشت پناہی والی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا۔ پاکستان ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ان کا یہ موقف نہ تو جذباتی تھا اور نہ ہی کوئی اچانک ردعمل،یہ اصولوں اور پختہ یقین پر مبنی تھا۔ قائداعظم نےاس مسئلے کوانصاف اوربین الاقوامی اخلاقیات کی عینک سےدیکھا۔ ان کےنزدیک، اسرائیل ایک ایسی ریاست کی تصویرتھی جسے مقامی آبادی کو بزور بےدخل کرکے،استعماری چالبازیوں کے ذریعے تراشا گیاتھا اورجسے مشرق وسطیٰ پر اپناتسلط قائم کرنےکی خواہشمند مغربی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔ ایک ایسے رہنماکے لیے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے اپنی تقدیر خود متعین کرنےکےحق کی خاطر اتنی جدوجہد کی تھی، فلسطینیوں سے اسی حق کی نفی کو قبول کرنا ناممکن تھا۔
قائداعظمؒ نے اس مؤقف کو عالمی سطح پربھی پیش کیا۔ اقوامِ متحدہ کی طرف سے فلسطین کی تقسیم کے فیصلے پر انہوں نے امریکی صدر ہیری ٹرومین کو ایک ذاتی اور فوری پیغام بھیجا۔ اُس ٹیلیگرام میں انہوں نے اس فیصلے کو قانونی طور پر غلط اور اخلاقی طور پرناقابلِ دفاع قراردیا۔ انہوں نےخبردارکیا کہ اگر عرب اقوام کی مرضی کےبغیر تقسیم مسلط کی گئی تو اسے نافذ کرنا ناممکن ہوگا اور یہ خطہ دیرپا عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ قائداعظمؒ نے امریکی عوام کو اُن کے انصاف کے اصول یاد دلاتے ہوئے اپیل کی کہ وہ عرب عوام کے حقوق کی حمایت کریں تاکہ عالمی امن کو خطرے سے بچایا جا سکے۔
48۔ 1947 کے واقعات نے قائداعظمؒ کے خدشات کو درست ثابت کر دیا۔ اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد پہلی عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی، فلسطینی بستیوں کو مسمار کیا گیا، لاکھوں افراد بےگھر ہوئے اور بیت المقدس جنگ کا مرکز بن گیا۔ یہ ظلم و المیہ پوری مسلم دنیا کے دل پر ایک گہرا زخم چھوڑ گیا۔اسی دوران اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مندوب سر ظفراللہ خان نے فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کی سخت مخالفت کی۔ اُن کی تقریر قائداعظمؒ کے اصولی مؤقف کی عکاسی تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے عالمی سطح پر ایک واضح پیغام دیا کہ وہ کسی ایسی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا جو ظلم و ناانصافی کی بنیاد پر وجود میں آئی ہو۔قائداعظمؒ کےفیصلےکاایک پہلو اُن کی سیاسی بصیرت بھی تھا۔ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کو تاریخ کے ایک غیرمنصفانہ عمل میں شریک کردےگا اور اسے مسلم دنیا سےجدا کر دے گا۔ وہ جانتے تھے کہ ایک مغربی پشت پناہی والی ریاست کو عرب دنیا کے قلب میں بٹھانا دراصل وہاں کے عوام کی خودمختاری اور آزادی پر ایک مستقل وار ہے۔پاکستان، جو خود نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آیا تھا، کسی ایسےاقدام کاحصہ کیسے بن سکتا تھا جو دوسرے مظلوم مسلمانوں کےحقِ خودارادیت کو کچلنے کا باعث بنتا؟ قائداعظمؒ کے نزدیک یہ فیصلہ ایمان اور اصول کا امتحان تھا، اور انہوں نے تاریخ کے اس امتحان میں سرخرو ہو کر دکھایا۔قائداعظمؒ کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا کسی قوم سے دشمنی نہیں بلکہ انصاف، مظلوموں کے حقوق اور امتِ مسلمہ کی عزت کے تحفظ کے لیے تھا۔