بہاولپور ڈویژن کے صحرائے چولستان کو نظرانداز کرنے کے حوالے سے ماضی میں بہت کچھ لکھا اورکہاجاتا رہا ہے، ایسے دور دراز علاقوں کے مسائل کے حل کیلئے ملتان اور بہاولپور میں جنوبی پنجاب پبلک سیکرٹریٹ بھی بنالیکن بات نہ بن سکی،لیکن اب جب سےپنجاب کی ایک بیٹی وزارت اعلیٰ کے منصب پرفائز ہوئی ہے تو’’تخت لاہور‘‘صوبے کےدوردراز اور نظر انداز کیے گئےعلاقوں کوبھی ترقی وخوشحالی کےسفرمیں ساتھ لےکرچل رہا ہے، لیکن افسوس ہے ان حلقوں کی تنگ دلی اور کنجوسی پر کہ وہ اس بڑی اور مثبت تبدیلی کا اعتراف کرکے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نوازشریف کی انتھک کاوشوں کوسراہنےمیں جھجک محسوس کررہےہیں تاکہ کہیں ان کے احساس محرومی والے بیانیہ کو ٹھیس نہ پہنچ جائے، تین صوبوں کے سنگم پر پنجاب کی ٹیل کے دو اضلاع راجن پور اور رحیم یارخان میں 25 برسوں سے ناسور بنا ہوااغوا برائے تاوان کا مسئلہ مریم نوازشریف کی وزارت اعلیٰ میں چند ماہ کے اندر مستقل طور پرحل ہوگیا ہےاور95 فیصدسے زائد ڈاکو اور اشتہاری سرنڈر کرچکے ہیں اس دوردرازعلاقے میں امن و امان کےقیام سےنہ صرف کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوچکی ہیں بلکہ تعمیر و ترقی کے نئےسلسلےکابھی آغازہوگیا ہے۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ نےجو الیکٹرک گرین بس سروس متعارف کروائی ہےاس کا ایک روٹ چولستان کے دامن میں واقع ابوظہبی پیلس اڈہ سے رحیم یارخان شہر کے وسط تک ہے،اس ایریا کے سینکڑوں چکوک اور بستیوں کے غریب اور متوسط طبقے کے لوگ روزانہ بنیادوں پر اپنی ملازمتوں اور کام کاج کے سلسلے میں شہر آتے ہیں، یہ سفر وہ عموماموٹرسائیکل رکشہ پرکرتے آئے ہیں جسےعرف عام میں چنگ چی اورچاند گاڑی کہاجاتا ہے، روزانہ بنیادوں پران کا ایک طرف کا کرایہ 70 سے 100 روپے بنتا ہے،گویا صبح کام پر آنے اور شام کو گھر واپس جانے پر 200 روپے کے لگ بھگ خرچ ہوجاتے رہے ہیں۔
گرین الیکٹرک بس وزیر اعلیٰ نےخواتین اوربچوں کیلئےپہلےروز سے فری کر رکھی ہے، ایران امریکہ اسرائیل جنگ کی وجہ سے جب سے ڈیزل و پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی بڑھی ہے،مردوں کیلئے بھی یہ سفر مفت کر دیاگیا ہے گویا ایک شخص کو پانچ سے چھ ہزار روپے ماہانہ کافائدہ،اور اگرگھر کے تین چارافراد بھی ملازمت، کام کاج یا مزدوری کیلئے روزانہ شہر آتے ہیں تو فی گھرانہ 15 سے 20 ہزار روپےکی بچت ،ایسے ہی کئی روٹ ضلع رحیم یارخان کے دیگر پسماندہ دیہی علاقوں اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں خدمت خلق کےاس بڑے سلسلے کوجاری رکھے ہوئے ہیں اور مزید سینکڑوں بسوں کی آمد پر نئے روٹ بھی شروع کئےجانے کا پروگرام ہے،کچہ ایریا اور چولستان ایریا کے عوام کو ان روٹس کی بدولت آرام دہ اور ائیرکنڈیشنڈ ماحول میں مفت سفرکی سہولت مہیاکرناخدمت کی سیاست اور خدمت کی حکومت کاصرف ایک رخ ہے،جب ہم موجودہ صوبائی حکومت کے ایک کے بعد ایک سامنے آنے والے ایسے فلاحی اقدامات پر نظر دوڑاتےہیں تو بےاختیارشاباش مریم نواز شریف کہنے کو دل کرتا ہے، اس موقع پر خاتون آہن وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کی ٹیم کیلئے دل سے دعا نکلتی ہےکہ اللہ کرےزورقدم اور زیادہ۔قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر چوہدری محمدجعفر اقبال گجراوررحیم یارخان کی تاجر و صنعتکار برادری کے سرپرست اعلیٰ حاجی محمد ابراہیم اس ضلع میں مسلم لیگ ن کے متحرک ترین رہنمائوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ضلعی موبائل امن کمیٹی رحیم یارخان کےچیئرمین علامہ عبد الرف ربانی جے یو آئی (ف) کے ضلعی امیر بھی ہیں، حال ہی میں رحیم یارخان پریس کلب کے وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کے دوران بات چل نکلی صوبے کے دور دراز اضلاع کے احساس محرومی والے بیانیہ اور ملتان و بہاولپور میں بنائے گئےجنوبی پنجاب پبلک سیکرٹریٹ کی طرف تو ان رہنمائوں نے کمال کی مدلل گفتگو کی اور کہا کہ آپ کو اندازہ نہیں کہ وزیراعلیٰ کا منصب کتنا پاورفل ہوتاہے، صوبے میں گڈگورننس یقینی بنانےکاجذبہ ہو اور وزیر اعلیٰ کو پولیس اور بیوروکریسی سے کام لینے کا ہنر آتاہو تو وہ مختلف سیکرٹریٹوں کا محتاج نہیں ہوتا، ان شخصیات نے دو ہمسایہ ممالک کی مثالیں دے کر سب کو لاجواب کردیااورکہاکہ بھارت کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش کی آبادی 25 کروڑ کے لگ بھگ ہےیعنی پورےپاکستان کی ابادی کے برابر، اور وہاں ایک وزیراعلیٰ ایک سیکرٹریٹ کےذریعےہی پورے سسٹم کو چلا رہا ہے، بھارت کے دیگر صوبوں مہاراشٹر کی آبادی 13 کروڑ، بہارکی آبادی 12 کروڑ،مغربی بنگال کی آبادی 10 کروڑ، مدھیہ پردیش کی آبادی 9 کروڑ ، تامل ناڈو اور راجستھان کی آبادی آٹھ آٹھ کروڑ ہے لیکن وہاں 77 سالوں سے بڑی آبادی یا صوبے کے وسیع و عریض ہونے کو انتخابی سیاست کی بنیاد نہیں بنایاگیا اوراصل انتخابی ایشو ہمیشہ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر مرکوز رہتے ہیں۔ چین کے صوبوں گوانگ ڈونگ کی آبادی 15 کروڑ، شین ڈونگ کی 12 کروڑ، ہی نان کی بھی 12 کروڑ، جیان سو اور سیچوان کی دس دس کروڑ سے زائد ہے لیکن زیادہ آبادی اور وسیع رقبہ چین میں بھی گڈ گورننس اور تیزرفتار ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں بنا، پھر کچھ پاکستانیوں کی سوئی صرف اسی ایک ایشو پر کیوں اٹکی رہی سمجھ سے بالاتر ہے۔ بھارت میں سب سے بڑے صوبے اتر پردیش کی آبادی 25 کروڑ اور عوام کے تناسب سے سب سےچھوٹے صوبوں سکم کی آبادی7 لاکھ،میزورام کی 12 لاکھ اور اروناچل پردیش کی 15 لاکھ ہے اور آبادی کے اس بے پناہ فرق نے بھی بھارتی جمہوریت کے وفاقی ڈھانچےکو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، کم و بیش یہی صورتحال چین میں بھی ہے، اس کے عوام کی تعداد کےحوالے سےچھوٹےصوبوں تبت کی آبادی 40 لاکھ اور چنگ ہائی کی 60 لاکھ ہےاور وہاں بھی 15 کروڑ والےصوبے گوانگ ڈونگ اور 12 کروڑ آبادی والے صوبے شین ڈونگ کو کوئی مسئلہ نہیں اور ترقی و خوشحالی کے سفر میں صوبے کی بڑی آبادی بالکل حائل نہیں، پاکستان میں آبادی اور نسلی و لسانی بنیادوں پر بڑے صوبوں میں گڈ گورننس ناممکن یاصوبوں کی آبادی میں بڑےفرق کی وجہ سےحقیقی جمہوریت ناممکن ہونے کا بیانیہ چلانے والوں کے اعتراضات ان مثالوں نے ’’تہہ تیغ‘‘کر دیئے۔