سونے کی چمک اور معاشرتی تلخیاں
سونا انسانی تاریخ میں محض ایک دھات نہیں بلکہ احترام، وقار اور نفسیاتی تحفظ کی ایسی علامت رہا ہے جس کا مقابلہ بہت کم چیزیں کر سکتی ہیں۔ تہذیب کے ابتدائی آثار سے ہی انسان اس کی چمک، دائمی پاکیزگی
سونا انسانی تاریخ میں محض ایک دھات نہیں بلکہ احترام، وقار اور نفسیاتی تحفظ کی ایسی علامت رہا ہے جس کا مقابلہ بہت کم چیزیں کر سکتی ہیں۔ تہذیب کے ابتدائی آثار سے ہی انسان اس کی چمک، دائمی پاکیزگی
اگرچہ جنوری کے وسط میں یخ بستہ ہوائیں پوری شدت کے ساتھ چلتی ہیں اور پارہ نقط انجماد کے خطرناک حد تک قریب جھکتا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر یہی وہ موسم ہوتا ہے جب یادیں غیر معمولی شدت کے
آج کے دور میں میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا، اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود ایک ایسی طاقت بن چکا ہے جو ہماری حقیقت کو تشکیل دیتا اور ہماری زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ ہر فرد، جس کے ہاتھ میں ہتھیلی
جب آخرکار شعلے دھوئیں میں تحلیل ہو گئے تو گل پلازہ ایک عمارت نہیں رہا، بلکہ کراچی کے وجود پر ثبت ایک ایسا زخم بن گیا جو وقت کے مرہم کو بھی قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ فضا
گرین لینڈ، جسے صدیوں تک معلوم دنیا کے کنارے پر برف کی خاموش وسعت سمجھا جاتا رہا، آج عصری عالمی سیاست کی بساط پر ایک نہایت اہم مہرے کے طور پر ابھر آیا ہے۔ جو خطہ کبھی ناقابلِ رہائش اور
بچپن میں اگر ہم کسی کام سے گھر سے نکلتے اور مقررہ وقت پر واپس نہ لوٹتے تو پورا گھر ایک خاموش بے چینی میں ڈوب جاتا۔ مائیں ٹہلنے لگتیں، باپ بار بار دروازے کی طرف نگاہ ڈالتے اور جب
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا شمار ممکن نہیں اور جن کی حقیقت تک انسانی عقل مکمل طور پر رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید انسان کو
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی زیرِ قیادت پاکستان کی مسلح افواج کا دور ایک ایسے نادر امتزاج کا عکاس ہے جس میں عسکری وقار، سفارتی سرگرمی اور ابھرتے ہوئے معاشی امکانات یکجا دکھائی دیتے ہیں۔ 7 تا 10
تخلیقِ کائنات کے اولین لمحے سے یہ عالم ایک خدائی توازن کے تحت رواں دواں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات کو وجود بخشا اور ہر ایک کے لیے اس کا دائرہ حیات اور رزق متعین فرمایا۔ خشکی پر
ایک زمانہ تھا جب مہینے میں ایک بار سنیما جانا خاندانی تفریح کی ایک صحت مند روایت سمجھا جاتا تھا۔ 1970ء کی دہائی میں اردو اور پنجابی فلموں میں ایسی کشش، جان داری اور اخلاقی وضاحت موجود تھی جس کا