(گزشتہ سے پیوستہ)
حدیث قدسی میں فرمایا ’’ثم اوفیھالکم‘‘۔ پھر وہی اعمال تمہیں پورے پورے واپس کرتا ہوں، یعنی ان پر ایکشن بھی لیتا ہوں۔یعنی کوئی بھی مصیبت آنے پر اپنی حرکتیں تلاش کرو کہ تم نے کہاں غلطی کی تھی۔
اس اصول کے دائرے میں آج ہم جن مصیبتوں میں پھنسے ہوئے ہیں، ہمیں ان کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہم قومی سطح پر اس صورتحال سے دوچار ہیں کہ ایک عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ غریب طبقہ بلکہ اب تو متوسط اور مڈل کلاس بھی مصیبت میں پھنسی ہوئی ہے۔ آج ہم قومی سطح پر جس سب سے بڑی مصیبت کا شکار ہیں وہ یہ ہے کہ ہم پھر سے غلام ہو گئے ہیں۔ آج ہماری معیشت کا کنٹرول ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہے۔ وجہ صرف یہ کہ ہم نے ان سے بے انتہا قرضے لے رکھے ہیں۔ اگلا سوال یہ ہے کہ وہ قرضے کہاں ہیں؟ کس کی جیب میں گئے ہیں؟ غریب آدمی ، عام آدمی کو کیا ملا ہے؟ یہاں تو مڈل کلاس کو بھی کچھ نہیں ملا۔ وہ لوگ جنہوں نے قرض ہڑپ کیے ہیں، وہ آج بھی عیاشیاں کر رہے ہیں۔ یہ سب کیوں ہے؟ اس کے اسباب پر نظر کرنی چاہیے۔ پاکستان بننے سے پہلے کی باتیں چھوڑیں، پاکستان بننے کے بعد ہم نے یہ طے کیا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے سٹیٹ بینک کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ ہم معیشت اسلامی اصولوں کے مطابق چلائیں گے، مغرب کے اصولوں پر نہیں چلیں گے۔‘‘ قائد اعظم کا یہ اعلان ان کی وفات کے بعد کہاں گیا؟ ہم نے کیا کیا؟ ہم آج تک سود سے نجات حاصل نہیں کر سکے۔ کیا ہم نے سود سے نجات حاصل کرنے کے لیے کبھی سنجیدہ کوشش بھی کی ہے؟ دستور کہتا ہے سود ختم کریں گے، قائد اعظمؒ کہہ گئے کہ ہم مغربی معیشت کے اصولوں پر نہیں چلیں گے، عدالت کہتی ہے کہ سود پر نہیں چلنا۔ لیکن سب اسی ڈگر پر چل رہے ہیں، کون نہیں چل رہا؟
چند روز قبل سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس صلاح الدین صاحب نے صوبائی محکمہ داخلہ کو آرڈر جاری کیا کہ پرائیویٹ سطح پر جو سود کا کاروبار کرتے ہیں ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرو، ان کو پکڑو، ان پر مقدمہ چلاؤ اور سزا دو۔ میں کہتا ہوں کہ ٹھیک ہے۔ لیکن کیا جو سود پرائیویٹ ہو وہ لعنت ہے اور جو سرکاری ہو وہ رحمت والا ہے؟ میں تلخ باتیں کر رہا ہوں لیکن حقیقت حال یہی ہے کہ ایک عام آدمی سود کا کاروبار کرے تو اس کے خلاف قانون ہے کہ یہ ظلم ہے، زیادتی، لعنت اور نحوست ہے۔ اور بینک سود کا کاروبار کرے تو وہ عدل اور رحمت ہے؟ نہیں بلکہ وہ دستور کے خلاف، عدالت کے فیصلے کے خلاف، پاکستان کے قیام کے مقصد کے خلاف ہے۔ میں اپنے گھر میں سارے محلے کا گند اکٹھا کر لوں اور پھر کہوں کہ بدبو کیوں آتی ہے؟ اسٹیٹ بینک ہم نے آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے۔ تالا ہمارا ہے لیکن چابی ان کے پاس ہے۔ ہم عملی طور پر غلام قوم ہو کر رہ گئے ہیں۔ جب تک ہم سود کی لعنت سے نجات حاصل نہیں کریں گے، بہتری نہیں آئے گی۔
ہم نے پاکستان کے نام پر الگ ملک کیوں حاصل کیا تھا؟ یہ کہہ کر کیا تھا کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتے ہمیں الگ ملک چاہیے۔ ہم ہندوؤں کے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے؟ اس لیے کہ ان کی تہذیب الگ ہے، ہماری تہذیب الگ ہے، ان کا کلچر اور ثقافت الگ ہے ہمارا الگ ہے، ان کا دین الگ ہے ہمارا دین الگ ہے۔ اس بنیاد پر قوم اکٹھی ہوئی اور اس بنیاد پر ہم ہندوستان سے الگ ہوئے۔ لیکن الگ ہو کر ہم نے کیا کیا؟ ہم ہندوانہ تہذیب سے بچ کر اپنی تہذیب اپنانے کے لیے الگ ہوئے تھے یا ان سے الگ ہو کر مغربی تہذیب میں ضم ہونے کے لیے الگ ہوئے تھے؟ ہم ایک تہذیب کے دائرے سے الگ ہو کر دوسری تہذیب میں گھسے ہیں۔ آج ہم پر کون سی تہذیب اور کس کی ثقافت مسلط ہے؟ کیا ہم اپنے آقا کو تبدیل کرنے کے لیے الگ ہوئے تھے کہ ہمیں یہ مالک نہیں یہ مالک چاہیے۔
ہم نے پاکستان بنتے ہی ’’قرارداد مقاصد‘‘ میں یہ طے کیا تھا جس پر پوری قوم متفق تھی کہ ہم یہاں قرآن و سنت کی بالادستی قائم کریں گے۔ یہاں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہو گی اور بالادستی قرآن و سنت کی ہو گی۔ ہم میں سے کس نے اس معاملے میں سنجیدگی دکھائی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلیں گے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کا کون سا حکم مانا ہے؟ میں قومی سطح پر بات کر رہا ہوں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور قرآن و سنت کی بالادستی کا کون سا کام کیا ہے؟ ہم نے اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ زبانی نہیں بلکہ لکھ کر کیا ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہو گی اور بالادستی قرآن و سنت کی ہو گی۔ لیکن ہم پچھتر سال سے کیا جھک مار رہے ہیں۔
۱۹۷۳ء میں ہم نے دستور بنا کر نافذ کیا اس میں صراحتاً لکھا ہوا ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں ہو گا۔ لیکن قرآن و سنت کے مطابق ہم نے کون سا قانون نافذ کیا ہے؟ ہمارا کون سا قانون شریعت کے مطابق ہے؟ ہمارا کون سا محکمہ اور کون سا ادارہ شریعت کے مطابق ہے؟ خدا سے ہم یہ وعدے کر رہے ہیں اور حال ہمارا یہ ہے؟
ہم آج پریشان ہیں کہ ہم مصیبت میں ہیں۔ یہ مصیبتیں دراصل ہماری حرکتوں کا ردعمل ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں ’’بما کسبت ایدیکم‘‘ تمہاری مصیبتیں تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اپنی حرکتوں پر غور کرو، جب تک خود نہیں بدلو گے نظام ٹھیک نہیں ہو گا۔ اس لیے ہمیں اپنی حرکتیں بدلنی ہوں گی، اپنے اعمال پر نظرثانی کرنا ہو گی، اللہ اور رسول کے ساتھ کمٹمنٹ کی پاسداری کرنی ہو گی۔ ہم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ بدعہدی کر رہے ہیں۔ ہم بحیثیت قوم بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، نہ عدلیہ، نہ انتظامیہ، نہ اسمبلی اور نہ معاشرہ کے مختلف طبقات۔ ہمارا آخری جملہ یہ ہوتا ہے کہ یا اللہ تو مہربانی کر دے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ازخود نہیں کروں گا۔ یہ بات بھی قرآن مجید میں ارشاد فرما دی، اللہ تعالیٰ نے کوئی بات ابہام میں نہیں چھوڑی ’’ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم‘‘ اللہ پاک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک قوم اپنی حالت بدلنے کا خود فیصلہ نہ کر لے۔ صاف اعلان کر دیا کہ بدلنے کا فیصلہ تم نے کرنا ہے اور اس کی توفیق میں نے دینی ہے۔
آج ہم بے شمار مصائب کا شکار ہیں جن کی فہرست گننا بھی مشکل ہو گئی ہے کہ ہم ملکی اور قومی سطح پر کن مسائل کا شکار ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہم ایک دفعہ پھر غلامی میں چلے گئے ہیں۔ کل کچھ دوست آئے کہ ہم نے بجلی کے بلوں کے خلاف مظاہرہ کرنا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ہم حمایت کریں گے۔ بجلی کے بلوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، آپ احتجاج کریں یہ آپ کا حق ہے، میں حمایت کا اعلان کروں گا۔ لیکن یہ مظاہرہ ہم نے کس کے خلاف کرنا ہے؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ پالیسی کون بناتا ہے؟ اس کے لیے آپ کو آئی ایم ایف اور بین الاقوامی اداروں کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا۔ میں حکمرانوں سے بھی یہ عرض کر رہا ہوں اور آپ سے بھی کہ جب تک ہم آئی ایم ایف کے خلاف دوٹوک موقف اختیار نہیں کریں گے، حالات بہتر نہیں ہوں گے، چاہے ہم ہزاروں جلوس نکال لیں۔ کیونکہ چابی ان کے ہاتھ میں ہے اور فیصلے وہ کرتے ہیں۔ اور یہ کسی سے مخفی نہیں ہے سب کو پتہ ہے کہ ہم میں سے کس کس کو باہر کے بینکوں میں کتنے کتنے ڈالر چاہئیں اور ملکی بینکوں میں کتنے ڈالر چاہئیں۔ کس کس کو ریلیف، سہولت اور کس کس کو کرسی چاہیے۔ جن کے ہاتھ میں باگ ڈور ہے وہ اسی کھیل میں لگے ہوئے ہیں باقی پوری قوم جکڑی ہوئی ہے۔
ان مصائب کا ایک ہی حل ہے کہ ہم اللہ اور رسول کے ساتھ وفاداری کی طرف واپس آئیں، ورنہ ہم یہی کچھ بھگتتے رہیں گے۔ جو وعدے ہم نے خدا اور رسول سے اپنے دستور میں کر رکھے ہیں، وہ پورے کریں ورنہ خالی دعوے کچھ نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ تم میرے ساتھ جیسے رہو گے میں ویسے ہی رہوں گا، تم اپنا کام کرو، میں اپنا کروں گا۔ حضرات! آج میں نے کچھ تلخ باتیں اس لیے کی ہیں کہ ہم پتوں اور ٹہنیوں پر لڑ رہے ہیں۔ اصل چیز ملک کی آزادی اور دین کے ساتھ وفاداری ہے۔ جب تک ہم قومی خودمختاری، دین کے ساتھ وفاداری اور دستور پر عملداری کے لیے اکٹھے نہیں ہوں گے اور آواز نہیں اٹھائیں گے ، بات نہیں بنے گی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائیں، آمین۔