مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا تھا۔تاریخ عالم کی سب سے بڑی ناانصافیاں میدان جنگ کے بعدعدالت کے ایوانوں میں ہی ہوئی ہیں۔دنیا کے مقدس بانیان سے لے کر سائنس کے محققین اور مکتشفین تک کوئی بے باک اورحق پسند جماعت نہیں ہے جومجرموں کی طرح عدالت کے سامنے کھڑی نہ کی گئی ہو ۔
وہ لوگ عظیم ہوتے ہیں جو اپنے عہد تو کیا مستقبل کی نبضوں پر بھی انگلیاں رکھ کر جیتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کی پیشین گوئیاں قوموں کو تاریخ ساز لمحات دکھاتی ہیں ۔ ہماری چھہتر سالہ تاریخ بارے کتنی ہی پیشین گوئیاں سچی ثابت ہوچکی ہیں اور کتنیوں پر سے پردہ اٹھنا ابھی باقی ہے ۔
چھ معزز ججز کا ایک ایسی حقیقت پر سے پردہ اٹھانا جس پر بادی النظر میں بارہا تذکرہ کیا گیا ، مگر کسی نے اس سچ کو تسلیم نہ کیا اور آج خود ججز اپنا مقدمہ لئے انصاف کے کٹہرے میں آن کھڑے ہوئے ہیں ، یہ تو اچھا ہوا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس عیسی فائز ہیں جو عدلیہ کی آزادی کے سب سے بڑے علمبردار رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے کندھوں پر بہت بڑا بوجھ اٹھا لیا ہے اور وہی اس کوسہار بھی سکتے ہیں ۔انہوں نے چھ جسٹسز کی طرف سے لکھے گئے خط کا فوری نوٹس لیا ہے اور معاملہ عدالت میں اٹھا بھی دیا ہے کہ آخر معزز ججز کو جس وبال کاسامنا ہے اسے وقت پر نمٹا کیوں نہ لیا جائے ۔ججز جو کل تک دبائو کا شکار تھے اور لکھے ہوئے فیصلے پڑھنے تک محدود تھے آج انہوں نے اپنا جگر چاک کرکے رکھ دیا ۔اب جو لوگ یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ ان ججز نے ڈائریکٹ چیف جسٹس کو ایڈریس کیوں نہیں کیا ؟ سپریم جوڈیشل کونسل کا سہارا کیوں لیا ؟اسے جوڈیشل پولیٹیکس قرار دیا جارہا جس سے مراد چیف جسٹس کے خلاف چارج شیٹ ہے۔
اسی جواز کی روشنی میں چھ ججز سے ان لوگوں کے نام مانگے جارہے ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی عام آدمی بھی جانتا ہے کہ کب کس نے فیصلوں پر اثراندا ز ہونے کی کوشش کی ۔اب جسٹسز کا چیف جسٹس فائز عیسی کو مخاطب نہ کرنے کامطلب یہ ہے کہ چیف جسٹس صاحب ایک زیرک انسان ہیں اور انہوں نے ماضی میں خود ایسے حالات کا سامنا کیا ہے اور چیف جسٹس بنتے ہی معاملات گزشتہ کو چھیڑ کر ہل چل مچا دی اور ان چھ ججز کو شاید اسی سے حوصلہ ملا ہے اوروہ معاملے کی ساری نزاکتوں پر غور کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ سپریم جوڈیشل کے کندھے استعمال کرکے گتھیاں سلجھائی جائیں ۔اگریہ فعل نہ درست ہوتا تو چیف جسٹس فل بنچ بنانے کی بجائے معاملے کو اتنی اہمیت ہی نہ دیتے ۔وہ لوگ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ چھ جسٹسز کی بے بسی جھلک رہی تو انہیں یہ ادراک ہونا چاہیئے کہ معاملہ تو ہے ہی بے بسی کا اور یہ آج کی بات نہیں نصف صدی کا قصہ ہے اور وہ جنہیں بے نقاب کرنا چاہتے ہیں وہ چھپ کر نہیں ، ننگی جارحیت پر تلے رہے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ وہ اس سارے معاملے پر مٹی ڈالنے کی کوشش کریں ۔اسی لئے چیف جسٹس صاحب نے تعجیل برتی ہے اور اسے ان کی بے باک جرات سے تعبیر کرنا چاہیئے ناں کہ اس میں الجھنیں ڈالی جائیں۔
اب پانی میں مدھانی مارنے کا وقت نہیں ہے ،ایک لابدی حقیقت سے پردہ اٹھانے کی مثبت کوشش کی گئی ہے اور جن کی جو ذمہ داریاں ہیں انہیں جتلانے کی جستجو کی گئی ہے اور اب بھی اگر رائی کوپہاڑ بنانے کا راستہ تجویز کیا گیا تو مطلب اور مدعا سیدھا اور صاف یہ ہوگا کہ جن لوگوں نے ماورائیت کا بھانڈا پھوڑنے اور لنکا ڈھانے کا حوصلہ باندھا ان کے حوصلے کے سامنے آہنی دیوار چن دی جائے ۔
یہ بلی تھیلے سے باہر آنا تھی اور شکر یہ ہے اسی راستے باہر لانے کا عزم باندھا گیا ہے جس راستے اسے تھیلے میں بند رکھا گیا ۔
چھ جسٹسز نے جان ہتھیلی پر رکھی ہے ،اب دو تعبیرات ہوسکتی ہیں یا تو چھ جانیں قربانی دے کر اس امر پر مہر تصدیق ثابت کردیں کہ الٹے کو سیدھا کرنے والوں حشر یہ ہوتا ہے یاپھر ترکیہ کی طرح ان کی مداخلت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردی جائے جن کے بغیر نہ کوئی عدالت فیصلہ کرنے کا یارہ رکھتی ہے نہ ریاست کا کوئی اور ادارہ۔ رسوائیاں کھولنے کی بجائے انہیں دفن کردیا جائے ہر کوئی اپنے اپنے میدان میں کھیلے ، کوئی کسی کی بازی الٹانے کا اختیار نہ رکھتا ہو ، یہی عافیت کا راستہ ہے ، اس سے بالا سب قومی سالمیت پر سوال اٹھانے کا موجب ہوگا۔