Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

غزوہ بدر‘ نصرت خداوندی کا نزول

(گزشتہ سےپیوستہ)
صحابہ کرامؓ کی ثابت قدمی اور قربانی اس بے سروسامانی کی حالت میں اللہ رب العزت کو بڑی محبوب گزری حسب وعدہ نصرت ایزدی کا سلسلہ شروع ہو گیا،قرآن کریم کہتا ہے، سورۃ انفال آیت نمبر8 : جب ایسا ہوا تھا کہ اس نے یعنی اللہ نے چھا جانے والی غنودگی تم لوگوں پر طاری کر دی تھی کہ یہ اس کی طرف سے تمہارے لئے تسکین و بے خوفی کا سامان تھا اور آسمان سے تم پر پانی برسا دیا تھا کہ تمہیں پاک و صاف ہونے کا موقع دے دے اور تم سے شیطان کے وسوسوں کی ناپاکی دور کر دے نیز تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھ جائے اور ریتلے میدان میں تمہارے قدم جما دے۔
بروز جمعہ 2 ہجری سترہ رمضان المبارک کو حق و باطل کا یہ میدان کار زار گرم ہوا۔ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے ایک ٹیلے پر سائبان سا بنا دیا، حضرت ابوبکرؓ آپﷺ کے ساتھ حضرت سعدؓ دروازے پر پہرہ دے رہے تھے جنگ سے پہلی رات آپﷺ نے پوری دعائوں میں گزاری مولانا شبلی لکھتے ہیں:’’یہ عجیب منظر تھا اتنی بڑی وسیع دنیا میں توحید کی قیمت صرف چند جانوں پر منحصر تھی۔ آنحضرت ﷺ پر سخت خضوع کی حالت طاری تھی دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتے تھے خدایا تونے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے آج پورا کر محویت اور بے خودی کے عالم میں چادر کندھے سے گر پڑتی تھی اور آپﷺ کو خبر تک نہ ہوتی تھی کبھی سجدے میں گرتے تھے اور فرماتے تھے کہ خدایا اگر یہ چند نفوس آج مٹ گئے تو پھر تو قیامت تک نہ پوجا جائیگا‘‘۔
اب جنگ کا معرکہ شروع ہوا ، دستور کے مطابق پہلے شیبہ پھر اس کا بھائی عتبہ اور اس کا بیٹا ولید میدان میں نکلے مسلمانوں کی طرف سے حضرت عبدالرحمان بن عوف، معوذ‘معاذ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ مقابلے کیلئے اٹھے‘مگر آنحضرتﷺ نے انہیں روک دیا اور اپنے خاندان میں سے حضرت حمزہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت عبیدہؓ بن حارث کو بھیجا، عتبہ شیبہ ولید تینوں مارے گئے لیکن ادھر سے عبیدہ شدید زخمی ہوئے۔حضرت علیؓ انہیں کندھے پر اٹھا کر لائے، مدینہ منورہ واپسی پر راستے ہی میں مقام صفرا میں وفات پائی، قریش میں سے عبیدہ بن سعید بن العاص لوہے میں ڈوبا ہوا نکلا، صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں، ادھر سے حضرت زبیر بن العوام نے تاک کر برچھا ٹھیک آنکھوں پر مارا عبید گرا اور ختم ہو گیا، پھر عام لڑائی شروع ہوگئی ، قریش مکہ کے کئی بڑے بڑے ستون گر گئے، معوذ اور معاذ ننھے منے بچوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے پوچھا کہ ابو جہل کون ہے اور کہاں ہے، ہم نے سنا ہے کہ وہ ہمارے محبوب کو گالیاں دیتا ہے، آج اس کو ٹھکانے لگا کر دم لیں گے، ابو جہل اپنی صفیں درست کر رہا تھا انہوں نے اشارہ سے بتایا کہ وہ ابوجہل ہے یہ دونوں بچے بازوں کی طرح جھپٹے اور صفوں کو چیرتے ہوئے ابو جہل کے پاس پہنچ گئے، جاتے ہی ابو جہل پر ایسا سخت وار کیا کہ ابو جہل گر گیا اس کے بیٹے عکرمہ نے پیچھے سے معاذ کے بازو پر تلوار ماری جس سے ہاتھ کٹ گیا، لیکن تسمہ لٹکا رہا حضرت معاذ نے کٹا ہوا ہاتھ پائوں تلے دبا کر تسمہ بھی الگ کر دیا کیونکہ وہ جنگ میں رکاوٹ بن رہا تھا پھر حضرت عبداللہ بن مسعود آگے بڑھے اور ابوجہل کا سر کاٹ دیا۔
کل تین سو سے کچھ زائد مسلمان غزوہ بدر میں شریک ہوئے جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے86مہاجرین، 61 اوس کے 170خزرج کے تھے یہ 231انصار تھے ‘روایت کے مطابق چودہ صحابہ شہید ہوئے جن میں سے چھ مہاجرین اور آٹھ انصار ہیں ۔مدینہ منورہ پہنچتے ہی آپﷺ نے جنگی قیدیوں کو صحابہ کرامؓ میںتقسیم فرما دیا کیونکہ کوئی قید خانہ اور جیل تو تھی نہیں جس میں انہیں رکھا جاتا ایک قیدی ابوعزیز بن عمیر برادر حضرت مصعب بن عمیر کا بیان ہے مجھے جن صحابی کے حوالہ کیا گیا وہ کھانے کے وقت روٹی میرے حوالے کر دیتے اور خود کھجوریں کھا کر گزارہ کر لیتے مجھے شرم آتی میں روٹی واپس کرتا مگر وہ پھر میرے حوالے کر دیتے یہ سب آنحضرت ﷺ کی حسن تربیت کا اثر تھا اس دوران حضرت مصعب بن عمیر کا گزر اپنے بھائی پر ہوا تو حوالداروں کو کہا کہ اسے خوب گرفت میں رکھنا اس کی ماں بڑے سازوسامان والی ہے شاید وہ اس کا فدیہ دے کر اسے چھڑا لے، ابو عزیز بولا بھائی کیا آپ کو میرے متعلق یہی وصیت ہوئی ہے حضرت مصعب نے فرمایا تو میرا بھائی نہیں یہ (صحابہ) میرے بھائی ہیں۔ (سبحان اللہ)
مشورہ میں یہ طے پایا تھا کہ اسیروں سے فدیہ لے کر ان کو چھوڑ دیا جائے ‘فدیہ کی زیادہ سے زیادہ مقدار 4000 چار ہزار درہم مقرر کی گئی، لیکن یہ استطاعت کم لوگوں میں تھی اس بڑی رقم کے بعد بعض کیلئے تین ہزار بعض کیلئے دو ہزار اور بعض کیلئے ایک ہزار مقرر کیا گیا، جن میں اتنی استطاعت بھی نہ تھی ان سے کہا گیا کہ مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو رہا کر دیئے جائیں گے زید بن حارثہ نے اسی طرح لکھنا سیکھا تھا‘جو کچھ بھی نہیں دے سکتے انہیں استحسانا چھوڑ دیاجائے۔
غزوہ بدر کا پورا معرکہ کفر اور اسلام کا شاندار اور عظیم الشان معرکہ تھا جو اسلام کی شان کا باعث بنا ‘غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی قلیل تعداد کے باوجود ایسی شاندر فتح کا حاصل ہونا مسلمانوں کو یہ درس دیتا ہے کہ فتح و شکست کا دارومدار قلت وکثرت پر نہیں ہوتا بلکہ نصرت ایزدی پر ہے اور نصرت ایزدی اہل حق کے ساتھ رہے گی بشرطیکہ وہ چھ باتوں پر کاربند رہیں۔
ثابت قدمی‘دین پر اور میدان جنگ میں ثابت قدم رہو تو اللہ کے فرشتے تمہاری نصرت کو اتاریں گے جیسا کہ بدر میں ہوا‘اللہ کو کثرت سے یاد کرنا کیونکہ جسم کا ثبات دل کے ثبات پر موقوف ہے اوردل اس کا مضبوط ہو گا جس کا کامل ایمان ہے۔‘ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ہر حال میں کرنا۔ خواہ مخلوق ناراض ہو یا راضی‘ باہمی نزاع اور اختلاف سے بچنا ورنہ معاملہ بگڑ جائیگا‘ خود بھی صبر کرنا اور صابرین کے ساتھ جڑے رہنا‘ کافروں کا سا چلن اختیار نہ کرنا جو ایمان اور راستی کے بجائے عیش‘ فخر و تکبر اور دکھاوے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں تمہارے کاموں کی بنیاد عاجزی اور اخلاص پر ہونی چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں