Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

اسلام میں معاشی حقوق

معاشی حقوق کیا ہوتے ہیں اور معیشت کیا ہوتی ہے؟ انسان جب زندگی گزارتا ہے تو اسے اخراجات کے لیے اسباب کی ضرورت پڑتی ہے، پیسوں کی اور چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اس کی ضروریات شروع ہو جاتی ہیں اور اس کو جتنی بھی زندگی ملے آخر وقت تک یہ ضروریات باقی رہتی ہیں۔ یہ ضروریات اسباب سے ہی پوری ہوتی ہیں، جیب میں پیسے ہوں گے، خرچہ ہو گا تو ضروریات پوری ہوں گی۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مختلف دائرے بتائے ہیں۔
پہلا دائرہ گھر کا ہے۔ بچہ پیدا ہوا تو اس کی ضروریات پوری کرنا، کپڑے، دودھ، خوراک اور علاج وغیرہ اس کے والدین کے ذمہ ہے، ان کی حیثیت کے مطابق جب تک بچہ خود کمانے کے قبل نہ ہو جائے۔ قرآن کریم نے خرچے کا اصول بیان کیا ’’علی الموسر قدرہ وعلی المقتر قدرہ‘‘ (سورہ البقرہ ۲۳۶) مالدار آدمی پر اس کی حیثیت کے مطابق اور غریب آدمی پر اس کی حیثیت کے مطابق۔ والدین اپنی حیثیت کے مطابق خرچ نہیں کریں گے تو یہ زیادتی ہو گی، اور اگر اولاد ان کی حیثیت کو نہیں دیکھے گی اور زیادہ کا مطالبہ کرے گی تو یہ بھی زیادتی ہو گی۔ سمجھدار اولاد کو پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارے والدین کیا چیز مہیا کر سکتے ہیں اور کیا نہیں کر سکتے۔ لیکن یہ کہ اولاد کے جوان ہونے تک اس کی تمام ضروریات کھانا پینا، لباس و رہائش اور تعلیم و تربیت وغیرہ والدین کے ذمے ہیں۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں، کمانے کے قابل نہیں رہتے تو ان کا خرچہ اور ان کی خدمت اولاد کے ذمے ہو جاتی ہے، کیونکہ بچپن میں اولاد نے ان سے خدمت لی ہے اور خرچہ بھی ان کا اس پر ہوا ہے۔ بچہ خود دودھ پینے کے قابل نہیں ہوتا، فیڈر نہیں بھر سکتا، پیشاب کر دے تو کپڑے خود نہیں دھو سکتا، نہا نہیں سکتا۔ ایک وقت تک وہ اپنی ضروریات اور کام خود نہیں کر سکتا، سب کچھ والدین کرتے ہیں۔ اسی طرح ایسا ہی وقت ماں باپ پر آتا ہے جب وہ بوڑھے ہو جاتے ہیں تو کھانا کھانے، کپڑے دھونے اور قضائے حاجت وغیرہ میں اولاد کے محتاج ہوتے ہیں، کمائی بھی وہ نہیں کر سکتے، تو یہ اولاد ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی ضروریات پوری کرے۔ اور جو قرآن مجید میں والدین کے لیے دعا سکھلائی گئی اس میں بھی یہی کہلوایا ’’رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا‘‘ (سورہ الاسراء ۲۴) کہ اے اللہ! جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ان پر اسی طرح رحم فرما۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مجھے کس نے پالا تھا اور والدین کی خدمت کرنی چاہیے، یہ اولاد کا والدین پر احسان نہیں بلکہ اولاد پر والدین کا حق ہے۔
اسی طرح میاں بیوی کے کاموں کی فطری طور پر تقسیم کر دی گئی ہے۔ گھر کے کام کاج کرنا، صفائی ستھرائی، کھانا بنانا، بچے پالنا وغیرہ بیوی کے کام ہیں، جبکہ خرچہ مہیا کرنا خاوند کی ذمہ داری ہے۔ یہ تقسیم ہے کہ یہ کام بیوی نے کرنے ہیں اور یہ خاوند نے۔ آج ایک نیا فلسفہ شروع ہو گیا ہے کہ عورت گھر کے کام کاج بھی کرے اور ملازمت کر کے پیسے بھی کمائے۔ یہ نئی تہذیب ہے کہ عورت بچے بھی پالے اور خرچہ بھی پورا کرے۔ یہ عورت پر احسان ہے یا اس کے ساتھ زیادتی ہے؟ یہ لطیفے کی بات ہے کہ کہا جاتا ہے عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دینے چاہئیں، مرد ملازمت کرتا ہے تو عورت کو بھی ملازمت کرنی چاہیے، مولویوں نے عورتوں کو گھروں میں پابند کیا ہوا ہے۔ حالانکہ مساوات تو تب ہو کہ عورتوں کو اپنے کاموں میں شریک کرتے ہو تو ان کے کاموں میں بھی شریک ہو۔ ایک بچہ وہ جنے تو ایک تم جنو، ایک کو وہ پالے تو ایک کو تم پالو۔ یہ اللہ تعالٰی کی طے کردہ فطری تقسیم ہے۔ کیا اللہ کی یہ تقسیم فطری نہیں ہے کہ بیوی کے سارے خرچے خاوند کے ذمے ہیں؟ مگر خاوند کی حیثیت کے مطابق۔
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ایک مثال سے سمجھایا کرتے تھے کہ نکاح ہوتے وقت خاوند سے پوچھا جاتا ہے ’’قبول ہے؟‘‘ وہ کہتا ہے قبول ہے۔ اس ’’قبول ہے‘‘ میں اس کے سارے معاملات شامل ہیں۔ بیوی کی ہر قسم کی ضروریات، کپڑا، کھانا، رہائش، علاج اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت سبھی چیزیں شامل ہیں۔ اگر کوئی کہے میں نے ’’قبول ہے‘‘ تو کہا تھا لیکن یہ چیزیں ذمہ نہیں لی تھیں، تو اسے بتایا جائے گا اس میں یہ سب کچھ شامل تھا اور تم نے یہ سب کچھ قبول کیا تھا۔ یہ مثال دے کر حضرت جالندھریؒ فرمایا کرتے تھے کہ اسی طرح جب ایک آدمی نے کلمہ طیبہ پڑھ لیا تو اس میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، معاملات، اخلاقیات سبھی چیزیں داخل ہیں۔ ہر ایک کا الگ الگ کہنا ضروری نہیں کہ میں یہ بھی کروں گا، یہ بھی کروں گا۔
بہرحال یہ گھر کا دائرہ ہے جس میں اللہ تعالٰی نے خرچے کی یہ تقسیم کی کہ بچپن میں اولاد کے خرچے ماں باپ کے ذمے، اور جب والدین بوڑھے ہو جائیں تو ان کے خرچے اولاد کے ذمے۔ بوڑھا ہو کر آدمی بچوں کی طرح ہی ضد کرنے لگتا ہے، اولاد کو حکم ہے جیسے انہوں نے تمہاری ضد پوری کی تھی تم بھی ان کی ضد پوری کرو۔ اور میاں بیوی میں کاموں کی بھی تقسیم کر دی کہ گھر کے کام عورت کے ذمے اور اخراجات مرد کے ذمے ہیں۔
دوسرا دائرہ سوسائٹی اور معاشرے کا ہے، اس کے بھی اللہ تعالٰی نے حقوق بیان کیے ہیں کہ اپنے محلے میں، برادری میں نظر رکھو، کوئی غریب، مسکین، ضرورتمند ہے تو اس کی ضرورت پوری کرو۔ زکوٰۃ اور صدقات معاشرے کے ضرورتمندوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہیں۔ سو میں سے اڑھائی تو دینے ہی دینے ہیں، اس کے علاوہ بھی دو۔ یہ صدقات کن کو دینے ہیں؟ فرمایا ’’اٰت ذا القربٰی حقہ والمسکین وابن السبیل‘‘ (سورہ الاسراء ۲۶) رشتہ داروں کا حق پہلے ہے، مسکین اور مسافر کو دینا بھی ان کا حق ہے۔ یہ تم ان پر احسان نہیں کر رہے، ان کا حق ان کو دے رہے ہو۔ یہ بات سمجھائی کہ تم محلے اور برادری میں کسی مستحق، معذور، غریب، بے سہارا پر خرچ کرتے ہو تو یہ تمہارا احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو تم ان کو دے رہے ہو۔ فرمایا ’’وفی اموالھم حق للسائل والمحروم‘‘ (سورہ الذاریات ۱۹) جو مال تمہیں دیے گئے ہیں وہ صرف تمہارے لیے نہیں بلکہ تمہارے مالوں میں سائل اور محروم کا بھی حق ہے۔ سائل سے مراد وہ ضرورتمند جو ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن بعض ایسے ضرورت مند ہوتے ہیں جو غیرت کی وجہ سے اپنی ضرورت ظاہر نہیں کرتے، ہاتھ پھیلانا مناسب نہیں سمجھتے، ان کو قرآن کریم نے ’’المحروم‘‘ کہا ہے، ان کو سفید پوش کہا جاتا ہے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں