Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

سعودی وفد کا دورہ پاکستان

گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر سے بہترین ہو رہے ہیں۔6 سے8 اپریل تین دن کے دور ے پر پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پرگئے۔انہیں سعودیہ کی طرف سے عمر ے پر آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس دورے کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی وزیراعظم میاں شہباز شریف سے ون ٹو ون تفصیلاً ملاقات ہوئی۔ یہ بات یاد رہے کہ اس سے قبل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بھی حال ہی میں سعودیہ عرب کا دورہ کیا تھا۔ وہ بھی پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سعودیہ عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا اسلام آباد پہنچنے پر پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پرتپاک استقبال کیا۔سعودی عرب کے دیگر وزرا پر مشتمل وفد کچھ ہفتوں کے وقفے کے بعد اسلام آباد پہنچا۔جس کا استقبال وفاقی کابینہ کے اراکین نے کیا۔وزیر ماحولیات پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن عبد المحسن الفضلی، وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر ابراہیم الخوائے وفدمیں شامل ہیں۔ان کے علاوہ سعودیہ عرب کے سرمایہ کاری کے اسسٹنٹ وزیر ابراہیم یوسف المبارک بھی اس وفد میں شامل ہیں۔سعودیہ عرب کے وفد کے دیگر ارکان میں رائل کورٹ اور دیگر شعبوں کی معزز شخصیات اور محکموں کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔
وزیراعظم پاکستان کے دورہ سعودیہ عرب کے فوراً بعد صرف ایک ہفتے میں سعودیہ عرب کا اعلیٰ سطح کے وفد کا پاکستان کا دورہ کرنا دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان ذہنی ہم آہنگی، باہمی اعتماد و تعاون اور دونوں ممالک کے یکساں عزم کا مظہر ہے۔بین الاقوامی سطح پر دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطح کے وفود کا اتنا جلدی جلدی ایک دوسرے کے ملکوں میں آنا جانا بہت اہمیت رکھتا ہے۔سعودی وفد خارجہ، صنعت و تجارت، زراعت، معدنی وسائل، توانائی،موسمیاتی تبدیلی، آبی وسائل کے وزرا سے بھی ملاقات کرے گا۔ اس اہم دورے کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر بات کی جائے تو سعودیہ کے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلیمان بن عبد العزیز السعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی دلچسپی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ اس دورے کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کی وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے بالمشافہ ’’ون ٹو ون‘‘ ملاقات ہوئی۔موجودہ بین الاقوامی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس دورے کا موازنہ کیا جائے تو یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ اس دورے کے دور رس نتائج ہوں گے۔بلاشبہ سعودی وفد سرمایہ کاری کے اگلے مراحل اور عمل درآمد کے امور پر مشاورت کر ے گا۔ ٹرانسپورٹ، معدنیات، تجارت،توانائی، زراعت اور آئی ٹی سمیت دیگر شعبوں میں سعودی عرب، پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے۔ریکوڈک منصوبے جیسی سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے امور بھی زیر غور آئیں گے۔ دونوں ممالک کے اس دورے کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں کافی حد تک اضافہ ہوگا۔مشترکہ منصوبوں کے آغاز اور نئے نئے امکانات کی راہیں ہموار ہوں گی۔سعودیہ عرب کے اعلیٰ سطحی وفد کی آمد نہ صرف ایس آئی ایف سی کے مقاصد کے حصول کو آگے بڑھائیں گے بلکہ پاکستان کی پہلے سے بہتر ہوتی معاشی صورتحال میں مزید تیزی اور اعتماد لانے کا بھی باعث بنیں گے۔یاد رہے کہ سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی وفد کی ٹائمنگ نہایت اہم ہے۔ دونوں ممالک کا عالمی اور علاقائی سطح پر ہمیشہ سے بہت قریبی تعاون اور یکساں نکتہ نظر رہا ہے۔ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر پر دونوں ممالک کے نکتہ نظر او آئی سی کے پلیٹ فارم کی یکساں آواز میں نہایت کلیدی کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چار سال 2018 ء سے لے کر 2022 ء تک جس سفارتی تنہائی کا شکار کیا گیا تھا اس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔حالات دن بدن بہتری کی طرف گامزن ہیں۔پاکستان کے ہمیشہ کے قابل اعتماد اور پر خلوص ممالک خاص طور پر سعودیہ عرب سے تعلقات میں ایک نئی تحریک، جدت اور گرمجوشی دیکھنے میں آ رہی ہے۔سعودیہ عرب سے ہمارے سب رشتوں سے پیارا رشتہ مذہبی قربت کا ہے۔یہ رشتہ حکمرانوں کی حد تک محدود نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کے دلوں میں سعودیہ عرب کے بچے بچے اور ریت کے ذرے ذرے تک عقیدت اور محبت رچی بسی ہوئی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب 1979 ء میں چند باغیوں نے خانہ کعبہ پر قبضہ کر لیا تھا تو پاکستان کے بچے بچے کے دل میں آگ بھڑک اٹھی تھی اور پاکستان کے گوریلا فورس کے لوگوں نے بہت تھوڑے وقت میں جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تھا۔خدانخواستہ کبھی بھی کسی نے سعودیہ کی طرف میلی نظر سے دیکھا تو پاکستان کا بچہ بچہ مر مٹنے کے لئے تیار ہو گا۔ کیونکہ حرمین شریفین سے ہمارے دلی جذبات کا لگا ہے۔ اب ان وفود کے دوروں سے ملکوں کے عوام کے دلوں میں بے پناہ محبت کا اضافہ ہوگا۔1982 میں ہونے والے دفاعی معاہدے نے باہمی تعاون کے اس سلسلے کو مزید وسعت دی۔ جس میں دفاعی مقاصد اور تربیت کے لئے مملکت سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی اور دفاعی پیداوار کے علاوہ مشترکہ مشقوں کے نکات بھی شامل تھے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے رہنما اور دفاعی حکام دفاع کے حوالے سے تزویراتی پالیسیوں کو باہمی طور پر مربوط بنانے کے لئے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ یہ سلسلہ ماضی قریب میں مزید اضافہ فرمائے اہمیت اختیار کر گیاکیونکہ دفاعی پیداوار میں خود انحصاری سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سعودی وژن 2030 ء کا اہم ستون ہے۔ فوجی تعاون کا سلسلہ اب دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے عالمی سطح تک پھیل چکا ہے اور پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اب دہشت گردی کے خلاف سر گرم 42 مسلمان ممالک پر مشتمل اتحاد کے کمانڈر کے طور پر 2017 ء سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں