Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پاک سعودیہ دیرینہ برادرانہ مثالی تعلقات

پاکستانی لوگ سعودی عرب کے بچے بچے اور زمین کے ذرے ذرے سے عشق کی حد تک پیار کرتے ہیں۔ موجودہ حالات میں پہلے پاکستان آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر اور پھر وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے دورہ سعودیہ عرب کوبہت عزت کی نظر سے دیکھاگیا۔ان دوروں کے فوراً بعد سعودیہ کے ایک بڑے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔بلاشبہ اس وفد کی آمد پر پاکستان میں اسی طرح محبت اور جذبے کا اظہار کیا گیا۔اس کے دوسرے تیسرے دن سعودی معاون وزیر دفاع سرکاری دورے پر پاکستان تشریف لائے۔میجر جنرل (انجینئر)طلال بن عبداللہ العتیبی کا بھی پر تپاک استقبال کیا گیا۔سرمایہ کاری کے حوالے سے پاک، سعودیہ عرب سرمایہ کاری کانفرنس اسلام آباد میں ہوئی۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے سعودی وفد نے کانفرنس میں شرکت کی۔سعودی وفد میں سعودی وزیر برائے پانی و زراعت عبدالرحمن عبدالمحسن آل فضلی،صنعت اور معدنی وسائل کے وزیر بندر ابراہیم الخریف، معاون وزیر براے سرمایہ کاری ابراہیم بن یوسف المبارک، سعودی خصوصی کمیٹی کے سربراہ محمد ازیاد التویجری اور وزارت توانائی اورسعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے سینیئر حکام شامل تھے۔پاکستان کی طرف سے وزیر خارجہ محمد اسحق ڈار نے اپنے خطاب میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے اور باہمی مفادات پر زور دیا۔ انہوں نے اقتصادی شراکت داری کی اہمیت اور ان تعلقات کو فروغ دینے میں سعودی سرمایہ کاری کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ان کے خیال میں اس سے پاکستا ن میں سرمایہ کاری کے لئے ماحول زیادہ سازگار ہوگا۔انہوں نے زراعت، آئی ٹی اور کان کنی کے شعبوں میں پاکستان میں وسیع مواقع کا اظہار کرتے ہوئے سعودی سرمایہ کاروں کو باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری میں شمولیت کی دعوت دی۔
وزیر خارجہ اسحق ڈارنے سعودی وفد کو پاکستان کی معیشت کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کو بہتر بنانے کے لئے مکمل غور و فکر کے ساتھ مذاکرات کئے۔سعودی وفد کے ارکان نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحولیات کے نظام کو بہتر بنانے میں بڑی اہمیت اور اس میں دلچسپی کا اظہار کیا۔پاکستان کی طرف سے پاکستان میں سعودی عرب کی ممکنہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو تیزی سے آگے بڑھانے میں زیادہ سے زیادہ تعاون اور سہولت فراہم کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔اس موقع پر دونوں ملکوں کے وفود نے اعلانات کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں بدلنے کے لئے دو طرفہ نفاذ کے طریقہ کار کو بھی حتمی شکل دی۔ایک موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور سعودیہ عرب کے درمیان گہرے اسلامی ورثے اور باہمی اسٹریٹیجک مفادات سے منسلک مضبوط تعلقات استوار ہیں۔ اس کے ساتھ سعودی وفد کے اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور پائیدار تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔ سعودیہ عرب کے ساتھ دیرینہ اور آزمودہ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم عنصر ہے جس کا مقصد روایتی طور پر برادرانہ تعلقات کو اسٹریٹیجک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا ہے۔ان کا خیال ہے کہ ایس آئی ایف سی پلیٹ فار م کا مقصد سرمایہ کاری کے حوالے سے اس عمل کو خوش اسلوبی سے انجام دینا اور فیصلہ سازی کو مؤثر بنانا ہے۔بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے، ریگولیٹری فریم ورک کو ہموار کرنے اور پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے تیز رفتار عمل کو یقینی بنانے میں کونسل کا مرکزی کردار ہے۔پاکستان زرخیز زرعی زمین، افرادی قوت، معدنی وسائل، متحرک آئی ٹی سیکٹر اور شمسی ہائیڈرو اور ونڈجیسی قابل تجدید توانائی کے ساتھ پاکستا ن میں کان کنی کے شعبہ بالخصوص تانبا، سونا اور دوسری قیمتی معدنیات سے فوائد حاصل کرنے کے بہت زیادہ مواقع پائے جاتے ہیں۔جن سے ابھی تک استفادہ نہیں کیا گیا ہے۔مشترکہ کوششوں سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مزید مستحکم اور مضبوط ہونگے۔دونوں ملکوں کو دستیاب وافر مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کی زیر قیادت کا دورہ پاکستان سعودیہ اسٹریٹیجک اور تجارت شراکت داری کے لئے نئے دور کا آغاز ہے۔سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مضبوط بنانے اور تجارت، سرمایہ کاری، شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے لئے سعودی عزم کا اعادہ کیا۔
سعودی وفد نے وزیر خارجہ کی قیادت میں وزیراعظم ہاؤس میں میاں شہباز شریف سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں پاکستانی وفد میں وزیر خارجہ محمد اسحق ڈار، خواجہ محمد آصف، سید محسن رضا نقوی اور جام کمال خان وغیرہ شامل تھے۔اس موقع پر وزیراعظم نے سعودی قیادت خادم الحرمین شریفین سلمان عبدالعزیز آلسعود کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے سعودی وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد کے حوالے سے آگاہ کیا۔سعودیہ عرب پاکستان ہمیشہ سے یک جان دو قالب کی طرح رہے ہیں ان کے آپس میں انتہائی دیرینہ، برادرانہ اقتصادی اور اسٹرٹیجک تعلقات کی اہمیت کا اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔ وزیراعظم کے دورہ سعودیہ عرب کے صرف کچھ دنوں کے بعد سعودی وفد نے وزیر خارجہ کی زیر قیادت پاکستان کا دورہ ترتیب دیا۔ وزیراعظم کے دورہ سعودیہ عرب کے مکہ شہر میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سلیمان کے ساتھ اپنی پرتپاک اور انتہائی مفید ملاقات کا ذکرکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہماری اس ملاقات سے باہمی طور پر مفید اقتصادی تعاون کے خصوصی حوالے سے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے دونوں ممالک کے پختہ عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔دونوں فریقین کو نئے انتظام کے تحت پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے پہلے مرحلے کو تیز کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مزید تعاون کا خواہاں ہے۔پاکستان سعودیہ عرب کی جانب سے سرمایہ کاری بڑھانے پر سعودی قیادت کا شکر گزار ہے۔اب پاکستانی عوام ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں