Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

میرے ضلع کے اندر ترقیاتی کام

اپنا گھر، اپنا محلہ، اپنا گائوں یا اپنا شہر کسے پیارا نہیں ہوتا۔خاص کر جہاں آپ کا بچپن گزرا ہو۔جن گلیوں میں آپ کھیلے ہوں۔جن دوستوں سے کبھی آپ کی لڑائی اور کبھی دوستی ہوئی ہو۔جن سکولوں میں آ پ نے تعلیم حاصل کی ہو۔ وہ جگہیں آپ کے لئے زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں۔آپ زندگی کے کسی بھی حصے میں وہاں جائیں تو آ پ کی روح کو خوشی اور فرحت محسوس ہوتی ہے۔میرا آبائی گائوں تو سدوال تھا لیکن پرائمری کے بعد میرا زیادہ وقت چکوال میں گزرا، چکوال مجھے آج بھی بہت پیارا لگتا ہے۔چکوال کا کوئی اچھا کھلاڑی نکلے تو اس سے محبت ہو جاتی ہے۔تعلیم یا صحافت میں کوئی نام پیدا کرے تو وہ لوگ بھی دل و جان سے عزیز لگتے ہیں۔چکوال کو 1985ء میں جنرل ضیاء الحق نے ضلع کا درجہ دیا لیکن بدقسمتی سے اس شہر میں آبادی بڑھنے کے علاوہ کوئی ترقیاتی کام نہ ہو سکا۔ہاں پچھلے دور میں وہاں پوسٹ گریجویٹ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیااور اس کا کریڈٹ یاسر سرفراز کو جاتا ہے۔اس کے علاوہ جو چھوٹے چھوٹے وسائل نہ ہونے کے باوجود جو ترقیاتی کام ہوئے ان سب کاموں کا کریڈٹ کسی اور فردِ واحد کو جاتا ہے۔مثلا ًڈویژنل پبلک سکول میں ایک وسیع پیمانے کی لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس سے پہلے ایک میونسپل لائبریری تھی۔لیکن وہ چند وجوہات کی وجہ سے بے یارو مددگار پڑی ہوئی تھی۔پہلے اس کا چارج میونسپل کمیٹی کے پاس تھا لیکن مشرف دور میں میونسپل کمیٹیوں کو ختم کر دیا گیا۔تو یہ لائبریری محکمہ تعلیم کے چارج میں چلی گئی۔لیکن ان سے بھی یہ نہ سنبھالی گئی کیونکہ لائبریری باقاعدہ ایک سبجیکٹ ہے۔ہر بندہ اس کو نہ سنبھال سکتا ہے نہ ترتیب دے سکتا ہے۔اب جو نئی لائبریری بنی ہے وہاں ہر مکتبہ فکر کے لئے کتب موجود ہیں، رات دس بجے تک بھی ان سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ڈویژنل پبلک سکول میں ایک آٹزم سنٹر بنایا گیا ہے۔ جس میں ان بچوں کا علاج کیا جاتا ہے جیسے جو بچے دیر سے بولتے ہیں یا ان میں قوت اعتمادی دیر سے آتی ہے۔ والدین اس طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ وہاں ایسے ڈاکٹرز کا انتظام کیا گیا تھا جو ان بچوں کو بولنے کی تربیت دیں گے۔میں اور لوگوں کو کیا کہوں میرے اپنے ایک بیٹے نے چار سال کی عمر میں بولنا شروع کیا تھا۔اب جب اس سنٹر کی خبر ملی تو اپنی سستی اور نااہلی کا بار بار خیال آتا ہے۔لیکن ماشااللہ اب چکوال میں اس کا انتظام کر لیا گیا ہے اس طرح کوئی بھی بچہ اپنی عمر کے بچوں سے پیچھے نہیں رہے گا۔
یاد رہے کہ اس قسم کا سنٹر بڑے بڑے اضلاع بلکہ ڈویژن لیول کے شہروں میں بھی نہیں ہے۔چکوال میں اس کی بنیاد ایک بہت بڑ اکارنامہ ہے۔چکوال کی خوبصورتی کے لئے بھی بہت کام کیا گیا۔ اگر آپ موٹروے پر سفر کرتے ہوتے اسلام آباد سے لاہور کی طرف جا رہے ہوں تو چکوال کا پہلا انٹر چینج نیلہ دلہہ آتا ہے۔اس سے جوں ہی آپ باہر نکلیں تو آگے باب شہدا ء نظر آئے گا جس کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ چونکہ چکوال ضلع کو شہیدوں کی سر زمین کہا جاتا ہے۔ اس لئے اس کا باب شہدا ء کے علاوہ کوئی اور نام ہو ہی نہیں سکتا تھا۔اس سے اگلا بلکسر انٹر چینج آتا ہے۔بلکسر انٹرچینج کا نام ندیوں کا دروازہ رکھا گیا ہے۔یہاں پر جانوروں کے ماڈل کے ساتھ ساتھ قلم کا ماڈل بھی رکھا گیا ہے۔جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ پڑھے لکھے لوگوں کا شہر ہے۔وہاں لٹریسی ریٹ اگر 100فیصد نہیں تو کم از کم 95 فیصد ضرور ہے۔یہ ماڈل ایک انتہائی خوبصورت ماحول پیش کرتے ہیں۔بلکہ اکثر لوگ اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے اپنی اور اپنی فیملی کی تصویریں ان ماڈلز کے ساتھ بنوا رہے ہوتے ہیں۔ بلاشبہ چکوال ایک پر فریب ندیوں کا ضلع ہے جو انتہائی خوبصورتی کی ضامن ہیں،جانوروں کے ماڈلز جو ضلع چکوال کی انتہائی پرکشش جگہ بن گئی ہے۔اس سے آگے پھر ایک بہت بڑا گیٹ لگایا گیا ہے جس کا نام باب چکوال رکھا گیا ہے۔ جو چکوال کی پہچان بن گئی ہے جس طرح فیصل آباد کا گھنہ گھر، لاہور کا شاہی قلعہ یا بادشاہی مسجد اور اسلام آباد کی فیصل مسجد ہے۔ اسی قسم کا بہت ہی خوبصورت گیٹ تعمیر کیا گیا ہے۔یہاں میں ایک خاص بات کا ذکر ضرور کرنا چاہوں گاکہ ان سب کاموں کے لئے پیسے چکوال کے مخیر لوگوں نے دئیے ہیں۔اس کے علاوہ ضلع چکوال کا ضلعی ہسپتال انتہائی گندا اوربنیادی سہولتوں سے خالی تھا۔اس میں صفائی ستھرائی کا خاص انتظام کیا گیا ہے۔اس میں دو نئے بلاک تعمیر کئے گئے ہیں جس سے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش کم ہو گیا ہے۔ہر عمر کے لوگ اپنی اپنی لائین میں لگ کر پرچی حاصل کر سکتے ہیں۔عورتوں اور مردوں کے لئے بھی الگ الگ لائنیں بنوا کر ان کے لئے بھی سہولت پیدا کر دی گئی ہے۔فری ڈائیلاسز کا انتظام کر دیا گیاہے۔ایمرجنسی اور او پی ڈی کے تمام مریضوں کو دوائی سمیت ہر قسم کی چیزیں مفت ملتی ہیں۔کلرکہار ٹراما سنٹر میں سٹی سکین کی سہولت نہیں تھی وہاں اس کی بھی سہولت باہم پہنچائی گئی ہے۔ ہڈیوں کے ٹوٹنے پر اس کے علاج کے لئے کوئی انتظام نہیں تھا۔وہاں اب پورا ایک آرتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔ حادثات کی صورت میں وہاں اب بہت بہترین علاج ہوتا ہے۔بلکہ یہی صورت حال تلہ گنگ میں بھی تھی۔ وہاں پر بھی اسی قسم کی مشینری فراہم کی گئی سٹی سکین کی مشین فراہم کر دی گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ ہسپتال چکوال کی صفائی اور انتظامات دیکھ کر وہ کسی ڈویژن سطح کا ہسپتال لگتا ہے۔ پنجاب کے جن پانچ ڈپٹی کمشنرز کو اعلیٰ کارکردگی پر ایوارڈز دیئے گئے ہیں ان میں ضلع چکوال بھی شامل ہے،چکوال بنیادی طور پر دیہاتی ماحول کا شہر ہے جہاں عورتوں کے کاروبار کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔لیکن اس دفعہ دسمبر 2023ء اور فروری2024ء میں اور پھر عیدالفطر سے دو دن پہلے چکوال کے شہدا پارک میں لوک ورثہ کی طرز پر دو دو دن کے لئے صرف خواتین کے لئے میلوں کا اہتمام کیا گیا ۔جہاں صرف خواتین نے اپنی ہاتھ سے بنی ہوئی مصنوعات رکھیں۔چاند رات کو بھی شہداء پارک میں عید میلہ لگایا گیا جو خصوصا ًخواتین کے لئے تھا۔بلاشبہ ان سارے کاموں کا کریڈٹ ڈپٹی کمشنر چکوال محترمہ قرۃ العین ملک کو جاتا ہے۔جنہوں نے سرکاری فنڈز کی کمی کو آڑے نہیں آنے دیا۔ صاحب ثروت لوگوں سے پیسے اکٹھے کئے اور یہ سارے کام سرانجام دئیے،اس میں سب سے اہم کام جو کیا گیا یا کرایا گیا کہ سوشل میڈیا پر ڈپٹی کمشنر کا شکایت کنندگان گان کے لئے موبائل نمبر کی تشہیر کی جاتی ہے۔ کوئی بھی شہری نہ صرف گھر بیٹھے اپنی شکایات درج کرا سکتا ہے بلکہ شکایت کا ازالہ کر کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے فون پر اطلاع بھی دی جاتی ہے۔ یہ ایک بڑا کارنامہ ہے۔ملک بھر میں اگر افسران یہ رویہ اپنالیں تو بلاشبہ تقدیر بدل سکتی ہے۔ ویلڈن میڈم ڈپٹی کمشنر۔

یہ بھی پڑھیں