Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

ضمنی الیکشن کے نتائج اور انہونیاں

ضمنی الیکشن اگر ایک آدھ سیٹ کا ہو تو اس میں صرف اس حلقے کے لوگوں کو دلچسپی ہوتی ہے یا کہ اگرحکومت صرف ایک دو سیٹوں پر کھڑی ہوتو پورے ملک کی نظریں اس ایک سیٹ پر لگی ہوتی ہیں ۔لیکن جب ضمنی الیکشن درجنوں کے حساب سے سیٹوں پر ہو تو پھر وہ قومی الیکشن جتنی کشش پیدا کر لیتا ہے۔اس دفعہ بھی دلچسپ صورتحال تھی۔ چاروں صوبوں میں ضمنی الیکشن ہو رہے تھے اور ساری پارٹیوں نے سر دھڑ کی بازی لگائی ہوئی تھی۔لیکن اکثر سیٹوں پر جیت کا مقدر ’’ن‘‘ لیگ کے حق میں تھا۔شام پانچ بجے ہی جیت کا نقارہ بج گیا تھا۔ صرف دو ماہ میں و وٹر نے کروٹ بدل لی۔دراصل گزشتہ سے پیوستہ پانچ سال پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔اس کے بعد چار سال پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔نو سال کے وقفے کے بعد ’’ن‘‘ لیگ کو الیکشن میں کھل کے کھیلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔جس سے یہ ظاہر ہوا ’’ن‘‘ لیگ کے پاس ووٹوں کی کمی ہے۔فروری کے بعد 21اپریل کے ضمنی الیکشن میں اتنی بڑی تبدیلی صرف اس وجہ سے آئی کہ ان دو اڑھائی ماہ میں ’’ن‘‘ لیگ نے خارجہ پالیسی پر خوب زور دیا۔ چین، ترکیہ ، سعودی عرب، ایران کے علاوہ دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسیع پیمانے پر پھیلایا۔ ملک میں سرمایہ کاری کے اربوں ڈالر دلانے کے منصوبے سامنے آئے۔ملک میں ترقی کی شمعیں جلتی نظر آنے لگیں ۔ووٹر کو ہوش آیا کہ سٹیج کا شو تو ختم ہو گیا۔اصل حقیقت تو اس طرف ہے۔لہٰذا ان ضمنی الیکشن میں ووٹر نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا۔نواز شریف اور مریم نواز کی چھوڑی ہوئی سیٹوں پر اپوزیشن نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن وہ دونوں سیٹیں مسلم لیگ ’’ن‘‘ نے ڈنکے کی چوٹ پر جیت لیں ۔بلکہ ان سیٹوں کے بعد مجھے ایک معتبر سیاستدان اور معروف قانون دان بیرسٹراعتزاز احسن کے اخباری بیان پر بڑی حیرانگی ہوئی انہوں نے فرمایا کہ نواز شریف اگر اپنی سیٹ یاسمین راشد کے لئے چھوڑ دیتے تو ان کے قد میں اضافہ ہوتا۔میرا بیرسٹر اعتزاز احسن کو مشورہ ہے کہ آپ کا شمار ماشاء اللہ ملک کے نامور وکلاء میں ہوتا ہے آپ وفاقی وزیر قانون رہے ،ایم این اے رہے، بڑی سیاسی پارٹی کے اہم رکن رہے ، آپ نے ماشاء اللہ سیاست کے سارے نظارے دیکھ لئے۔اب اگر پچھلی عمر میں داڑھی رکھ کر کسی اسلامی سیاسی جماعت میں شامل ہو کر دین کی خدمت شروع کر دیں تو آپ کے قد میں بھی بہت اضافہ ہو جائے گا۔اس عمر میں آپ نواز شریف کے قد کاٹھ کی فکر نہ کریں ۔آپ خود فارغ ہیں اپنے قد کاٹھ پر توجہ فرمائیں ۔یہ بات ان کا اخباری بیان پڑھ کر ضمناً لکھ دی۔اصل بات تو ضمنی الیکشن پر ہو رہی تھی۔نت ہاؤس گجرات کا سب سے مضبوط تھم چوہدری پرویز الٰہی بھی لرز گیا اور اپنے بھتیجے سے دوگنے تگنے ووٹوں سے الیکشن ہار گئے۔
پرویز الٰہی بہت مضبوط اور زیرک سیاستدان سمجھے جاتے تھے لیکن قسمت جب ساتھ چھوڑ دے تو ہاتھ میں پکڑے ہوئے پرندے بھی پھدک کر اُڑجاتے ہیں ۔جیسا کہ میں نے کالم کے اوائل سطروں میں لکھا ہے کہ ووٹر اب جاگ گیا ہے۔ان کی آنکھیں کھل گئی ہیں ۔دماغ نے گہرائی تک سوچنا شروع کر دیاہے۔ووٹر کو سمجھ آگئی ہے کہ صرف نعروں اور نا چ گانوں سے کام نہیں چلے گا۔ کچھ پریکٹیکل کر کے بھی دکھانا ہوگاتو ان کو سمجھ آئی کہ اب اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آنے کی امیدیں لگی ہیں ۔ایک سرمایہ دار ملک کا وفد اپنے ملک واپس پہنچتا ہے تو دوسرا آ جاتا ہے۔ایک مہمان کو ائیرپورٹ پر رخصت کرتے ہیں تو دوسرے وی آئی پی مہمان کی آمد پر سڑکوں پر روٹ لگ جاتا ہے۔اس لئے اس دفعہ’’ ن ‘‘لیگ نے اپنی کارکردگی پر الیکشن جیتا ہے۔جس رفتار سے ’’ن‘‘ لیگ کی حکومت یا شہباز شریف کا م کر رہے ہیں بہت جلد لوگوں کو نعروں اور اصل حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔پرویز الٰہی کو تلہ گنگ کو ضلع بنانا بھی کام نہ آیا۔ان لوگوں نے بھی پرویز الٰہی کے دوست کو ووٹ نہیں دئیے۔سنی اتحاد اور پیپلز پارٹی نے دو دو سیٹیں جیتیں۔آئی پی پی اور بی این پی ایک ایک سیٹ حاصل کر سکیں ۔باجوڑ میں پی ٹی آئی کو شکست ہو گئی۔ آزاد امیدوار نے میدان مار لیا۔ضمنی الیکشن میں ’’ن‘‘ لیگ واضع فاتح قرار پائی۔گیارہ نشستیں حاصل کیں۔ وزیرآباد سے بھی پی ٹی آئی کی سیٹ چھین لی گئی۔قمبر شہداد کوٹ سے بلاول بھٹو زرداری کی خالی کی ہوئی نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کا میاب ہو گئی۔نارووال میں ورکرز میں تصادم ہوا اور ’’ن‘‘ لیگ کا ایک سینئیر رکن قتل ہوگیا۔احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ہم اپنے ورکرز کے لئے قانونی جنگ لڑیں گے اور اس کے قاتل کو سزا دلوا کر رہیں گے۔علی پرویز ملک، خورشید جونیجو،ملک فلک شیر اعوان، موسیٰ الٰہی ، عدنان افضل، سعید اکبر نوانی،افضال حسین، راشدمنہاس،شعیب صدیقی اور داؤد شاہ بھی کامیاب ہوگئے۔ جمعیت العلمائے اسلام نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔آزاد امیدوار مبارک زیب بھی فاتح قرار پائے۔
شہباز شریف کے اقتدار میں آنے کے بعد عوام میں امید کی کرن پیدا ہوئی۔مہنگائی کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے۔دوسری طرف پی ٹی آئی کے ووٹرز میں مایوسی پھیل گئی۔ان کا ووٹر اس دفعہ ووٹ ڈالنے ہی نہیں آیا۔ان کے پولنگ کیمپ سارا دن خالی پڑے رہے۔ان کے سینئیر کارکن ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ووٹروں کے راستے دیکھتے رہے لیکن ووٹر نہ ووٹر کیمپ کی طرف آئے اور نہ ہی انہوں نے آنا تھا۔فوج نے سیکیورٹی کے حالات خوب سنبھالے۔کئی اسٹیشنوں پر معمولی جھگڑے بھی ہوئے لیکن سوائے نارووال کے اور کہیں کوئی بڑا جھگڑا یا لڑائی نہیں ہوئی۔وہاں صرف ’’ن‘‘ لیگ کا ایک ورکر قتل ہو ا۔عالمی مالیاتی خبر رساں اداروں اور سروسز میں معاشی بہتری کی پیشن گوئیوں نے عوام کی رائے بدل دی۔بہرحال ہار جیت انتخابی عمل کاحصہ ہے۔ موجودہ حکومت مستقبل قریب میں بہتری دکھائے گی تو اگلا الیکشن جیت سکے گی۔ ورنہ اب عوام اور ووٹرز کی نظریں اور سوچیں دور تک جاتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں