Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

ہر طرف بدامنی کیوں؟

جب میں یہ کالم لکھ رہاہوں تو مجھے ایسا محسوس ہورہاہے کہ کسی کا منحوس سایہ اس ملک پر پڑ گیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرف شورش اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ ابھی تک سیاستداںایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہوکرملک میں اتحاد کے تمام امکانات کو پیروں تلے روند رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ عناصر فائدہ اٹھارہے ہیں جن کو اس ملک سے کسی قسم کی محبت نہیں ہے اور نہ ہی ان کا پاکستان کی تحریک اوراس کے قیام سے کوئی واسطہ تھا۔ غیر منقسم بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہندواکثریت آئین وقانون کے ماورا جوکچھ بھی کررہی تھی اس تکلیف دہ حالات کی بنا پر قائداعظم اوران کے رفقاء نے یہی سوچاکہ ہندواکثریت سے نجات کا واحد راستہ یہی ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ملک ہونا چاہیے۔علامہ اقبال بھی ان ہی خطوط پر سوچ رہے تھے۔ لیکن بہت جلد ایسا محسوس ہونے لگا کہ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہیں تھے‘ اور وہ پاکستان جس کے لئے تیس لاکھ مسلمانوں نے اپنی جانوں کی قربان دے کر حاصل کیاتھا‘ آج انتہائی کسمپرسی کے عالم میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہر طرف لاقانونیت پھیلی ہوئی ہے۔ جبکہ قانون توڑنے والے دندناتے پھررہے ہیں اور لوٹ کھوسٹ کا بازار گرم ہے۔ اس میں بڑے عہدے پر مامور افراد بھی شامل ہیں۔ جن کی مصروفیات صرف اپنی ذات تک محدود ہیں جبکہ خلق خدا مہنگائی اور لاقانونیت کے عفریت کے سامنے اتنی بے بس ہوچکی ہے کہ حلق سے احتجاج کی آوازیں بھی بلند نہیں ہورہی ہے۔ یہ ایسے زمینی حقائق ہیں جو ہر باشعور فرد محسوس کررہاہے لیکن انجانے خوف نے اسکے پیروں پہ زنجیریں ڈال دی ہیں۔
چنانچہ اس کا مدوا کیاہے؟ باشعور افراد کے پاس اس کا جواب صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ آئین اور قانون کی روشنی میں مملکت کے کارروبار کو چلایاجائے ناکہ ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ۔ ثاگر یہ طریقہ کار اختیار نہیں کی گیا تو پھر حالات میں سدھار کس طرح پیدا ہوگا؟ اور کس طرح ملک آگے کی جانب ترقی کی طرف رواں دوا ں ہوگا ‘ یہ بڑا اہم سوال ہے۔ اگر ارباب اختیار نے ٹھنڈے دل سے سوچ بچار کرکے قانون اور آئین کی بالادستی کے لئے قدم نہیں بڑھایا تو پھر موجودہ صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ فائدہ ان عناصر کو ہوگا جن کی اربوں کی رقم اور جائیداد بیرونی ممالک میں رکھی ہوئی ہیں۔ ان میں وہ سیاستداں بھی شامل ہیں۔ جو اس وقت حکومت کررہے ہیں دوسری طرف ان سے حکومت سنبھالی نہیں جارہی ہے۔ محض اخباری بیانات دینے سے نہ تو معاملات سلجھ سکتے ہیں اور نہ ہی ملک میں ترقی کے امکانات فروزاں ہوسکتے ہیں۔ آئی ایم ایف پاکستان کا نجات دہندہ نہیں ہے‘ اپنی شرائط پر پاکستان کو قرضے دے کر اس کو مزید اپنی گرفت میں لے لیتاہے۔ جبکہ عوام کی زندگیوں میں ان تبدیلیوں سے کسی قسم کی تبدیلی وقوع پذیر نہیں ہوتی ہے۔غربت‘ افلاس اور ناخوندگی ان کی تقدیر بن چکی ہے اشرافیہ (بدمعاشیہ) ان حالات سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے مفادات کو ہر طرح سے حاصل کررہی ہے۔چنانچہ پاکستان ہرگزر تے دن کے ساتھ معاشی وسماجی طور پر کمزور سے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ پھر یوں محسوس ہورہاہے کہ کیاان حالات کو سدھارنے کیلئے کوئی فرد بھی موجود نہیں ہے؟ کیا گردش دوراں کا تسلسل ایسا ہی رہے گا؟ میں سمجھتاہوں کہ ایسا نہیں ہوگا‘ کوئی قوت یقینا ان حالات کو ضرور بدلے گی‘ تاکہ قیام پاکستان کے مقاصد کو حاصل کیاجاسکے۔ ورنہ ہماری داستاں بھی نہیں ہوگی‘ داستانوں میں۔؟بقول احمد فراز
اک راہ طویل اک کڑی ہے یارو
افتاد عجیب آپڑی ہے یارو
کس سمت چلیں کدھر نہ جائیں آخر
دوارہے پہ زندگی کھڑی ہے یارو

یہ بھی پڑھیں