Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

تپسی تے ٹھس کرسی؟نہ بابا نہ

سب سے پہلے میٹھے میٹھے کشمیری بھائیوں کو اپنے حقوق کی جنگ جیتنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ،میرے میٹھے میٹھے کشمیری بھائیوں نے اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایک منظم اور کامیاب جہدوجہد کے ذریعے ’’تپسی تے ٹھس کرسی‘‘ والے گھسے پٹے طنزیہ مقولے کو عملاً غلط ثابت کر دکھایا ۔’’تپسی تے ٹھس کرسی‘‘گھسا پٹا ہونے کے باوجود ایک ایسا نادر اور نایاب مقولہ ہے کہ اگر اسے مری، راولپنڈی، اسلام آباد ،لاہور کراچی ،کوئٹہ، پشاور وغیرہ کے چوکوں اور چوراہوں پر خوبصورت طریقے سے لکھوا دیا جائے تو یقیناً اس سے پاکستانی عوام کو بھی بڑا فائدہ ہو سکتا ہے، بجلی،گیس کے بلوں میں سرکار کی زیادتیاں دیکھ کر خود کشیاں کرنے کا مطلب ’’تپسی تے ٹھس کرسی‘‘ ہوا کرتا ہے،کروڑوں اربوں روپے کی اوور بلنگ چپ چاپ سہ جانے کا مطلب ’’تپسی تے ٹھس کرسی‘‘ ہوا کرتا ہے،پاکستان کی غریب عوام کی قسمت میں امن اور خوشحالی کہاں؟یہاں امن اور خوشحالی بھی مسلح لشکروں کے کڑے پہرے میں گھومنے والے ’’پروٹوکولیوں‘‘ کے مخصوص ٹولے کا محتاج ہے،پاکستان کے عوام جب تک ’’تپسی تے ٹھس کرسی‘‘کے اسیر رہیں گے ۔ اس وقت تک اشرافیہ کے پائوں تلے کچلے جاتے رہیں گے،میں نہ تو تاریخ کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی یہاں ماضی کے واقعات دہرانا چاہتا ہوں جو پاکستانی سوشل میڈیا کے ذریعے آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اس کامیاب عوامی تحریک کے پیچھے بھارتی ہاتھ تلاش کر رہے ہیں ،ان سے گزارش ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنی انرجی ضائع کرنے کی کوشش مت کریں۔
میری دانست میں عوامی حقوق کی یہ تحریک اگر پرتشدد نہ ہوتی تو بہت اچھا ہوتا ،احتجاجی تحریک کے دوران جس کسی کا بھی خون گرا،وہ انتہائی افسوس ناک ہے،سیکورٹی اداروں کے جوان ہوں یاعوامی احتجاج میں شامل نوجوان،یہ سب اس ملک وقوم کا قیمتی اثاثہ ہیں،اس لئے مجھے یقین ہے کہ دونوں طرف سے گرنے والے لہو نے ہر کشمیری کے دل کو پریشان کر رکھا ہو گا، آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کشمیری عوام کے ساتھ مل کر کشمیری لیڈران اور دارالحکومت مظفرآباد کے حکومتی صاحبان کو جس صفائی کے ساتھ آئوٹ کیا،وہ اپنی مثال آپ تھا،کشمیری عوام کے ’’درد‘‘میں مبتلا حکومتی وزراء وزعماء اور سیاسی لیڈروں کی اکثریت غریب کشمیری عوام کے ساتھ رہنے کی بجائے،اکثر اسلام آباد ،راولپنڈی کے بنگلوں میں پائی جاتی ہے،عوام نے مصنوعی اور خلائی مقامی لیڈروں کو جس حقیقی انداز میں بے نقاب کیا،اس نے پاکستانی عوام کو خاصا متاثر کیا،کشمیریوں پر ’’غداری‘‘ کی پھبتی کسنے والے وفاداروں سے گزارش ہے کہ وہ فتویٰ لگانے میں جلد بازی نہ کریں ،ابھی صبر کریں اور آگے آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا؟کیونکہ کشمیریوں کی دیکھا دیکھی،غریب پاکستانیوں کے دلوں میں بھی کسی عوامی حقوق کی تحریک نے کروٹیں لینا شروع کر دی ہیں، اشرافیہ اگر حکمرانوں کے ساتھ مل کر عوام کی پشت پرآ ئی ایم ایف کے کوڑے برسائے تو وہ حب الوطنی سمجھا جائے ، لیکن اگر عوام اپنی جائز بنیادی ضروریاتِ کے لیے سڑکوں پر نکلیں ،تو ان پر غداری کے فتوے لگا کر ان کی حب الوطنی کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جائے ،مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں،اشرافیہ کو اپنے عوام سے بڑھ کر آئی ایم ایف،اور ایف اے ٹی ایف کے مفادات عزیز ہیں۔
یہاں اشرافیہ ہو،سیاستدان ہوں،یا حکمران ،سب غیروں کے بعد اپنے اپنے مفادات کے اسیر ہیں۔’’عوام‘‘اور اس کے مفادات جائیں بھاڑ میں، ایک تو عوامی مفادات ان کے جوتے کی نوک پراور دوسرا عوام کو غلام سمجھنے کی ان کی عادت بد ،یہ وہ ہمالیہ سے بھی بڑے حقائق ہیں کہ جن کو سمجھنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے،کان کھول کر سن لیجئے ،کشمیری اور پاکستانی یک جان دو قالب ہیں،ان کے دلوں میں پاکستان سے محبت بھی موجود ہے اور احترام بھی،مقبوضہ کشمیر کی سودے بازی کا الزام آزاد کشمیریوں پر نہیں بلکہ اسلام آباد کے حکمرانوں پر لگتا رہا ہے،چند سال قبل اسلام آباد کی سر زمین پر کھڑے ہو کر ایک وزیر اعظم نے کہا تھا کہ پاکستانیوں کا مقبوضہ کشمیر میں جا کر جہاد کرنا جائز نہیں ہے ،یہ فتویٰ جھاڑنے والا وزیراعظم آج کل اڈیالہ جیل میں پایا جاتا ہے،اور قسم لے لیں وہ ’’کشمیری‘‘نہیں ’’نیازی‘‘ہے،تم مقبوضہ کشمیر کا سودا کر کے بھی وفادار اور آزاد کشمیری اپنے حقوق کی بات کریں تو’’غدار‘‘ نہ بابانہ،تحریک کے دوران جنہوں نے جذبات میں آکر متنازعہ تقریریں کیں،ان کی کسی قیمت پر بھی تائید نہیں کی جا سکتی،لیکن ریاست اگر ماں جیسی ہوتی ہے تو یہاں بھی اسے ماں کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔
کشمیریوں اور پاکستانیوں کے درمیان نفرتوں کے بیج بونے والے انڈیا کے خدمت گزاروں کو چا ہیے کہ وہ اب ’’غداری‘‘کا چورن بیچنا بند کر دیں،جبکہ باشعور کشمیری عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے خلاف چورن بیچنے والوں کی مکمل حوصلہ شکنی کریں ،پاکستان ہم سب کے لئے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے،ورنہ پڑوسی ملک بھارت میں 28کروڑ سے زائد مسلمان ہوں یامقبوضہ کشمیر میں بسنے والے ایک کروڑ کے لگ بھگ مسلمان ،نریندر مودی کے بدمعاش ہندوئوں نے ان پر جو ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں۔ اس سے پوری دنیا واقف ہے،ذرا،ذرا سی بات پہ پاکستان کے شکوے کرنا،پاکستان کو گالیاں بکنا،پاکستان کا جھنڈا جلانا،یہ انتہائی خطرناک عمل ہے،یہ وقت نفرتوں کو ختم کرکے محبتوں کو پروان چڑھانے کا ہے،ہمیں ایک دوسرے کو گراتے پچھاڑتے ہوئے یہ بات ذہن نشین کر لینی چا ہیے کہ ہمارے کسی عمل سے ہمارا دشمن بھارت فائدہ نہ اٹھائے ۔

یہ بھی پڑھیں