Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

صدام حسین اور عرب قومیت

(گزشتہ سے پیوستہ)
خلافت عثمانیہ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے والوں نے جس طرح ترکوں کو یہ سبق پڑھایا تھا کہ وہ یورپین ہیں اور بالاتر قوم ہیں، اس لیے ان کا عربوں کے نتھی رہنا ان کے روشن مستقبل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اسی طرح عربوں کو بھی اس دور میں یہ سبق پڑھایا گیا تھا کہ وہ عرب ہیں اور عجمیوں کا ان پر حکمران ہونا عربوں کی بالاتری کے منافی ہے، اس لیے انہیں ترکی کی خلافت عثمانیہ سے جلد از جلد نجات حاصل کر لینی چاہیے۔ اس ’’عرب نیشنلزم‘‘ کے مختلف پہلو اور متعدد جہات تھیں:
ایک جہت مذہبی تھی جس کا اظہار خلافتِ عثمانیہ کی طرف سے مکہ مکرمہ کے گورنر شریف مکہ سید حسین ہاشمی کی اس بغاوت کی صورت میں ہوا۔ جس کی وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ ترکی والے عجمی ہیں اور ظالم ہیں انہیں خلافت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ خلیفۂ اسلام کے لیے قریشی ہونا شرط ہے اور غیر قریشی خلیفۂ اسلام نہیں ہو سکتا۔ اس لیے شریفِ مکہ حسین نے، جو قریشی اور ہاشمی تھے، برطانوی استعمار کے اس وعدے پر ترکوں کے خلاف بغاوت کر دی کہ انہیں عرب دنیا کا خلیفہ تسلیم کر لیا جائے گا۔ لیکن جب بغاوت کامیاب ہوئی اور ترکوں کو سرزمین عرب سے نکال دیا گیا تو شریفِ مکہ کے بیٹوں کو عراق اور اردن کی حکمرانی دے کر سرزمین حجاز پر آلِ سعود کا خاندانی اقتدار تسلیم کر لیا گیا، جبکہ اسی شریفِ مکہ کے ایک بیٹے کو عراق کا حکمران بنا دیا گیا جس نے ہاشمی ہونے کے ناتے سے عراق کی جداگانہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔
لیکن عرب نیشنلزم کا دوسرا پہلو، جس کی بنیاد مذہب کی بجائے سیکولرازم پر تھی، اس نے انقلاب کے ذریعے اس کا تختہ الٹ دیا۔ جنرل عبد الکریم قاسم اور بعث پارٹی عرب قومیت کے اسی ونگ کی قیادت کر رہے تھے اور صدام حسین کے اقتدار کا آغاز بھی اسی حوالے سے ہوا تھا۔
عرب قومیت کا ایک تیسرا رخ بھی تھا جو سعودی عرب کی مذہبی عرب قومیت اور بعث پارٹی کی سیکولر عرب قومیت، دونوں سے مختلف تھی۔ اس کی قیادت مصر کے جمال عبد الناصر کے ہاتھ میں تھی، جو نہ تو سعودی عرب کی طرح ملک میں شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے تیار تھے، اور نہ ہی بعث پارٹی کی طرح مذہب کی نفی کرتے تھے۔
خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد عرب قومیت ان تین رخوں پر آگے بڑھتی رہی، آپس میں ایک دوسرے سے الجھتے بھی رہے، سرد جنگ کے دوران امریکہ اور روس کے کیمپوں میں تقسیم بھی رہے، اور بہت سے عرب ملکوں میں اس بنیاد پر تقسیم اور انقلابات بھی رونما ہوئے۔ لیکن ان تمام جھگڑوں کے باوجود عرب قومیت ان سب میں قدرِ مشترک چلی آرہی ہے اور ’’عرب لیگ‘‘ کے فورم پر آج بھی سب مل کر فیصلے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران میں مذہبی انقلاب کی کامیابی کے بعد عرب دنیا میں اس کے نفوذ اور رسوخ کے امکانات واضح ہونے لگے تو صدام حسین نے ایران کے ساتھ آٹھ سال تک مسلسل جنگ لڑ کر اس کا راستہ روک دیا۔ اس جنگ میں انہیں امریکہ کی پشت پناہی بھی حاصل تھی کہ امریکہ کے مستقبل کے ایجنڈے کے لیے یہ جنگ ضروری تھی۔ لیکن پوری عرب دنیا اس جنگ میں صدام حسین کے ساتھ تھی اور اس کے پس منظر میں یہی عرب قومیت کارفرما تھی جو ایک عجمی قوت کے عرب دنیا میں اثر و نفوذ کو روکنے کے لیے اس جنگ کو ناگزیر تصور کرتی تھی۔
صدام حسین کو ایران عراق جنگ میں دو حیثیتیں حاصل تھیں۔ ایک یہ کہ وہ عرب دنیا کو عجمی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنے کی جنگ لڑ رہے تھے، اور دوسری یہ کہ وہ عرب دنیا میں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کی تقسیم کے پس منظر میں اہلِ سنت کے مفادات کا تحفظ کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی پھانسی کے ذریعے موت کو عرب دنیا میں سنی شیعہ کشمکش بلکہ خانہ جنگی کے آغاز کا الارم تصور کیا جا رہا ہے۔ اور بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس موقع پر انہیں پھانسی دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے سنی شیعہ کشمکش کو خانہ جنگی کے ہدف تک لے جانا مقصود ہے، جس کا دائرہ صرف عراق تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کویت، بحرین، لبنان اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ مرحلہ وار پوری عرب دنیا کے اس میں ملوث ہونے کا امکان موجود ہے۔ اور عرب دنیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے مذہبی رجحانات سے اسرائیل کو محفوظ رکھنے اور امریکی مفادات کو بچانے کے لیے اس سے زیادہ کامیاب نسخہ کوئی نہیں ہے۔
بہرحال اس تناظر میں صدام حسین اپنے حصے کا کام سرانجام دے کر بارگاہ ایزدی میں پیش ہو چکے ہیں، ان کے بہت سے کاموں سے اختلاف بلکہ شدید اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ان کی زندگی کا آخری حصہ بہرحال استعمار کے خلاف جرأت و استقامت اور حوصلہ و عزیمت سے عبارت ہے، اور اسی حوالے سے ہم بارگاہ خداوندی سے امیدوار ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں گے اور رحمتِ خداوندی انہیں اپنے سائے میں جگہ دے گی۔

یہ بھی پڑھیں