Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

فحش گوئی ،گرلز اینڈ بوائے فرینڈز، ہم جنس پرستی کی نرسریاں

عریانی و بے حیائی کے تمغے سجانے کے بعد اب بعض الیکٹرانک چینلز فحش گوئی ،غلیظ ترین جملے،یعنی جغت بازی، گرل فرینڈز ،بواے فرینڈز اور ہم جنس پرستی کے بدبودار کلچر کو ملک میں پروان چڑھانے کی نرسریاں بن کے رہ گئے ہیں،حکمران ہوں یا دیگر بالا دست طبقے ،وہ خاموش تماشائی بنے ینگ جنریشن کی تباہی وبربادی کے سارے مناظر کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں،بعض ادکار اور اداکارائیں اینکر کا روپ دھارے تھیٹر مارکہ افراد کے ذریعے فحش گوئی پر مبنی جغتعوں کے جو دریا بہاتے ہیں تو عزت دار ما ں،باپ اپنی اولاد سے منہ چھپانے پر مجبور ہو جاتے ہیں،دجالی چینلز نے مزاحیہ پروگراموں کے نام پر جملوں کی آوارگی اور تھرڈ کلاس مزاح کو جس طرح سے رواج دیا ہے، اس کی وجہ سے ملکی سطح پہ اخلاقی اقدار زوال پذیرہوتی چلی جا رہی ہیں، پہلے پہل تھیٹر کی غلاظت دیکھنے کے لئے چند سو لوگوں کو شہر کے کسی مخصوص مقام پر جانا پڑتا تھا،اب دجالی چینلز نے مزاحیہ پروگراموں کی آڑ میں تھیٹر مارکہ غلیظ کلچر ہر گھر کی زینت بنا ڈالا ہے،افسوس تو یہ ہے کہ علماء کرام اور مذہبی تنظیمیں بھی اس حوالے سے جاندار احتجاج کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، عریانی و فحاشی کا سیلاب بلا ہر گھر میں رستہ بنا چکا ہے،ڈالر،پائونڈ اور درہم و دینار کے یہ بندے غیروں کی دلالی میں اپنے منہ تو کالے کر ہی رہے ہیں،مگر ساتھ ہی نئی نسل کو شیطانی راہ پر بھی لگا رہے ہیں،لیکن دجالی چینلز کی ان ابلیسی حرکتوں کے خلاف عوام میں لاوہ پک چکا ہے،زیر نظر خط سٹی کورٹ کراچی کے نوجوان وکیل کا ہے۔
ایڈووکیٹ منظور تنولی،لکھتے ہیں ’’ کہ محترم نوید مسعود ہاشمی، ملک پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کی اپنی مخصوص خوبصورت معاشرتی مذہبی اور اخلاقی اقدار ہیں۔ ملک پاکستان بنا ہی کلمے کی بنیاد پر ہے اور یہاں کے مسلمان اپنی مذہبی اقدار کے معاملے میں بہت سنجیدہ و حساس ہیں،ایسی لغو گفتگو، جغت بازی فکرے یا بھونڈا مذاق جس میں ہماری معاشرتی اخلاقی مذہبی اقدار کو پس پشت ڈال دیا جائے وہ نقصان دہ بھی ہے اور ناقابل قبول بھی۔ملک پاکستان میں پہلے صرف ایک ٹی وی چینل پی ٹی وی ہوا کرتا تھا جس پر اذان درس قران اور حدیث مبارکہ بیان کی جاتی تھی اور اسی طرح ایک تسلسل کے ساتھ قائداعظمؓ اور علامہ اقبالؓ کے افکار دکھائے اور سکھائے جاتے تھے۔ مزاحیہ ڈرامے انٹرویو اور پروگرام بھی چلتے تھے لیکن ان میں مذاق کیا جاتا تھا اڑایا نہیں جاتا تھا اور ہماری اخلاقی معاشرتی و مذہبی اقدار کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا۔ پھر بعد میں درجنوں ٹی وی چینلز کو لائسنس جاری کر دئیے گئے لیکن ان کے لیے کوئی اسلامی،اخلاقی یا نظریاتی ضابطہ کار تشکیل نہیں دیا گیا،اور اگر دیا بھی گیا تو اس پر عمل درآمد کروانے کو ضروری ہی نہیں سمجھا گیا، اب ان ’’بے لگام‘‘ٹی وی چینلز نے ہماری معاشرتی اخلاقی و مذہبی اقدار کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں، ایک مرتبہ مفتی منیب الرحمان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’میں پی ٹی وی کے لیے لکھ رہا تھا تو ترجمہ میں لفظ بدکار عورت آیا جس پر پی ٹی وی والوں نے کہا کہ اس سے برا اثر پڑے گا تو میں نے اس کی جگہ فاحشہ عورت لکھ دیا۔‘‘ معین اختر انور مقصود بھی مذاق کرتے تھے لیکن ایسا طوفان بدتمیزی پہلے نہیں تھا، جیسا کہ اب ان ٹی وی چینلز پر دکھایا جاتا ہے،اب میڈیا ٹی وی چینلز بے لگام ہیں اور نئی نسل کو فحش گوئی اور بے راہ روی سکھانے والی درسگاہ بنا دئیے گئے ہیں۔
ایک پروگرام میں گلوکارہ شازیہ منظور سے پروگرام میں بیٹھا شخص کہتا ہے کہ ہنی مون کہاں منانا پسند کرو گی جس پر وہ غصہ ہو کر اس کو تھپڑ مارتی ہیں اور گالیاں دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ کیا میں کوئی مذاق ہوں جو ایسی بیہودہ بات کی ہے لیکن اگلے دن دوسرے سین میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ہنس رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ کل والا واقعہ اور سین بھی مذاق تھا،ایک ٹی وی چینل پر ’’مذاق رات‘‘ نامی پروگرام جغت بازی، جنسی جذبات بھڑکانے والی گھٹیا ترین شعر و شاعری ، مدعو کی گئی اداکاراں یا دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کو لائیو پروگرام میں پروپوز کر نا ، اس پروگرام کے’’مرد نما‘‘عمران اشرف نام کے ہوسٹ کے ’’نامعلوم حسن‘‘کی تعریف میں عورتوں ، بچوں اور لڑکوں سے سستے اور بازاری اشعار پڑھوانا ۔ آخر یہ الیکٹرانک میڈیا کے پنڈت پاکستان کی نئی نسل کو فحاشی کے سمندر میں غوطے دینے پر کیوں تلے بیٹھے ہیں؟ کسی ایکٹریس کو یا سامعین میں بیٹھی ہوئی لڑکی کو لائیو پروگرام میں شادی کے لئے پرپوز کرنا یا ائی لو یو بول دینا اس کو عام سی باتیں قرار دے دیا گیا ہے،حتیٰ کہ اب اتنی غلاظت دکھائی جا رہی ہے کہ ایک یوٹیوب چینل پر ایک خاتون بلائی گئی۔ مہمان خاتون سے سوال کرتی ہے کہ اپ نے چھوٹی عمر کے لڑکے سے شادی کی ہے کیا آپ sex addict ہیں، ہاشمی صاحب ملک پاکستان کے 99 فیصد عوام اپنے اخلاقی معاشرتی اور مذہبی اقدار سے بہت محبت کرتے ہیں اور اس معاملے میں انتہائی حساس و سنجیدہ ہیں لیکن صرف ایک فیصد مافیا ہمیں وہ دکھا رہا ہے جسے 99 فیصد عوام برا سمجھتے ہیں، 99 فیصد میں سے کوئی بھائی نہیں چاہتا کہ سرعام اس کی بہن کو کوئی پروپوز کرے، یا ائی لو یو بولے، اسی طرح کوئی بہن نہیں چاہتی کہ اس کا بھائی اتنا بے حیا ہو جائے کہ سرعام لڑکیوں میں بیٹھ کر اپنی اقدار کا مذاق اڑائے۔
گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ والا مادر پدر ازاد معاشرہ ہمارے وارے میں نہیں ہے، بلکہ ہمارے لیے قاتل ہے، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ٹی وی چینلز، یو ٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا کو پابند کیا جائے کہ وہ ہماری معاشرتی اخلاقی اور مذہبی اقدار کو ہر صورت میں ملحوظ خاطر رکھیں۔ اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر ضابطہ کار ، ضابطہ اخلاق جاری کیا جائے اور قانون سازی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں