Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب

یہ امر شک سے بالا ہے کہ دہشت گردی کا عفریت دوبارہ سر اٹھا رہا ہے ۔ ازلی دشمن بھارت اور اس کے عالمی مربی دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان کو داخلی اعتبار سے غیرمستحکم کرنے کے درپے ہیں۔ ماضی میں ایک اعصاب شکن جنگ کے بعد پاکستان کے دفاعی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع کیا تھا ۔ دندان شکن شکست کے بعد دم دبا کر بھاگنے والے دہشت گرد وں نے افغانستان میں بھارتی آقائوں کی سر پرستی میں قائم اڈوں میں پناہ لے لی ۔ دہشت گردوں کو پسپا کر کے امن قائم کرنے کے لئے پاکستان نے لاتعداد قربانیاں دیں ۔ شہیدوں کے مقدس لہو سے جلنے والے امن کے چراغ ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے طوفان کی زد میں ہیں۔ لکی مروت میں حالیہ دھماکے میں ایک کپتان سمیت سات فرزند مادر وطن پہ قربان ہو گئے۔ سرحد پار بیٹھے دہشت گرد تسلسل سے افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدف بنا کر ریاستی گرفت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ دہشت گرد ملک میں انارکی ، افراتفری اور بدحالی کو فروغ دینے کے مشن پر کمر بستہ ہیں ۔ اس شیطانی منصوبے کی تکمیل کے لئے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کا طوفان اٹھایا جا رہا ہے۔ حسب سابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں ۔ لکی مروت میں سات شہادتوں کا بدلہ دہشت گردوں سے فی الفور لیا گیا ہے ۔ دستیاب اطلا عات کے مطابق خفیہ اداروں نے نہایت مستعدی سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا کھوج لگا کر زیر زمین پناہ گاہوں میں جہنم واصل کر دیا ۔ خفیہ معلومات کی بنیاد پہ کیا گیا انسداد دہشت گردی کا یہ پیچیدہ آپریشن فوج ، انٹیلی جینس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ وارانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی طرز کے آپریشن کے نتیجے میں بلوچستان میں سرگرم دہشت گردوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش سے نہایت چشم کشا اور تشویشناک حقائق کا انکشاف ہوا ہے۔ سی ٹی ڈی بلوچستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی شوریٰ کے اہم کمانڈر سمیت متعدد دہشت گردوں کو گرفتار کر کے زیر زمین دہشت گردی کے وسیع صوبائی نیٹ ورک کی بنیادیں اکھاڑ دی ہیں۔ اس زیر زمین دہشت گرد گروہ سے حاصل شدہ ابتدائی معلومات کی بنیاد پہ قومی سلامتی کے ماہرین یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی ذیلی تنظیمیں نام بدل کر خود ساختہ بلوچ علیحدگی پسند دہشت گردوں کے ساتھ اشتراک عمل پیدا کر رہی ہیں ۔ اس بات کا قومی امکان ہے کہ تفتیش کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد پڑوسی ممالک سے سرحد پار دہشت گردی ، جاسوسی اور پاکستان دشمن مجرمانہ سرگرمیوں کے مربوط نیٹ ورکس کا پردہ مزید چاک ہوگا۔ دستیاب انکشافات اور زمینی حقائق کی بنیاد پہ درج زیل نکات قومی سطح پہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ اول ، کالعدم دہشت گرد گروہ افغانستان میں دستیاب محفوظ پناہ گاہوں کا بھرپور استعمال کر کے پاکستان پہ حملہ آور ہو رہے ہیں۔ دوم، طالبان کی عبوری حکومت دہشت گرد گروہوں کی سرکوبی میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان کے جائز تحفظات پہ توجہ دینے کے بجائے عبوری حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروہوں کو آزادانہ معاونت کی فراہمی دو طرفہ تعلقات سمیت علاقائی سلامتی کے لئے خطرہ ثابت ہو رہی ہے۔ سوم، کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند دہشت گردوں کے درمیان وسیع نظریاتی خلیج کے باوجود اشتراک عمل حیران کن ہونے کے علاوہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بظاہر مسخ شدہ مذہبی تشریحات اور خودساختہ قوم پرستانہ لادینی تصورات کے علمبردار وں کی ڈوریاں ہلانے والے ہاتھ ایک ہی ہیں ۔ پاکستان کی سلامتی ان گروہوں کا مشترکہ ہدف ہے ۔ چہارم ، قومی سطح پہ دہشت گردی کے عفریت کو مستقل بنیادوں پہ شکست دینے کے لئے ریاستی طاقت کے ساتھ ساتھ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے طبقات کو علمی اور نظریاتی محاز پہ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام وسیع سیاسی یکجہتی کے بناء ممکن نہیں۔ چہارم ، افواج پاکستان تاحال اس پیچیدہ محاز پہ مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ تمام ریاستی ادارے بشمول پولیس ، عدلیہ ، مقننہ اور میڈیا بھی مزید فعال کردار ادا کریں ۔ یہ خبر نہایت تشویشناک ہے کہ ایک عدالتی حکم کے بعد مواصلاتی کمپنیاں پولیس کو مشکوک جرائم پیشہ عناصر کی معلومات فراہم نہیں کر رہی ہیں ۔ نتیجتاً اہم کیسز میں تفتیشی عمل متاثر ہونے سے دہشت گردوں اور مجرموں کو کھلی چھوٹ مل رہی ہے۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ ایسے مربوط اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں جن کے نتیجے میں دہشت گرد گروہوں کی سرکوبی کے عمل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی استعداد کار اور فعالیت میں اضافہ ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں