آج کل آزاد کشمیر کے انتخابات کی گہما گہمی ہے، سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کو ٹکٹ تقسیم کر رہی ہیں۔ جنہیں ٹکٹ مل گیا وہ خوش ہیں اور جو ایک پارٹی سے ٹکٹ لینے میں ناکام رہے ہیں وہ وفاداریاں تبدیل کر کہ نئی جماعتوں کے امیدوار بن رہے ہیں۔ ویسے تو کشمیر کے الیکشنز میں ہر مرتبہ ایسا ہوتا آیا ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سیاسی وفاداریاں بدلی گئی ہیں کہ ایک نئی جماعت معرض وجود میں آگئی ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی کا کشمیر میں کوئی وجود ہی نہ تھا لیکن سردار تنویر الیاس جونہی پیپلز پارٹی چھوڑ کر استحکام پارٹی میں شامل ہوئے ہیں ان کے پیچھے امیدواروں کی لائن لگ گئی ہے۔ یا تو ان کا ہوم ورک بڑا مضبوط تھا جسے پیپلز پارٹی نے انڈر ایسٹیمیٹ کیا یا پھر یہ ان ہاتھوں کا کرشمہ ہے جو ہمیشہ ہاتھ دکھاتے آئے ہیں۔ کوئی کچھ بھی کہے سردار تنویر الیاس اب کشمیر کی زمینی حقیقت ہیں جس سے فرار ممکن نہیں ہے۔ کوئی وقت تھا ان کی سیاسی حیثیت نہیں تھی حالانکہ وہ اس وقت بھی اپنے آپ کو کشمیر کا قائد سمجھ رہے تھے اور زعم میں تھے کہ دولت کے بل بوتے پر وہ ہر شئے کو بلڈوز کر دینگے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ ن کی تنظیم بن رہی تھی۔ سردار صاحب مسلم لیگ کے صدر بننا چاہ رہے تھے اور اس کے لئے انہوں نے مضبوط لابنگ شروع کر رکھی تھی۔ قریب تھا کہ وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہو جاتے کہ راجہ ظفر الحق ان کے آڑھے آ گئے۔
راجہ صاحب کشمیر میں مسلم لیگ کی تنظیم سازی کے انچارج تھے چنانچہ ان کا اختیار تھا کہ وہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کی کشمیر شاخ کے سربراہ کیلئے نام قیادت کو فارورڈ کرتے۔ سردار تنویر الیاس کے نام پر متفق ہونا تو کجا وہ یہ نام سننے کے روادار بھی نہیں تھے۔ ایک دن میں ان کے موتمر عالم اسلامی والے دفتر میں موجود تھا جب ایک شخص سردار تنویر الیاس کا سفارشی بن کر آیا، اس کی بات سن کر راجہ ظفر الحق بولے کہ تنویر الیاس کے پاس کیا ہے؟ یعنی اس کی سیاسی حیثیت کیا ہے؟ راجہ صاحب نے کہا کہ ایک بڑے کاروباری مرکز کا مالک ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کے کشمیر چیپٹر کا صدر بنا دیا جائے۔ راجہ صاحب کا بیان ایک منجھے ہوئے اعلیٰ سیاسی قد کاٹھ کے حامل شخص کی رائے تھی جس سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا تھا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ راجہ ظفر الحق اس وقت رکاوٹ نہ بنتے تو سردار تنویر تمام رکاوٹوں کو بلڈوز کرنے کا نہ صرف خواہاں تھا بلکہ اس کی استطاعت بھی رکھتا تھا۔ سردار تنویر کو اس وقت اپنی امنگوں کے مطابق مسلم لیگ کی سربراہی نہ ملی اور نہ ہی پیپلز پارٹی میں ان کی دال گلی، ان کا جادو تحریک انصاف میں چلا اور وہ اس طرح کہ انہوں نے گنڈا پور صاحب کو قابو کر لیا۔ علی امین گنڈا پور کے ساتھ مراسم بڑھا کر وہ پارٹی کی صفوں میں ایسے گھسے کہ بیرسٹر سلطان جیسے سیاسی قد کاٹھ والوں کیلئے اپنی سیاست بچانا مشکل ہو گئی۔ بیرسٹر سلطان اب اس دنیا میں نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، وہ وزیر اعظم آزاد کشمیر کے عہدے سے محروم ہوئے تو اس کی بڑی وجہ تنویر الیاس کی خفیہ سرگرمیاں تھیں۔ بیرسٹر سلطان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر تھے لیکن پارٹی میں موجود ایک لابی نہیں چاہتی تھی کہ وہ کشمیر کے آئندہ وزیر اعظم بنیں۔ اس مقصد کیلئے بعض ایسے کام کئے جاتے جن سے وہ کمزور ہوں۔ مجھے یہ بات عجیب لگتی تھی، میں نے کشمیر الیکشن کے انعقاد سے سال بھر قبل تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی کو مشورہ دیا کہ یا تو آپ انہیں آزاد کشمیر کی صدارت سے ہٹا دیں بصورت دیگر انہیں کمزور کرنے کی بجائے انکے ہاتھ مضبوط کریں کیونکہ ایسا کرنا پارٹی کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ میرا استدلال تھا کہ جرنیل کو میدان میں اتار کر کمک فراہم کرنے کی بجائے اسے کمزور کرنا کسی طور بھی پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے۔ میری بات کو سیف اللہ نیازی نے شرف پذیرائی بخشی، یوں بیرسٹر سلطان اور تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان باقاعدگی سے ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ شروع ہوا جس کا نتیجہ کشمیر میں تحریک انصاف کی بے مثال کامیابی کی صورت میں برآمد ہوا۔
انتخابات میں کامیابی کے بعد بیرسٹر سلطان محمود کو وزیر اعظم بنا دیا جاتا تو آج تحریک انصاف کشمیر میں ایک توانا قوت ہوتی لیکن پارٹی کے بعض نادان دوست تنویر الیاس کے ہاتھ میں کھیلتے رہے۔ انجام کار نہ حکومت رہی اور نہ پارٹی۔ سردار قیوم نیازی، خواجہ فاروق اور چوہدری مقبول گوجر جیسے لوگ نہ ہوتے تو شاید آج تحریک انصاف کا کشمیر سے مکمل صفایا ہو چکا ہوتا۔ تحریک انصاف کی تنظیم کو تباہی سے بچانے میں آزاد کشمیر کے سابق جنرل سیکرٹری راجہ منصور جیسے نظریاتی ورکرز کا بھی بڑا ہاتھ ہے لیکن اسمبلی میں موجود قیادت ثابت قدمی نہ دکھاتی تو کشمیر میں تحریک انصاف کی تنظیم ختم ہو جاتی۔ خواجہ فاروق، سردار قیوم اور مقبول گجر مرحوم بیرسٹر سلطان کے ہی قریبی رفقا تھے۔ ماضی کے یہ قصے کہانیاں آج اسلئیے ذہن میں گھوم رہی ہیں کیونکہ آج ان چہروں کو کسی اور آنگن میں دیکھنے کا موقع مل رہا ہے جو کل تک کسی اور باغ کی رونق تھے۔ یہ لوگ بھنوروں اور تتلیوں کی مانند ہیں، کسی پنجابی گانے کے بول ہیں۔ کدی ایس پھل تے کدی اوس پھول تے،یار میرا تتلیاں ورگا،یار میرا تتلیاں ورگا۔ سردار تنویر جیسے احباب سیاسی بھنورے اور تتلیاں ہیں، آج ایک آنگن میں تو کل کہیں اور کسی باغ کی زینت ہوں گے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ جہاں بھی جانا چاہیں ان کی جگہ ضرور بن جاتی ہے۔ مفادات کا ٹکرا ان کی پرواز میں وقتی رکاوٹ بن بھی جائے تو یہ اپنا رخ اور نشیمن تبدیل کر لیتے ہیں۔ دیکھیں کل کی سیاست کشمیر میں کیا رخ اختیار کرتی ہے لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ سردار تنویر الیاس نے کشمیر کی سیاست میں اپنا مقام بنا لیا ہے۔ وہ اب کشمیر کی سیاست کے جزو لاینفک ہیں۔ انہیں مائینس کر کہ کشمیر کی انتخابی سیاست آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اگر کوئی یہ کہے کہ انہوں نے یہ مقام دولت کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے تو اس میں کچھ ایسا غلط بھی نہیں ہے لیکن جس بات کا اعتراف ضروری ہے وہ یہ کہ ڈے فرسٹ سے تنویر الیاس نے جس منزل کو پانے کا سوچا تھا وہ اسے پانے کیلئے مسلسل کوشاں رہے اور ایسی دشواریاں عبور کیں جسے پار کرنے کی ہمت ہر صاحب ثروت میں نہیں ہوتی۔ کل تک تحریک انصاف کی قیادت ان کے ہاتھ میں تھی آج وہ استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر ہیں۔ گلگت کے بعد علیم خان کو یہ دوسری بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ انہیں اپنی جماعت کیلئے کشمیر میں نہ صرف متحرک قیادت مل گئی ہے بلکہ استحکام پاکستان پارٹی کشمیر کے انتخابات میں ایک بڑے اسٹیک ہولڈر کے روپ میں دکھائی دینے لگی ہے۔ تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے بعد کشمیر میں چار بڑی جماعتیں انتخابی عمل کا حصہ بنیں گی، حسن اتفاق ہے کہ مسلم کانفرنس کے علاوہ یہ سب پاکستان کی اتحادی جماعتیں ہیں۔ یوں اصل مقابلہ ووٹ دینے والوں اور ووٹ نہ دینے والوں کے درمیان ہے۔ آزاد کشمیر میں پہلی مرتبہ یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے جب سب کی نظر ووٹر ٹرن آئوٹ پر ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے کی عاقبت نااندیشی ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کو دیوار کیساتھ لگا دیا ہے۔ تحریک انصاف کو بائیکاٹ پر مجبور نہ کیا جاتا تو کالعدم کشمیر کمیٹی کے ایجنڈے کی عوام میں پذیرائی کا پول کھل جاتا۔ اب تحریک انصاف کا ووٹر بھی اگر گھر سے نہیں نکلتا تو اس سے کالعدم کشمیر کمیٹی کے نظریے کو تقویت ملے گی۔ محب وطن پاکستانیوں کیلئے یہ صورتحال یقینی طور پر تشویش کا باعث ہے لیکن جن حلقوں کو اس پر فکر ہونی چاہیے وہ اس معاملے سے لاتعلق دکھائی دے رہے ہیں۔