مجیب الرحمن شامی بڑے بھولے بادشاہ ہیں،کہتے ہیں کہ میں نے تو قادیانیوں کے شہری حقوق کی بات کی تھی ،کوئی بھولے بادشاہ سے پوچھے کہ کیا قادیانیوں، جنہیں وہ اپنے پروگرام میں بڑے احترام سے ’’احمدی‘احمدی‘‘ پکار رہے تھے‘کے شہری حقوق کو مفتی منیب الرحمن ،مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی نے دبا رکھا ہے ؟
صرف محترم شامی صاحب ہی نہیں،بلکہ نجم سیٹھی سے لے کر امتیاز عالم تک،حکومت اور مختلف سفارت خانوں میں موجود ان کے سرپرست بھی اکٹھے ہو کر قادیانی دجالی ٹولے کا کوئی ایک ایسا ’’حق‘‘ ثابت کریں کہ جسے پاکستانی عام مسلمانوں یا مذہبی کارکنوں نے دبا رکھا ہو؟
ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری سے لے کر ان ’’اوور ایج‘‘ دانشوروں تک کے پاس اس حوالے سے کوئی ایک دلیل نہیں ہے،ہاں البتہ قادیانیت نوازی کا نقد اجر وصولنے کے لئے پاپڑ تو بیلنا ہی پڑتے ہیں،میں ’’نقد اجر‘‘ کو زیر بحث اس لئے نہیں لانا چاہتا کیونکہ بادشاہ معظم محترم شامی صاحب، سے میری یاد اللہ گزشتہ تین دہائیوں پر مشتمل ہے،مجیب الرحمن شامی سے بڑھ کر اس مقولے کو کون جان سکتا ہے کہ’’جھوٹ بولو، جھوٹ بولو اتنا جھوٹ بولو کہ تمہارا جھوٹ بھی سچ نظر آنے لگے‘‘ قادیانی اسی یہودی مقولے کے عین مطابق اپنی خود ساختہ مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ کر دنیا بھر میں ریاست پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں کو بدنام کرتے ہیں۔
بھولے بادشاہ!ذرا چناب نگر ،لندن یا اسرائیل کے قادیانیوں کے کسی بڑے سے پوچھ کر قوم کو بتائیں کہ کیا پاکستان میں رہنے،یہاں کمانے اور عیش وعشرت کی زندگیاں گزارنے والے قادیانی پاکستان کے آئین کو تسلیم کرتے ہیں؟پاکستانی دستور کو مانتے ہیں‘اگر نہیں ،توجو گروہ ملکی آئین اور قانون کا باغی ہو،ایسے باغی گروہ کے خلاف ’’آپریشن عزم استحکام‘‘ بنتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ شامی صاحب سمیت ہر مسلمان دانشور حکومت سے مطالبہ کرتا کہ ملکی آئین وقانون کے ہر باغی گروہ کے خلاف آپریشن عزم استحکام کیا جائے ،لیکن حیرت درحیرت کہ یہاں آئین کے سب سے بڑے باغی گروہ قادیانیوں کے خود ساختہ شہری حقوق کی بات کی جا رہی ہے،کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی پاکستانی شہری ہیں،کوئی بھولے بادشاہ مجیب الرحمن شامی کوبتائے کہ قادیانیوں نے اسرائیل میں حیفہ کے مقام پر پوری بستی بسائی ہوئی ہے،قادیانی تو اسرائیل کی فوج میں بھی شامل ہیں، ہیں ،قادیانی تو فرانس اور جرمنی میں بیٹھ کر بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے سے باز نہیں آتے،بچہ بچہ اس راز سے واقف ہے کہ قادیانی مال دے کر کمزور مسلمانوں کا ایمان خریدتے ہیں‘کون نہیں جانتا کہ قادیانی آئینی پابندی کے باوجود مسلمانوں کی مساجد کی طرز پر اپنے عبادت خانے تعمیر کر کے مساجد کی توہین اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کرتے ہیں۔
شامی صاحب یا کسی اور اینکر نے قادیانی ٹولے کی ان زیادتیوں کے خلاف تو کبھی آواز نہیں اٹھائی تو کیوں ؟
بکرا عید کے موقع پر قربانی ،اذان نماز مسلمانوں کے شعائر ہیں،قادیانی، مسلمانوں کے شعائر استعمال نہیں کرسکتے ،بھولے بادشاہو!آپ اپنے اخبار کا ’’لو گو‘‘ کسی ایرے غیرے کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے ،اور مسلمان علماء سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کے ساتھ بیٹھیں ،علماء تو پاکستان میں ہی رہتے ہیں،لندن فرار تو قادیانی سربراہ ہوا تھا،آپ اسے پاکستان لا کر علما ء کرام کے سامنے بیٹھا دیں،علماء اور پاکستانی مسلمان تو خیر خواہی کے جذبے کے تحت قادیانی گروہ کو کھلے دل کے ساتھ سچا پکا مسلمان بننے کی دعوت دیتے چلے آرہے ہیں ،ہم تو آج بھی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر چار حرف بھیج کر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن رحمت میں آجائیے۔
کان کھول کر سن لیجئے کوئی کتنا بڑا دانشور ،اینکر اور پھٹا پرانا صحافی کیوں نہ ہو،اگر وہ مسلمان ہے تو ناموس رسالت اور ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تحفظ اس کی بھی ذمہ داری ہے،قادیانی فتنے کی خود ساختہ مظلومیت کے حوالے سے جعلی سوالات اٹھا کر علماء اور ریاست پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرنا عالمی صیہونی لابی کی خدمت کے سوا کچھ نہیں ، پاکستان کے مسلمان ہندوئوں ،سکھوں عیسائیوں سمیت آئین پاکستان کو تسلیم کرنے والی دیگر اقلیتوں کے حقوق کی ادائیگی کو اپنے لئے لازم سمجھتے ہیں ،لیکن قادیانی کہیں کھڑے تو ہوں،وہ آئین کو مان کر اپنی غیر مسلم حیثیت کو تو تسلیم کریں، جس دن قادیانیوں نے آئین کو تسلیم کر لیا، اسی دن سے وہ اقلیتی حقوق کے حقدار بن جائیں گے۔
یہ کیا بات ہو ئی کہ قادیانی گروہ امریکہ اور یورپ کے دبا ئو پر مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہونا چاہتا ہے،امریکہ کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ پاکستانی حکمرانوں پر دبائو ڈالے کہ قادیانی گروہ کو مسلمانوں میں شامل کیا جائے ،عوام باشعور ہیں،اور وہ کسی غیر ملکی طاقت کے ایما پر غیر مسلم قادیانی گروہ کو مسلمانوں کی صفوں میں شامل نہیں ہوئے دیں گے۔
شامی صاحب ذرا اپنے بیانئے پر غور کریں، کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیںکہ قادیانی کافر تو ہیں مگر انہیں شعائر اسلام کی اجازت ہونی چاہیئے۔
خدا وندا تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے،دانشوری بھی عیاری