وفاقی حکومت ہو،یا ملک کی چاروں صوبائی حکومتیں،یہ ایسے وقت بنیں جب معیشت کا پہیہ جام اور روپے کی قدر مسلسل گھٹ رہی تھی۔معیشت نہ چل رہی ہو تو امور مملکت چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔جیسا کہ سب جانتے ہیں ہمارا ملک قرض پر چلتا ہے۔بیرونی قرضے اتارنے کے لیئے بھی ہمیں قرض ہی کی ضرورت ہوتی ہے جو آئی ایم ایف اور دوست ملکوں سے لینا پڑتا ہے۔مشکل امر ہے کہ ہم بہت ہی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔وفاق میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے۔جو دیگر جماعتوں کی مدد اور اشتراک سے قائم ہوئی ہے۔اشتراک اور مدد کرنے والی جماعتوں میں ایم کیو ایم،ق لیگ،استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں۔اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت میں شامل نہیں لیکن شہباز شریف کے وزیراعظم منتخب ہونے میں پیپلز پارٹی کے اکثریتی ووٹ شامل ہیں۔میں پنجاب میں رہتا ہوں جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد یہاں جو صوبائی حکومت قائم ہوئی اس کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے۔جس کی وزیراعلی مریم نواز شریف ہیں۔جنہیں پارٹی قائد میاں محمد نواز شریف کی تجویز اور مشورے پر وزارتِ اعلی کا منصب سونپا گیا۔پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان میں کوئی خاتون وزیراعلی بنی ہیں۔آج ہم پنجاب اور اس صوبے میں قائم حکومت کی گزشتہ چار ماہ کی کارکردگی کی بات کریں گے۔دیکھیں گے کہ یہ کارکردگی کیا رہی؟ کیا لوگ ان کی کارکردگی سے مطمئن اور خوش ہیں یا انہیں ابھی اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔حال ہی میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز نے اپنی حکومت کے 100 دن مکمل کئے تو اس کے ساتھ ملک بھر میں ان سے جڑا ایک تنازعہ زیر بحث آیا۔معاملہ کچھ اس طرح سے ہے کہ ان 100 دنوں کے دوران مریم نواز کی بطور وزیراعلی کارکردگی کے متعلق اخبارات میں تشہری مہم کا سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ سوشل میڈیا پر متعدد فنکاروں کی جانب سے ان کے حق میں ویڈیوز آنے لگیں اور وی لاگز بھی دکھائی دیئے جن کے متعلق پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں کا دعوی ہے کہ پنجاب حکومت نے یہ تشہیری ویڈیوز کثیر رقم کے عوض بنوائیں۔سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے تشہیری ویڈیوز میں حصہ لینے والے فن کاروں پر سخت تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ان کے ڈراموں کا بائیکاٹ اور انہیں فالو نہ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں انٹرٹینمنٹ میڈیا اور سیاست ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔فن کارکروڑوں فالورز رکھتے ہیں۔ان کا اثرورسوخ بھی تسلیم شدہ ہے۔فن کار کسی بھی سیاسی بیانیے کی تشکیل اور رائے عامہ کو بنانےوبگاڑنے والا ہتھیار بن چکے ہیں۔انسٹاگرام، ٹوئیٹر، ٹک ٹاک اور یو ٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے ان فن کاروں کو عوام کے ساتھ براہ راست رابطے کے قابل بنایا ہے۔لوگ ان کی بات سنتے ہیں۔ان پر بھروسا اور اعتماد کرتے ہیں۔تاہم کسی جماعت کے سیاسی بیانیے اور ان کے کسی اچھے کام کی تشہیری مہم کے لیئے پسند اور ناپسند کا اظہار کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے۔اسی لیے اکثر انہیں تشہیری مہم کے مخالفین کی جانب سے سخت تنقید کا ہدف بھی بننا پڑتا ہے۔جن فن کاروں نے پنجاب حکومت کی سو دن کی کارکردگی کی تشہیری مہم میں حصہ لیا۔تشہیری مہم پر مبنی ویڈیوز میں نظر آئے ان کے خلاف مخالفین کی جانب سے غلیظ زبان تک استعمال کی گئی جس کے بعد ان فن کاروں کو مجبوراً سوشل میڈیا پر اپنی مکمل پروفائل ہٹانا پڑی ہیں۔تاہم ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے جو تنقید کرنے والوں کی جانب سے اٹھایاجا رہا ہے کہ آیا یہ ویڈیوز پیڈ کونٹینٹ تھیں؟ پنجاب حکومت کی اس تشہیری مہم کا حصہ بننے والوں میں عائشہ عمر،یاسر حسین،صبور علی،صنم سعید،عروہ حسین،میکال ذوالفقار ،صبا فیصل،آئمہ بیگ اور جنید اکرم جیسے فنکار اور وی لاگر شامل ہیں جو ویڈیوز میں گزشتہ 100 دنوں کی کارکردگی کے حوالے سے پنجاب حکومت کی تعریف کرتے نظر آئے۔اداکارہ و ماڈل عائشہ عمر،مریم نواز کی جانب سے اقلیتوں کی حفاظت کے لیئے اقدامات اور درخت لگانے جیسی مہم کی تعریف کر رہی تھیں۔صنم سعید صحت کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات مثلا مفت ادویات،ائیر ایمبولینس اور ٹراما سنٹرز کو سراہتی نظر آئیں۔
یاسر حسین صاف ستھرا پنجاب مہم اور میکال ذوالفقار 64 ارب کے کسان پیکج،کسان کارڈ اور سولر پینلز کے متعلق آگاہی دے رہے تھے۔یاد رہے ایسی اشتہاری مہم کوئی نئی بات نہیں۔اس سے قبل ماضی کی حکومتیں بھی عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیئے ایسی مہم کا استعمال کرتی رہی ہیں۔حتی کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی سرکاری خرچ پر اپنے سوشل میڈیا سیل قائم کئے۔ان میں خطیرتنخواہوں پرلوگ بھرتی کئےگئے۔جنہیں اپنی تشہیری مہم کے لیئے استعمال کیا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اداکارہ صبا فیصل نے تصدیق کی کہ حکومت پنجاب سے متعلق ویڈیوز ایک پیڈ پروموشن تھی۔ان کا کہنا تھا کہ میں کوئی نہ کوئی پیڈ شوٹ کر ہی رہی ہوتی ہوں اس دن بھی میں شوٹ پر تھی تو پی آر کمپنی نے کہا کہ ٹائم کم ہے،10بجے تک کا ٹائم ہے آپ جلدی سے یہ ویڈیو بنا دیں گی؟ اس کے جواب میں صبا نے انہیں کہا کہ اسکرپٹ بھیجیں،میں دیکھوں کیا ہے؟صبا بتاتی ہیں کہ یہ ایک لمبا سا پیراگراف تھا جسے دیکھ کر میں نے کہا مجھے اس کے لیئے تیاری کی ضرورت ہو گی۔ تو پی آر کمپنی نے کہا اچھا آپ صرف آخری زراعت والا حصہ کر دیں صبا فیصل کہتی ہیں یوں میں نے وہ ویڈیو پیغام ریکارڈ کرا دیا۔صبا کہتی ہیں اس سے پہلے بھی میں نے مریم نواز کے لیئے ایک ویڈیو بنائی تھی لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اس ویڈیو پر اتنا شور کیوں مچا ہے؟صبا فیصل کہتی ہیں ہم آرٹسٹ لوگ ہیں۔میں اپنی بات کروں تو بہت نیوٹرل ہوں۔آرٹسٹ کو نیوٹرل ہونا چاہیے کیونکہ ہمارا فن سب کے لیے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے 11 سال پی ٹی وی پر خبرنامہ پڑھا اور اس دورانیے میں تین مرتبہ پیپلز پارٹی کی حکومت آئی اور تین ہی مرتبہ مسلم لیگ (ن) کی۔اس طرح اگر ایک دن میں نواز شریف یا بے نظیر کے خلاف بول رہی ہوتی تو اگلی مرتبہ ان کے حق میں بولتی تھی،کیونکہ ہم نیوز کاسٹروں کو اپنے جذبات دکھانے کی اجازت ہی نہیں تھی۔اس لیے ہم نے بہت نیوٹرل رہ کر یہ کام کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں پیڈ پروموشنز بھی بہت نیوٹرل ہو کر کرتی ہوں۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا انہیں اس پیڈ پروموشنز کا معاوضہ پنجاب حکومت کی جانب سے مل گیا؟ صبا فیصل نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔بس اتنا کہا کہ وہ نہیں بتا سکتیں۔مگر یہ پیڈ کونٹینٹ تھا میں نے اسے باقی پیڈ کونٹینٹ کی طرح لیا۔جب یہ سوال ہوا کہ آپ کو کسی کے منفی ردعمل کا خیال نہیں آیا ؟ تو انہوں نے کہا منفی ردعمل کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ صبا فیصل کہتی ہیں،اس پروموشن ویڈیو کے لیئے انہیں ایک جماعت کے حامیوں کی جانب سے جس منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اور غلیظ گالیاں پڑیں۔اس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔تاہم یہ میری جاب ہے۔میں نے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کیا۔اس پر مجھے بے حد طمانیت اور خوشی ہے۔ مریم نواز حکومت کے بے شمار احسن اقدامات میں سے ایک اہم قدم پنجاب کے لوگوں کو سولر سسٹم کی فراہمی بھی ہے۔پنجاب حکومت نے بجلی کے 200 یونٹ استعمال کرنے والوں کو مفت سولر پلیٹس دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ 201 سے 300 یونٹ استعمال کرنے والوں کو سولر پلیٹس کے لیئے آسان اقساط پر دو لاکھ 25 ہزار کی رقم فراہم کی جائے گی۔301 سے 400 یونٹ والوں کو تین لاکھ دیئے جائیں گے اور 401 سے 500 یونٹ والوں کو 3 لاکھ 75 ہزار قرض ملے گا۔یہ بھی واضح رہے کہ اس قرض پر کوئی سود نہیں لیا جائے گا۔قرض کی ادائیگی 5 سال میں ہو گی۔سولر کے لیے قرض کی رقم بینک آف پنجاب فراہم کرے گا۔جہاں شناختی کارڈ اور بجلی کا بل دکھا کر رجسٹریشن کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔خواہش مند افراد پنجاب بینک کی کسی بھی قریبی برانچ میں اپنے نام کی رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔اس سال ستمبر یا اکتوبر کے مہینے میں سولر پلیٹس پنجاب بھر میں ملنا شروع ہو جائیں گی۔