سوشل میڈیا پر جاری مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے سدباب کے لئے ریاستی ادارے متحرک ہو رہے ہیں،جو کہ قابل تحسین امر ہے۔اس کا سہرا یقینی طور پر موجودہ سپہ سالار جنرل حافظ سید عاصم منیر کو جاتا ہے کہ جنہوں نے سوشل میڈیا کو’’شیطانی میڈیا‘‘ قرار دیا۔جس کے بعد سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ایک ریاستی پالیسی بنی۔تین روز قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(PTA)نے عوام الناس کی آگاہی کے لئے جاری کئے گئے ایک پبلک نوٹس میں کہا ہے کہ ’’ملحدین اور شر پسند عناصر کی جانب سے مل کر ہماری نوجوان نسل کے اخلاق،کردار اور عقائد کو تباہ کرنے کے لئے وطن عزیز میں انتہائی منظم طریقے سے سوشل میڈیا کے ذریعے اللہ رب العزت، رسول اکرمﷺ، اہل بیت اطہار،ازواج رسول اکرم ﷺ،اصحاب رسول رضی اللہ عنہم،قرآن پاک اور قومی پرچم کی توہین کی جارہی ہے۔ایک مذہب یا مسلک سے مطابقت رکھنے والے نام کے اکائونٹ سے اس کے مخالف مذہب یا مسلک کی توہین منظم سازش کے ذ ر یعے کی جارہی ہے،تاکہ وطن عزیز کی ترقی کا پہیہ رک جائے اور اس کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل کر اسے تباہ کر دیا جائے۔ان حالات میں معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص مدارس،علما کرام،مشائخ، اساتذہ، صحافی،وکلا، کالم نگار،سیاسی و سماجی رہنماتاجر اور سیاسی،صحافتی، مذہبی،سماجی جماعتیں اور ادارے اس مہم میں بھر پور کردار ادا کریں اور والدین کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہے کہ وہ اس بات پر بھی نظر رکھیں کہ ان کے بچے سوشل میڈیا پر کیا دیکھتے ہیں؟کہیں ایسا نہ ہو کہ بچے نادانی میں بے حیائی کے رستے پر چل پڑیں اور فحش ویڈیوز سے ہوتے ہوئے گستاخی تک جا پہنچیں۔
اس وبا ئوکو کنٹرول کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جہاں والدین کو ان حالات سے آگاہ کیا جائے وہاں پر معاشرے کو تعلیم دی جائے کہ ایسے مواد کی کسی طرح تشہیر نہ ہونے پائے اور اس کے انسداد کے لئے ہر حال میں قانون کا راستہ اپنایا جائے۔تاکہ معاشرے میں قانون کی حکمرانی کے ساتھ اس طرح کے جرائم کا سدباب ہو سکے۔اگر اس سلسلہ میں کوئی رکاوٹ یا مشکل پیش آئے تو ایف آئی اے کو قانونی کارروائی کے لئے (051-111345786) پر شکایت درج کروائی جاسکتی ہے۔جبکہ گستاخانہ موادکو بلاک کروانے کے لئے پی ٹی اے، ایف آئی اے سے درج ذیل لنک پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: -https://complaint.pta.gov.pk /RegisterComplaint.aspx ملک بھر میں ایف آئی اے سائبر کرائم کے متعدد تھانے ہیں.جن میں بلاسفیمی سیل قائم ہو چکے ہیں۔تمام تھانوں میں بلاسفیمی سیل ایکٹو ہیں اور ایسی درخواست پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔گستاخی (Blasphemy) کرنے والا مجرم کوئی بھی ایپ استعمال کر رہا ہو،کسی بھی ویب سائٹ پر گستاخانہ مواد شیئر کر رہا ہو،اسے سائبر کرائم ونگ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریس کرتی ہے اور گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔
اس سے قبل وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے بھی سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے سدباب کے لئے میڈیا اور اس سے وابستہ لوگوں کے فعال کردار پر زور دیتے اس امر کو اجاگر کیا تھا کہ میڈیا کے ذریعے گستاخانہ مواد کی حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ اس کے سدباب کے لئے متعلقہ قوانین اور حکومتی اقدامات سے متعلق عوامی آگاہی بھی بہت ضروری ہے ۔سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اطلاع فوری طور پر پی ٹی اے، ایف آئی اے یا وزارت مذہبی امور کو کی جائے۔وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی طرف سے دستیاب تفصیلات کے مطابق وزارت نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی روک تھام کیلئے میڈیا کے اہم کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع رہنما اصول وضع کئے ہیں جس کے مطابق اس وقت وطن عزیز میں تقریباً 10کروڑ سے زائد لوگ سوشل میڈ یا استعمال کر رہے ہیں اور اس پلیٹ فارم پر گستاخانہ و توہین آمیز مواد کی برائی تیزی سے پھیل رہی ہے۔جہاں حکومتی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں وہیں میڈیا اور اس سے وابستہ لوگوں کا فعال کردار بھی اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔
وزارت نے اس ضمن میں متعدد اقدامات تجویز کئے ہیں جو اس برائی کے سدباب میں نہایت کارگر ثابت ہو سکتے ہیں ۔ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب نے اس امر پر زور دیا کہ میڈیا کے ذریعے جہاں ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے وہیں پاکستان کے متعلقہ قوانین اور حکومتی سطح پر موجود گستاخانہ مواد کے سد باب کے انتظام سے متعلق عوامی آگاہی بھی بہت ضروری ہے۔تاکہ عوام الناس ایسے کسی بھی مواد کے حوالے سے انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ اس امر کو بھی اجاگر کیا گیا کہ میڈیا اس معاملے میں والدین کے لیے بھی خصوصی مہم چلائے کہ موجودہ حالات میں والدین کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے ۔جو والدین اپنے بچوں کو موبائل،لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کرتے ہیں۔